بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للّٰہ رب العالمین والصلاة والسلام علیٰ رسول الکریم امابعد!
محترم اہلیان اسلام آج ہمارے پڑوس افغانستان میں عالمی کفر کی افواج موجود ہیں اور امریکی قبضے کو مستحکم بنائے ہوئے ہیں امارت اسلامیہ افغانستان پر نیٹو ایساف وغیرہ کے قالب میں کیا جانے والا صلیبی حملہ، امریکہ کی طرف سے اسلام پر مسلط کردہ جنگ کا اہم ترین محاذ ہے۔ اس لئے کہ اسلام کی محبت، شریعت کا نفاذ اور عالم اسلام کی مہاجرین کی مسلمانان خراسان کے وہ جرائم ہیں جو عالمی کفر کی ہزیمت کا سامان بن گئے۔ امریکہ اور برطانیہ سمیت کل٣٦ کے قریب ممالک جو نیٹو اور اس کے اتحادی ہیں۔ افغانستان پر امریکی قبضے میں شریک ہیں۔
قابل غور بات یہ ہے کہ افغانستان کے علاوہ ہمارے وہ مسلمان ممالک جہاں ظلم ودہشت گردی کا راج ان ممالک میں موجوں ہے، وہاں مرد حکمران بھی ہیں، انجینئر، ڈاکٹرز اور کسان بھی۔ ان مسلم ممالک میں کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ لڑنے کے لئے مرد نہیں لیکن کمی ہے تو تربیت کی عقیدہ وفکر کی اس سوچ کی جو ہمارے اسلاف میں موجود تھی اس لئے ہم میں مردوں کی تعداد بہت ہے جیسا کہ نبیۖ نے فرمایا:
''الناس کابل مئة لا تجد فیھا داحلة''
ترجمہ: ''لوگوں کی مثال ان سو اونٹوں کی مانند ہے جن میں سواری کے قابل کوئی بھی نہیں۔''
اس لئے مرد تو ہیں لیکن ان میں عمر، طلحہ اور زبیر کوئی نہیں خالد بن ولید کوئی نہیں کوئی صلاح الدین ایوبی نہیں، محمد بن قاسم کوئی نہیں نورالدین زنگی نہیں کوئی ٹیپو سلطان نہیں۔
قوموں کا مستقبل نوجوانوں سے وابستہ ہوتا ہے پچھلی ایک دو صدیوں میں یہ مشاہدہ ہوا کہ نوجوانوں کی اکثریت بالخصوص اور عالم مسلمان بالعموم جہاد جیسے اہم فریضے سے غافل ہیں مسلمانوں کے سامنے ان کی عزت لٹ گئی لیکن کسی کی عزت کی موت مرنے کے لئے آواز تک نکالنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ یہ ہندوکش سے خون بہہ رہا ہے ہمالیہ بلند چوٹیوں سے نالے ابل رہے ہیں جو لان کی پہاڑیوں پہ ظلمت کا سایہ ہے قفقاز کی وادی میں موت کا سناٹا ہے اور مسجد اقصیٰ سے رونے کی آوازیں آتی ہیں ان سب کا سبب کیا تھا؟ وہ کونسی چیز ہے جو ہم میں سے نکل گئی کون کون اس ذلت وپستی کا ذمہ دار ہے؟
آج اس ہولناک اور ظلم وبربریت کے دور میں میدان لہو مانگ رہے ہیں امت اسلام کی بہو بیٹیوں کی عظمت نیلام ہو رہی ہیں، نوجوانوں کو ذبح کیا جا رہا ہے، بوڑھے قتل ہو رہے ہیں، شیر خوار بچوں کے سامنے ان کی مائوں کی چھاتیاں کاٹ دی گئیں کے ہاتھو ں سے بچے لے کر چیر دئیے گئے ہیں ہماری بہنیں قتل گاہوں کی طرف لے جائی جا رہی ہیں۔
مسلمانوں کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے آج کے دور میں عرب وعجم کے نوجوان مجاہدین جنہوں نے اللہ عزوجل کا نام لے کر پہاڑوں سے ٹکرانا طے کیا، انہی عرب مجاہدین کی صف اول میں ایک بہت محبوب، محترم اور روشن ترین نام عبداللہ عزام شہید کا ہے اللہ ان کی روح کو راضی کرے کہ انوں نے جو ولولہ اور روح عالم اسلام میں پیدا کردی اسے سن کر اور پڑھ کر عرب وعجم نے اپنے جگر گوشے اس جہاد کے سپرد کردئیے شیخ نے ایسی ہزاروں لاکھوں آوارہ جوانیوں کو عظمت وعزیمت کے راستوں پر لگایا زندگی پر عزت کی موت کو ترجیح دینے کا درس دیا اور بیلوں کو ہاتھیوں سے ٹکرانے کا حصلہ دیا انہی نوجوانوں میں جو شیخ عبداللہ عزام شہید کی شخصیت اور نظریہ سے متاثر ہوئے امیر خطاب جو عرب کے نوجوان مجاہدہیں انہوں نے اپنی زندگی اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے وقف کردی اپنے جان ومال سے اللہ کی راہ میں بیشمار قربانیاں دیں روس کے خلاف افغانستان میں مجاہدین کے ساتھ مل ایسی سپر پاور کو شکست دی افغانستان کے کہساروں اور تاجکستان میں مجاہدین کی بیداری کی تحریک میں شامل رہ کر جہادی اور عسکری تربیت حاصل کی بالآخر اللہ کے حکم سے
