Pages

Tuesday, 10 June 2014

غریب درزی کا جنازہ

لکھنو بازار میں ایک غریب درزی کی دکان تھی جو ہر جنازے کے لۓ دکان بند کرتے تھے...
لوگوں نے کہا کہ اس سے آپ کے کاروبار کا نقصان ہوگا،
کہنے لگا کہ علماء سے سنا ہے کہ جو کسی مسلمان کے جنازے پر جاتا ھے کل اس کے جنازے پر لوگوں کا ہجوم ہوگا...
میں غریب ہوں نہ زیادہ لوگ مجھے جانتے ہیں تو میرے جنازے پر کون آۓ گا...
اس لیے ایک تو مسلمان کا حق سمجھ کر پڑھتا ہوں اور دوسرا یہ کہ شاید اس سے ہی اللہ پاک راضی ہو جائیں
اللہ پاک کی شان دیکھیں کہ 1902ء میں مولانا عبدالحئ لکھنوی صاحب کا انتقال ہوا...
ریڈیو پر بتلایا گیا، اخبارات میں جنازے کی خبر آگئی.. جنازے کے وقت لاکھوں کا مجمع تھا. پھر بھی بہت سے لوگ انکا جنازہ پڑھے سے محروم رہ گئے
جب جنازہ گاہ میں ان کا جنازہ ختم ہوا تو اسی وقت جنازہ گاہ میں ایک دوسرا جنازہ داخل ہوا. اور اعلان ہوا کہ ایک اور عاجز مسلمان کا بھی جنازہ پڑھ کر جائیں...
یہ دوسرا جنازہ اس درزی کا تھا... مولانا کے جنازے کے سب لوگ ، بڑے بڑے اللہ والے ، علماء کرام سب نے اس درزی کا جنازہ پڑھا اور پہلے جنازے سے جو لوگ رہ گئے تھے وہ بھی اس میں شامل ہوگئے ۔ اس غریب کا جنازہ تو مولانا کے جنازہ سے بھی بڑھ کر نکلا
اللہ پاک نے اس درزی کی بات پوری کرکے اس کی لاج رکھی...
سچ کہا ھے کہ اخلاص بہت بڑی نعمت ھے...!

Why Taliban Attack on Karachi Airport

Just as it preferred to ignore the recent Chinese intrusion in Ladakh until forced by public opinion, the ruling UPA Government has taken zero cognisance of the dangerous implications of the US Pentagon building – a Tactical Control and Operations Centre at Karachi airport.
Ostensibly to monitor and counter drug smuggling activities, bids to build the high security fortification have been invited in the immediate wake of the Israeli attack on Syria and there are speculations that America might join the fight despite the United Nations asserting the Syrian rebels had made use of chemical weapons.
Experts say that the Tactical Control Centre will serve as headquarters for operations in the Arabian Sea, Indian Ocean, and South Asia. It will enhance American intervention in the region and heighten tensions with Russia and China, both of which are reasserting themselves and resisting American unilateralism on the global stage.
Permission for a command centre which will allow the US Army Corps to operate from Jinnah International Airport at Karachi was given by the Pakistan People’s Party Government (PPP) in March 2013, but would be inconceivable without the blessings of the Pakistan Army. This suggests that Sunni-dominated Pakistan maybe actively colluding with the West for action against Shia Iran and its allies, sooner rather than later. This bodes ill for the stability of the region and could escalate into a larger conflagration.
Pentagon upgrading facilities at Karachi Airport
According to Dawn, the US Army Corps of Engineer has been permitted to build a Tactical Command and Operations Centre (TCOC) compound at Karachi’s airport to exchange information with Pakistan Customs Drug Enforcement Cell on smuggling activities in and around the city. This is unlikely to be its sole activity, since it will install state-of-the-art electronic surveillance equipment.
This suspicion is reinforced by the fact that the project envisages coordinated quick-response to narcotics and contraband smuggling tactics in and around the port city, including the entire coastline of Pakistan! The Centre will have a separate cell/interrogation building. It will house the Pakistan Customs Drug Enforcement Cell and Rummaging and Patrolling Sections.
Contractors have been invited to bid for the construction of the US$1-2 million project, which must be completed within one year, as per specifications of the US Army Corps of Engineer, Middle East District.
Public opinion in Pakistan is hostile. Critics point out that the Government and the Army joined hands to permit US drones to attack designated persons within the country, and private armies like Blackwater/ XE were allowed to operate with impunity. The killing of innocent civilians, including women and children, was quietly condoned.
The nation lost face when US Navy Seals honed in on the secret hideout of Al Qaeda leader Osama bin Laden in the high security zone at Abbottabad in May 2011. Furthermore, the American embassy in Islamabad is one the largest mission’s in the world, with a marine barrack that can house a phenomenal 7000 soldiers.
Now, enhanced militarisation of the country seems inevitable in the guise of fighting drug smuggling. The critics say that the Anti Narcotics Force (ANF) has been run by the Army since its inception and is one of the most corrupt departments in the country. The impact on drug smuggling is negative. On the contrary, it has given some vested interests a kind of exclusive monopoly on the country’s ‘most lucrative export’. Thus, far from being a ‘war on drugs’, it seems possible that the new American dole will more likely be used for the war on drug competitors.
Pentagon upgrading facilities at Karachi Airport

Sunday, 8 June 2014

میاں بیوی کی لڑائی ،شوہر مردانگی سے ہاتھ دھوبیٹھا

میاں بیوی کی لڑائی ،شوہر مردانگی سے ہاتھ دھوبیٹھا


نیودہلی (نیوز ڈیسک) کون سا گھر ہے، جہاں کبھی نہ کبھی میاں بیوی کی لڑائی نہ ہوجاتی ہو لیکن بھارتی ریاست مدھیا پردیش کے ایک گھر میں ایک جوڑے کے درمیان ایسی لڑائی ہوگئی کہ جس کا سن کر ہر خاوند کانپ اٹھا ہے۔ تیس سالہ جتیندر اور ستائیس سالہ اوما کے درمیان باورچی خانے کے استعمال پر جھگڑا ہوگیا۔ جتیندر کا کچھ پکانے کا موڈ ہورہا تھا اور اوما بھی باورچی خانے میں کچھ کام کرنا چاہ رہی تھی۔ بات تکرار سے شروع ہوکر ہاتھا پائی تک جاپہنچی اور دونوں نے ایک دوسرے پر سخت حملے شروع کردئیے۔ اسی دوران بدقسمتی سے جتیندر کی دھوتی کھل کر فرش پر جاگری اور اوما کے سامنے ایک ایسا ٹارگٹ آگیا جس پر حملہ جتیندر کو فوراً زمین بوس کرسکتا تھا اور پھر کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر اوما نے اپنے شوہر کے مخصوص اعضاءپر اپنے نوکیلئے دانت گاڑھ دئیے۔ جتیندر چند لمحے پھڑ پھڑایا اور پھر اچانک لڑائی کا اختتام ہوگیا کیونکہ وہ اپنا عضو مخصوص کھو چکا تھا۔ احساس شرمندگی کے باعث جتیندر اس حادثے کو ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود ڈاکٹر کے پاس نہ گیا اور بالآخر جب ایک دوست نے اسے یہ کہا کہ عورت کے کاٹنے سے جسم میں زہر پھیل سکتا ہے تو وہ خوفزدہ ہوکر ڈاکٹر کے پاس گیا اور یہ تمام ماجرا منظر عام پر آگیا۔ اوما کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے جبکہ اس کا موقف ہے کہ اس نے تشدد سے بچنے کیلئے ایک کوشش کی تھی اور  اسے معلوم نہیں تھا کہ اس کوشش کا یہ نتیجہ بھی نکل سکتا ہے۔ اس واقعہ کے بعد بھارت میں اکثر خاوندوں کو معمول سے زیادہ محتاط انداز میں پھرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