شیشان یعنی چیچنیا اور داغستانع کے علاقوں میں روسی ریچھوں کے خلاف برسر پیکار رہے اور مختلف محاذوں پر کامیابیاں حاصل کیں روس کے خلاف جن عرب مجاہدین کے گروپوں نے میدان رزار کو گرم رکھا ان میں امیر خطاب نے چیچنیا اور داغستان کے محاذوں پر جو معرکہ آرائیاں انجام دیں وہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہیں۔
مشکل کی اس گھڑی میں مبارک ہیں وہ لوگ جو اپنوں کی بے اعتنائی کے باوجود اسلام اور مسلم سرزمینوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ ملازمت کرنے والوں کی ملازمت سے بے پرواہ اپنے سروں کی فصلیں کٹائے جا رہے ہیں امت کو ذلت کے گڑھے سے نکالنے کے لئے خود اپنی توہین برداشت کر رہے ہیں، دنیاوی زندگی کے ان جھمیلوں، قبر کی تنگ وتاریک کوٹھڑیوں اور قیامت کی ہولناکیوں میں اللہ کی معیت ان کے ساتھ فرشتے ان کے دوست ہیں ان شاء اللہ اور یہ سب مشقتیںدنیا وآخرت میں ان کے خوب کام آئیں گی کیونکہ یہی تو وہ لوگ ہیں جو سب سے بڑھ کر اپنے مالک کی رحمت کے امیدوار ہیں۔
ترجمہ: ''بے شک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں لڑے وہ اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔''
اللہ ربّ ذوالجلال عرب انصار کے مجاہدین جو چیچنیا کے محاذ پر شہید ہوئے اور ان کے علاوہ جہاں کہیں بھی مسلم نوجوان اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے کوشاں ہیں اور جام شہادت نوش فرما چکے ہیں ان کی قربانیوں کو قبول فرمائے ان کے لواحقین اور ورثاء کو صبرِ جمیل عطاء فرمائے(آمین ثم آمین)
والسّلام
ابو رافع
بسم اللہ الرحمن الرحیم
امیر خطاب کی معرکہ آرائیاں
الحمد للہ رب العلمین!
ہماری یہ نشست چیچنیا میں جنگجو گروپوں کے فیلڈ کمانڈر امیر ابن الخطاب کے ساتھ ہے۔ ہماری یہ نشست جہاد کی ایک مشہور ومعروف شخصیت کے ساتھ ہوگی ۔ ہم پر امید ہیں کہ اس نشست میں ہم ابن الخطاب کی شخصیت کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جان پائیں گے۔
الخطاب ان رہنمائوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے جہاد، وقار اور عظمتوں کے میدانوں میں اپنا نام پیدا کیا۔ انہوں نے جہاد افغانستان میں شرکت کی اور تاجکستان کے جہاد میں اہم کردار ادا کیا۔ 1994 میں وہ اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کیلئے چیچنیا آیا جب سرخ فوج نے چیچنیا پر یلغار کی تھی۔ انہوں نے چیچنیا کی پہلی جنگ میں بڑا زبردست کردار ادا کیا۔ اس نے جو جنگی کاروائیاں اور حکمت عملی جنگ کے دوران اپنائی ان کے نتائج دنیا کے سامنے آئے اور ہر طرف کامیابیوں کی داستانیں سنی گئیں جس سے روسیوں کو مؤثر طریقے سے شکست ہوئی اور چیچنیا سے روسی فوجوں کو نکلنا پڑا۔ آج وہ چیچنیا میں جو واقعات پیش آئے ان کے متعلق تفصیل سے بات کریں گے۔ آج کی اس نشست میں وہ پہلی جنگ کے آغاز سے لے کرآج تک جو بھی واقعات پیش آئے ہیں اس کے متعلق بات کریں گے لہٰذا ہم ان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنی بات کا آغاز کریں۔ جزاھم اللہ خیراً۔