Saturday, 7 June 2014

Translation of Sura Qiyama

: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ
1: I CALL TO WITNESS the Day of Resurrection,
1: ہم کو روز قیامت کی قسم
2: وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ
2: And I call the reprehensive soul to witness:
2: اور نفس لوامہ کی (کہ سب لوگ اٹھا کر) کھڑے کئے جائیں گے
3: أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَلَّنْ نَجْمَعَ عِظَامَهُ
3: Does man think We shall not put his bones together?
3: کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی (بکھری ہوئی) ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے؟
4: بَلَىٰ قَادِرِينَ عَلَىٰ أَنْ نُسَوِّيَ بَنَانَهُ
4: Surely We are able to reform even his finger-tips.
4: ضرور کریں گے (اور) ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کردیں
5: بَلْ يُرِيدُ الْإِنْسَانُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ
5: Yet man is sceptical of what is right before him.
5: مگر انسان چاہتا ہے کہ آگے کو خود سری کرتا جائے
6: يَسْأَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ
6: He asks: "When will the Day of Resurrection be?"
6: پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہوگا؟
7: فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ
7: Yet when the eyes are dazzled,
7: جب آنکھیں چندھیا جائیں
8: وَخَسَفَ الْقَمَرُ
8: The moon eclipsed,
8: اور چاند گہنا جائے
9: وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ
9: And the sun and moon are conjoined,
9: اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں
10: يَقُولُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ
10: That day man will say: "Where can I find escape?"
10: اس دن انسان کہے گا کہ (اب) کہاں بھاگ جاؤں؟
11: كَلَّا لَا وَزَرَ
11: Never so, for there will be no escape.
11: بےشک کہیں پناہ نہیں
12: إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ
12: With your Lord alone will be the retreat on that day.
12: اس روز پروردگار ہی کے پاس ٹھکانا ہے
13: يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ
13: Then man will be told what he had sent ahead (of good) and what he had left behind.
13: اس دن انسان کو جو (عمل) اس نے آگے بھیجے اور پیچھے چھوڑے ہوں گے سب بتا دیئے جائیں گے
14: بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَىٰ نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ
14: In fact man is a witness against himself,
14: بلکہ انسان آپ اپنا گواہ ہے
15: وَلَوْ أَلْقَىٰ مَعَاذِيرَهُ
15: Whatever the excuses he may offer.
15: اگرچہ عذر ومعذرت کرتا رہے
16: لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ
16: Do not forestall (the revelation before its completion) by acting in haste.
16: اور (اے محمدﷺ) وحی کے پڑھنے کے لئے اپنی زبان نہ چلایا کرو کہ اس کو جلد یاد کرلو
17: إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ
17: Surely its collection and recitation are Our responsibility.
17: اس کا جمع کرنا اور پڑھانا ہمارے ذمے ہے
18: فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ
18: So, as We recite it, follow its reading.
18: جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم (اس کو سنا کرو اور) پھر اسی طرح پڑھا کرو
19: ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ
19: The exposition of its meaning surely rests on Us.
19: پھر اس (کے معانی) کا بیان بھی ہمارے ذمے ہے
20: كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ
20: But no. You love this transient life,
20: مگر (لوگو) تم دنیا کو دوست رکھتے ہو
21: وَتَذَرُونَ الْآخِرَةَ
21: And neglect the Hereafter.
21: اور آخرت کو ترک کئے دیتے ہو
22: وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ
22: How many faces will be refulgent on that Day,
22: اس روز بہت سے منہ رونق دار ہوں گے
23: إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ
23: Waiting for their Lord.
23: اور) اپنے پروردگار کے محو دیدار ہوں گے
24: وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ بَاسِرَةٌ
24: And how many faces on that Day will be woe-begone
24: اور بہت سے منہ اس دن اداس ہوں گے
25: تَظُنُّ أَنْ يُفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ
25: Fearing that a great disaster is going to befall them.
25: خیال کریں گے کہ ان پر مصیبت واقع ہونے کو ہے
26: كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ
26: Never so, for when life withdraws into the clavicula,
26: دیکھو جب جان گلے تک پہنچ جائے
27: وَقِيلَ مَنْ ۜ رَاقٍ
27: And it is asked: "Is there any reciter of charms and amulets?"
27: اور لوگ کہنے لگیں (اس وقت) کون جھاڑ پھونک کرنے والا ہے
28: وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ
28: He will then realise it is the parting,
28: اور اس (جان بلب) نے سمجھا کہ اب سب سے جدائی ہے
29: وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ
29: And anguish will be heaped upon anguish:
29: اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے
30: إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَسَاقُ
30: To your Lord then will be the driving.
30: اس دن تجھ کو اپنے پروردگار کی طرف چلنا ہے
31: فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ
31: For he neither believed nor prayed,
31: تو اس (ناعاقبت) اندیش نے نہ تو (کلام خدا) کی تصدیق کی نہ نماز پڑھی
32: وَلَٰكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ
32: But only disavowed and turned away;
32: بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیر لیا
33: ثُمَّ ذَهَبَ إِلَىٰ أَهْلِهِ يَتَمَطَّىٰ
33: Then he strutted back to his people.
33: پھر اپنے گھر والوں کے پاس اکڑتا ہوا چل دیا
34: أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ
34: Alas the woe for you, alas!
34: افسوس ہے تجھ پر پھر افسوس ہے
35: ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ
35: Alas, the woe for you!
35: پھر افسوس ہے تجھ پر پھر افسوس ہے
36: أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَنْ يُتْرَكَ سُدًى
36: Does man think that he will be left alone to himself, free?
36: کیا انسان خیال کرتا ہے کہ یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا؟
37: أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِنْ مَنِيٍّ يُمْنَىٰ
37: Was he not an emitted drop of semen,
37: کیا وہ منی کا جو رحم میں ڈالی جاتی ہے ایک قطرہ نہ تھا؟
38: ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ
38: Then formed into an embryo? Then He fashioned, shaped and proportioned
38: پھر لوتھڑا ہوا پھر (خدا نے) اس کو بنایا پھر (اس کے اعضا کو) درست کیا
39: فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَىٰ
39: And assigned it sexes, male and female.
39: پھر اس کی دو قسمیں بنائیں (ایک) مرد اور (ایک) عورت
40: أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ
40: Cannot such as He bring the dead to life?
40: کیا اس خالق کو اس بات پر قدرت نہیں کہ مردوں کو جلا اُٹھائے؟