محترم اہلیان اسلام آج ہمارے پڑوس افغانستان میں عالمی کفر کی افواج موجود ہیں اور امریکی قبضے کو مستحکم بنائے ہوئے ہیں امارت اسلامیہ افغانستان پر نیٹو ایساف وغیرہ کے قالب میں کیا جانے والا صلیبی حملہ، امریکہ کی طرف سے اسلام پر مسلط کردہ جنگ کا اہم ترین محاذ ہے۔ اس لئے کہ اسلام کی محبت، شریعت کا نفاذ اور عالم اسلام کی مہاجرین کی مسلمانان خراسان کے وہ جرائم ہیں جو عالمی کفر کی ہزیمت کا سامان بن گئے۔ امریکہ اور برطانیہ سمیت کل٣٦ کے قریب ممالک جو نیٹو اور اس کے اتحادی ہیں۔ افغانستان پر امریکی قبضے میں شریک ہیں۔
قابل غور بات یہ ہے کہ افغانستان کے علاوہ ہمارے وہ مسلمان ممالک جہاں ظلم ودہشت گردی کا راج ان ممالک میں موجوں ہے، وہاں مرد حکمران بھی ہیں، انجینئر، ڈاکٹرز اور کسان بھی۔ ان مسلم ممالک میں کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ لڑنے کے لئے مرد نہیں لیکن کمی ہے تو تربیت کی عقیدہ وفکر کی اس سوچ کی جو ہمارے اسلاف میں موجود تھی اس لئے ہم میں مردوں کی تعداد بہت ہے جیسا کہ نبیۖ نے فرمایا:
''الناس کابل مئة لا تجد فیھا داحلة''
ترجمہ: ''لوگوں کی مثال ان سو اونٹوں کی مانند ہے جن میں سواری کے قابل کوئی بھی نہیں۔''
اس لئے مرد تو ہیں لیکن ان میں عمر، طلحہ اور زبیر کوئی نہیں خالد بن ولید کوئی نہیں کوئی صلاح الدین ایوبی نہیں، محمد بن قاسم کوئی نہیں نورالدین زنگی نہیں کوئی ٹیپو سلطان نہیں۔
قوموں کا مستقبل نوجوانوں سے وابستہ ہوتا ہے پچھلی ایک دو صدیوں میں یہ مشاہدہ ہوا کہ نوجوانوں کی اکثریت بالخصوص اور عالم مسلمان بالعموم جہاد جیسے اہم فریضے سے غافل ہیں مسلمانوں کے سامنے ان کی عزت لٹ گئی لیکن کسی کی عزت کی موت مرنے کے لئے آواز تک نکالنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ یہ ہندوکش سے خون بہہ رہا ہے ہمالیہ بلند چوٹیوں سے نالے ابل رہے ہیں جو لان کی پہاڑیوں پہ ظلمت کا سایہ ہے قفقاز کی وادی میں موت کا سناٹا ہے اور مسجد اقصیٰ سے رونے کی آوازیں آتی ہیں ان سب کا سبب کیا تھا؟ وہ کونسی چیز ہے جو ہم میں سے نکل گئی کون کون اس ذلت وپستی کا ذمہ دار ہے؟
آج اس ہولناک اور ظلم وبربریت کے دور میں میدان لہو مانگ رہے ہیں امت اسلام کی بہو بیٹیوں کی عظمت نیلام ہو رہی ہیں، نوجوانوں کو ذبح کیا جا رہا ہے، بوڑھے قتل ہو رہے ہیں، شیر خوار بچوں کے سامنے ان کی مائوں کی چھاتیاں کاٹ دی گئیں کے ہاتھو ں سے بچے لے کر چیر دئیے گئے ہیں ہماری بہنیں قتل گاہوں کی طرف لے جائی جا رہی ہیں۔
مسلمانوں کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے آج کے دور میں عرب وعجم کے نوجوان مجاہدین جنہوں نے اللہ عزوجل کا نام لے کر پہاڑوں سے ٹکرانا طے کیا، انہی عرب مجاہدین کی صف اول میں ایک بہت محبوب، محترم اور روشن ترین نام عبداللہ عزام شہید کا ہے اللہ ان کی روح کو راضی کرے کہ انوں نے جو ولولہ اور روح عالم اسلام میں پیدا کردی اسے سن کر اور پڑھ کر عرب وعجم نے اپنے جگر گوشے اس جہاد کے سپرد کردئیے شیخ نے ایسی ہزاروں لاکھوں آوارہ جوانیوں کو عظمت وعزیمت کے راستوں پر لگایا زندگی پر عزت کی موت کو ترجیح دینے کا درس دیا اور بیلوں کو ہاتھیوں سے ٹکرانے کا حصلہ دیا انہی نوجوانوں میں جو شیخ عبداللہ عزام شہید کی شخصیت اور نظریہ سے متاثر ہوئے امیر خطاب جو عرب کے نوجوان مجاہدہیں انہوں نے اپنی زندگی اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے وقف کردی اپنے جان ومال سے اللہ کی راہ میں بیشمار قربانیاں دیں روس کے خلاف افغانستان میں مجاہدین کے ساتھ مل ایسی سپر پاور کو شکست دی افغانستان کے کہساروں اور تاجکستان میں مجاہدین کی بیداری کی تحریک میں شامل رہ کر جہادی اور عسکری تربیت حاصل کی بالآخر اللہ کے حکم سے