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ

اسلام کے بعد ہجرت کا شرف حاصل کیا ،اکثر مہاجرین نے مع بال بچوں کے ہجرت کی تھی؛لیکن سلمہ نے راہ اللہ میں بال بچوں کو بھی چھوڑ کر مدینہ کی غربت اختیار کی۔

مدینہ آنے کے بعد قریب قریب تمام غزوات میں شریک رہے، سب سے پہلے غزوۂ حدیبیہ میں شریک ہوئے اورخلعت امتیاز حاصل کیا، صلح حدیبیہ کے سلسلہ میں بیعت رضوان کو تاریخ اسلام میں خاص اہمیت حاصل ہے،جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمانؓ کی شہادت کی خبر سن کر مسلمانوں سے موت پر بیعت لینا شروع کی تو سلمہؓ نے تین مرتبہ بیعت کی،پہلی مرتبہ سب سے اول جماعت کے ساتھ بیعت کرچکے تھے دوبارہ آنحضرتﷺ کی نظر پڑی تو فرمایا سلمہ بیعت کرو ،عرض کیا: یا رسول اللہ جاں نثار پہلے ہی بیعت کرچکا ہے،فرمایا کیا ہرج ہے دوبارہ سہی، اس وقت سلمہؓ نہتے تھے،آنحضرتﷺ نے ایک ڈھال عنایت فرمائی،تیسری مرتبہ آنحضرتﷺ کی نظر پڑی تو فرمایا کہ سلمہؓ!بیعت نہ کروگے؟ عرض کیا یا رسول اللہ! دو مرتبہ بیعت کرچکا ہوں فرمایا تیسری مرتبہ سہی ؛چنانچہ انہوں نے سہ بارہ بیعت کی،آنحضرتﷺ نے پوچھا سلمہؓ !ڈھال کیا کی؟ عرض کیا کہ میرے چچا بالکل خالی ہاتھ تھے،ان کو دیدی ،آپ نے ہنس کر فرمایا تمہاری مثال اس شخص کی سی ہے کہ اس نے دعا کی کہ خدایا! مجھ کو ایسا دوست دے جو مجھ کو اپنی جان سے زیادہ عزیز ہو، ابھی بیعت کا سلسلہ جاری تھا کہ اہل مکہ اورمسلمانوں کے درمیان صلح ہوگئی اور لوگ مطمئن ہوکر ایک دوسرے سے ملنے جلنے لگے، سلمہؓ بھی ایک درخت کے نیچے لیٹ رہے،اتنے میں چار مشرکین آئے اوران کے قریب بیٹھ گئے آنحضرتﷺ کے بارے میں ایسی باتیں کرنے لگے جو ان کو ناگوار ہوئیں، یہ اُٹھ کر دوسرے درخت کے نیچے چلے گئے،ان کے جانے کے بعد چاروں ہتھیار اتار کر اطمینان سے لیٹ گئے، ابھی لیٹے ہی تھے کہ کسی نے نعرہ لگایا، مہاجرین دوڑنا ابن زنیم قتل کردیے گئے،آوازسن کر سلمہؓ نے ہتھیار سنبھال لیے اورمشرکوں کی طرف لپکے ،یہ سب سورہے تھے،سلمہؓ نے ان کے اسلحہ پر قبضہ کرکے ان سے کہا خیر اسی میں ہے کہ سیدھے میرے ساتھ چلے چلو، خدا کی قسم جس نے سر اٹھایا، اس کی آنکھیں پھوڑدوں گا، چنانچہ ان سب کو کشاں کشاں لاکر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کیا، ان کے چچا عامربھی ستراکہتر مشرک گرفتار کرکے لائے تھے؛لیکن رحمت عالم نے سب کو چھوڑدیا ،اس پریہ آیت نازل ہوئی:
وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ
(الفتح:۲۴)

اور وہ خدا ہی تھا،جس نے عین مکہ میں تم کو کافروں پر فتحیاب کرنے کے بعد ان کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک دیا۔

مسلمانوں کا قافلہ مدینہ سے واپسی میں ایک پہاڑ کے قریب خیمہ زن ہوا،مشرکین کی نیت کچھ بد تھی، آنحضرت ﷺ کو اس کی اطلاع ہوگئی اور پڑاؤ کی نگرانی کی ضرورت محسوس ہوئی؛چنانچہ آپ نے اس شخص کے لیے دعائے مغفرت کی جو پہاڑ پر چڑھ کر نگرانی کرے، سلمہؓ نے یہ سعادت حاصل کی اور رات بھر میں کئی مرتبہ پہاڑی پر چڑھ کر آہٹ لیتے رہے۔
(مسلم:۲/۹۸،۹۹،مطبوعہ مصر)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اونٹ ذی قروہ کی چراگاہ میں چرتے تھے،ان کو بنو غطفان ہنکالے گئے،سلمہؓ بن اکوع طلوع رضی اللہ عنہ فجر کے قبل گھر سے نکلے،تو حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کے غلام نے ان سے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ لٹ گئے، پوچھا کس نے لوٹا ،کہا بنوغطفان نے ،یہ سن کر آپ نے اس زورکا نعرہ لگایا کہ مدینہ کے اس سرے سے اس سرے تک آواز گونج گئی اور تن تنہا ڈاکؤں کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے وہ پانی کی تلاش کررہے تھے کہ سلمہؓ پہنچ گئے، یہ بڑے قادر انداز تھے، تاک تاک کر تیر برسانا شروع کردیے، تیر برساتے جاتے تھے اوریہ رجز پڑھتے جاتے تھے۔

انا ابن الاکوع الیوم یوم الرضع

میں اکوع کا بیٹا ہوں آج کا دن سخت جنگ کا دن ہے

اور اس قدر تیر باری کی کہ ڈاکؤں کو اونٹ چھوڑ کر بھاگ جانا پڑا،اوربدحواسی میں اپنی چادریں بھی چھوڑ گئے،اس درمیان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی لوگوں کو لے کر پہنچ گئے،سلمہؓ نے عرض کیا،یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے ان لوگوں کو پانی نہیں پینے دیا ہے،اگر ابھی ان کا تعاقب کیا جائے تو مل جائیں گے؛لیکن رحمت عالمؓ نے فرمایاکہ قابو پانے کے بعد درگذر کرو۔
(بخاری،جلد۲،کتاب المغازی باب غزوۂ ذی قروہ اورمسلم ،جلد۲،حوالہ مذکور)

اس کے بعد ہی خیبر کی مہم میں داد شجاعت دی، فتح خیبر کے بعد اس شان سے لوٹے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں ہاتھ دیے ہوئےتھے

بدترین غلامی کی جانب

کیا کسی کو اندازہ ہے کہ ہم جیسے پسماندہ ملکوں میں بڑے بڑے موٹروے، شاندار ایئر پورٹ، شہری زندگی کے چمک دمک والے منصوبے" عالمی فاسٹ فوڈ کی دکانیں" ہر طرح کے فیشن برانڈ، شاپنگ مال، عالمی معیار کے تھیٹر، سینما گھر اور ثقافتی مرکز کیوں کھولے جاتے ہیں۔ غربت کی ماری ان اقوام کا ایسا جزیرہ نما روشن چہرہ کس مقصد کے لیے تخلیق کیا جاتا ہے۔ یہ تمام پسماندہ ممالک سرمایہ کاری کے لیے دنیا بھر میں بدنام سمجھے جاتے ہیں، لیکن کوئی سوال نہیں کرتا کہ فاسٹ فوڈ کے ریستورانوں، فیشن کی دکانوں اور دیگر مصنوعات پر آپ کی سرمایہ کاری خطرے میں کیوں نہیں پڑتی۔ جس ملک (پاکستان) میں چھ کروڑ لوگ بس کا نمبر تک نہ پڑھ سکتے ہوں وہاں شاندار ایئر کنڈیشنڈ بس چلا دی جائے۔
جہاں روزانہ لاکھوں لوگ صاف پانی نہ ہونے کی وجہ سے جان لیوا بیماریوں کا شکار ہو جائیں وہاں ان کے کچے مکانوں، اور تعفن زدہ محلوں کے درمیان سے چمکتی ہوئی موٹروے گزرے، ایک چمکدار سڑک جس کے دونوں جانب کروڑوں مفلوک الحال رہتے ہوں جن کی بستیاں ایک ہزار سال پرانے دور کی یاد گار معلوم ہوں اور موٹروے پر سفر کرنے والے بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھے وہاں پر موجود لوگ زندگی کو ایسے دیکھیں جیسے افریقہ کے سفاری پارک میں گاڑیاں گزارتے ہوئے قدرتی ماحول میں اچھلتے کودتے جانوروں کو دیکھتے ہیں۔
میرے جیسے غریب و افلاس کا شکار لیکن زمینی وسائل سے مالا مال ملک ایک عالمی تماشہ گاہ ہیں۔ جہاں کے رہنے والے کروڑوں لوگوں کی تعلیم، صحت، رہائش اور روز گار کے لیے کوئی قرضہ نہیں دیتا۔ جہاں معاشی اور صنعتی ترقی کے لیے کوئی امداد مہیا نہیں کرتا، بلکہ صرف اور صرف بڑے بڑے انفراسٹرکچر بنانے کے لیے دنیا بھر کے ممالک اور عالمی مالیاتی ادارے دولت کی بوریاں اور بڑی بڑی سفارشات لے کر ان ملکوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ یہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ ان ممالک کے سیاسی رہنما، دانشور اور صحافی اگر صرف دو کتابوں کا مطالعہ کر لیں تو انھیں ہر ایسے "شاندار" منصوبے سے نفرت ہونے لگے۔