شیشان یعنی چیچنیا اور داغستانع کے علاقوں میں روسی ریچھوں کے خلاف برسر پیکار رہے اور مختلف محاذوں پر کامیابیاں حاصل کیں روس کے خلاف جن عرب مجاہدین کے گروپوں نے میدان رزار کو گرم رکھا ان میں امیر خطاب نے چیچنیا اور داغستان کے محاذوں پر جو معرکہ آرائیاں انجام دیں وہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہیں۔
مشکل کی اس گھڑی میں مبارک ہیں وہ لوگ جو اپنوں کی بے اعتنائی کے باوجود اسلام اور مسلم سرزمینوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ ملازمت کرنے والوں کی ملازمت سے بے پرواہ اپنے سروں کی فصلیں کٹائے جا رہے ہیں امت کو ذلت کے گڑھے سے نکالنے کے لئے خود اپنی توہین برداشت کر رہے ہیں، دنیاوی زندگی کے ان جھمیلوں، قبر کی تنگ وتاریک کوٹھڑیوں اور قیامت کی ہولناکیوں میں اللہ کی معیت ان کے ساتھ فرشتے ان کے دوست ہیں ان شاء اللہ اور یہ سب مشقتیںدنیا وآخرت میں ان کے خوب کام آئیں گی کیونکہ یہی تو وہ لوگ ہیں جو سب سے بڑھ کر اپنے مالک کی رحمت کے امیدوار ہیں۔
ترجمہ: ''بے شک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں لڑے وہ اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔''
اللہ ربّ ذوالجلال عرب انصار کے مجاہدین جو چیچنیا کے محاذ پر شہید ہوئے اور ان کے علاوہ جہاں کہیں بھی مسلم نوجوان اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے کوشاں ہیں اور جام شہادت نوش فرما چکے ہیں ان کی قربانیوں کو قبول فرمائے ان کے لواحقین اور ورثاء کو صبرِ جمیل عطاء فرمائے(آمین ثم آمین)
والسّلام
ابو رافع
بسم اللہ الرحمن الرحیم
امیر خطاب کی معرکہ آرائیاں
الحمد للہ رب العلمین!
ہماری یہ نشست چیچنیا میں جنگجو گروپوں کے فیلڈ کمانڈر امیر ابن الخطاب کے ساتھ ہے۔ ہماری یہ نشست جہاد کی ایک مشہور ومعروف شخصیت کے ساتھ ہوگی ۔ ہم پر امید ہیں کہ اس نشست میں ہم ابن الخطاب کی شخصیت کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جان پائیں گے۔
الخطاب ان رہنمائوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے جہاد، وقار اور عظمتوں کے میدانوں میں اپنا نام پیدا کیا۔ انہوں نے جہاد افغانستان میں شرکت کی اور تاجکستان کے جہاد میں اہم کردار ادا کیا۔ 1994 میں وہ اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کیلئے چیچنیا آیا جب سرخ فوج نے چیچنیا پر یلغار کی تھی۔ انہوں نے چیچنیا کی پہلی جنگ میں بڑا زبردست کردار ادا کیا۔ اس نے جو جنگی کاروائیاں اور حکمت عملی جنگ کے دوران اپنائی ان کے نتائج دنیا کے سامنے آئے اور ہر طرف کامیابیوں کی داستانیں سنی گئیں جس سے روسیوں کو مؤثر طریقے سے شکست ہوئی اور چیچنیا سے روسی فوجوں کو نکلنا پڑا۔ آج وہ چیچنیا میں جو واقعات پیش آئے ان کے متعلق تفصیل سے بات کریں گے۔ آج کی اس نشست میں وہ پہلی جنگ کے آغاز سے لے کرآج تک جو بھی واقعات پیش آئے ہیں اس کے متعلق بات کریں گے لہٰذا ہم ان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنی بات کا آغاز کریں۔ جزاھم اللہ خیراً۔

No comments:
Post a Comment