انھیں وہ مستقبل نظر آ جائے جو ہر اس غریب ملک کا مقدر بنا ، جنھوں نے ان منصوبوں کے لیے اپنی قوموں کو قرض کی دلدل میں اتارا، ان منصوبوں کی تعریف و تصریف سے شہرت کے محل کھڑے کیے، لیکن ان عوام کو صحت، تعلیم ، صاف پانی ، سیوریج ، امن و امان ، بنیادی رہائش اور روز گار فراہم نہ کر سکے۔ ان حکمرانوں کے نام کی تختیاں ان ایئرپورٹوں ، موٹرویز ، ثقافتی مراکز اور یاد گاروں پر لٹکتی رہیں اور عوام کی نسلیں غربت و افلاس کے باوجود ان عیاشیوں کے لیے لیا گیا قرض ادا کرتی رہیں۔ یہ دونوں کتابیں ایک ایسے معیشت دان نے لکھی ہیں جو دنیا بھر کے ممالک میں ایسے تباہ کن منصوبے لے کر جاتا رہا اور ان منصوبوں کی وجہ سے یہ تمام ملک بدترین انجام تک پہنچے۔
یہ شخص جان پرکنز John Perkins ہے اور اس کی پہلی کتاب "Confessions of an Economic Hitman" 2006ء
" میں آئی اور دوسری کتاب “The Secret History of American Empire” 2009 میں آئی۔ خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ دونوں کتابوں کا اردو ترجمہ "ایک معاشی غارت گر کی کہانی" اور "امریکی مکاریوں کی تاریخ" کے نام پر سے اب ہو چکا ہے۔ یہ دونوں کتابیں کسی ناول کی طرح دلچسپ، حیرت ناک اور سنسنی سے بھر پور ہیں۔ اس نے پانامہ، کولمبیا، وینز ویلا، یو سی ڈور، انڈونیشیا، مصر اور افریقہ کے ممالک میں اپنی سرگرمیوں کی داستانیں بیان کی ہیں۔ اس کی کتابیں پڑھنے کے بعد آپ کو اپنے رہنمائوں کی بے ضمیری، وطن فروشی اور بددیانتی پر رونا آنے لگتا ہے۔
آپ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ کھیتوں میں کام کرنے والا، سڑک پر بجری کوٹنے والا، مشینوں پر زندگی ختم کرنے والا، اور نائی، موچی، ترکھان، جولاہا اور کمہار ان شاندار انفراسٹرکچر پراجیکٹ اور ترقی کی علامت موٹرویز اور شہری سہولیات کا قرض اتارتے، اتارتے افلاس اور بیماری میں خون تھوکتے زندگی کی بازی ہار جاتا ہے۔ پرکنز اپنی کتابوں میں اس ساری سازش کے تین مدارج بتاتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ دنیا بھر کے وہ تمام امیر ممالک جن کی نظر غریب ممالک کے معدنی وسائل پر ہوتی ہے وہ میرے جیسے ’’معاشی ضرب کار” Economic Hitman پالتے ہیں۔ ان افراد کی تنخواہ اور اخراجات وہ بڑی بڑی کنسٹرکشن کمپنیاں اور تیل و معدنی وسائل پر قبضہ کی خواہش مند کارپوریشن اٹھاتی ہیں۔
ان معاشی ضرب کاروں کو جس بھی ملک میں بھیجا جاتا ہے، یہ اس کے حوالے سے بڑی بڑی سڑکوں، ائیر پورٹوں اور دیگر خوشنما منصوبوں سے بھری رپورٹیں تیار کرتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کس طرح اس غریب ملک کو زیادہ سے زیادہ قرضے کی دلدل میں ڈبویا جا سکتا ہے۔ جہاں دو رویہ سڑکوں کی ضرورت ہوتی ہے وہاں مستقبل کی منصوبہ بندی کا بہانہ بنا کر چار رویہ سڑکوں پر زور دیا جاتا ہے۔ یہاں وہ اپنے ایک ہم پیشہ کی مثال دیتا ہے جس نے انڈونیشیا کے بارے میں ایک حقیقت پسندانہ اسکیم بنائی تو اسے نوکری سے نکال دیا گیا۔ اس کے کے بعد پرکنز کو ذمے داری سونپی گئی اور اس نے پچیس گنا لاگت کے منصوبے بنا کر پیش کیے جنھیں عالمی بینک اور قرضہ دینے والے ممالک نے خوشدلی سے قبول کرلیا۔
جب ایسے منصوبے تیار ہو جاتے ہیں تو پھر یہ ’’ہٹ مین” اس ملک کی سیاسی قیادت، بیورو کریسی اور دیگر کار پردازوں کو انتہائی خوشنما طریقے سے بریفنگ دیتا ہے۔ اس دوران اس کی تلاش ایسے بددیانت، لالچی، بے وقوف یا شہرت کے بھوکے اہل اقتدار پر ہوتی ہے جو ان منصوبوں سے سستی شہرت بھی کمائیں اور مال بھی بٹوریں۔ یہاں ان لوگوں کا ایک جتھہ بن جاتا ہے۔ ہر کوئی میٹنگوں میں ان کی تعریف میں رطب اللسان ہوتا ہے۔ انھیں ملک کی بقا اور سلامتی کی علامت بتاتا ہے۔ یوں جب یہ منصوبے منظور ہو جاتے ہیں تو اس امیر ملک یا مالیاتی ادارے سے قرضے کی رقم کا بندوبست بس ایک کارروائی سی ہوتی ہے۔ حیرت ناک بات یہ ہے کہ یہ رقم اس امیر ملک سے غریب ملک میں منتقل نہیں ہوتی۔ امریکا ہو یا فرانس، ترکی ہو یا چین۔ یہ ممالک قرضے کی یہ رقم اپنی کنسٹرکشن کمپنیوں کو اپنے ہی ملک میں ادا کر دیتے ہیں۔
رقم اسی ملک میں رہتی ہے اور قرضہ غریب ملک کے عوام کی گردن پر۔ اس کے بعد ان ہٹ مینوں کی بنائی ہوئی جعلی اعداد و شمار کی رپورٹوں پر مبنی پراپیگنڈہ شروع ہوتا ہے۔ یہ موٹروے بنا تو تجارت اتنے گنا بڑھے گی، یہ بندر گاہ بنی تو ملک پورے مشرق وسطیٰ کی تجارت پر چھا جائے گا۔ یہ ٹرین یا بس چلی پڑی تو عام آدمی کے دن بدل جائیں گے۔ ان بسوں میں اور ان موٹر ویز پر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ میں مفلس، نادار، بیمار، بے روز گار، ان پڑھ اور پسماندہ لوگ سفر کرتے ہیں جنھیں نہ تعلیم ملتی ہے، نہ دوا، نہ گھر میسر ہوتا ہے اور نہ نوکری۔ لیکن یہی لوگ ہیں جو ان موٹرویز، بندر گاہوں اور ایئر پورٹس کا قرض اتار رہے ہوتے ہیں۔ جب کسی ملک پر ڈھیر سارا قرض چڑھ جاتا ہے تو پرکنز کے مطابق وہاں عقاب Hawks کو بھیجا جاتا ہے۔
یہ وہ کمپنیاں اور کارپوریشن ہوتی ہیں جن کی نظر اس ملک کے معدنی وسائل، تیل، لوہا، تانبہ، سونا اور دیگر دھاتوں پر ہوتی ہے۔ کچھ وہاں کی زرعی زمینوں پر کارپوریٹ فارمنگ چاہتی ہیں۔ یہ عقاب اس قرضے میں جکڑی قوم کے وسائل پر یوں ٹوٹتے ہیں جیسے بھوکے بھیڑئیے۔ افریقہ اس کی بدترین مثال ہے۔ پرکنز کہتا ہے کہ میں حیران ہوتا تھا کہ ان افریقی ممالک میں جہاں کروڑوں لوگ بھوک سے مر رہے تھے وہاں برگر، پیزا اور عالمی فوڈ ریستوران دھڑا دھڑ کھلتے جا رہے ہیں۔ ان کو چلانے کے لیے ایک مڈل کلاس بنائی جاتی ہے جس کو کارپوریٹ کلچر مناسب تنخواہ دیتا ہے۔ این جی اوز کو فنڈ ملتے ہیں، جنکے کے لیے مہنگی تعلیمی سہولیات اور مہنگے اسپتال۔یہ لوگ ہیں جو اس انفراسٹرکچر کی ترقی کو اخباروں اور ٹیلی ویژن پر اصل ترقی بتاتے ہیں۔ ایسے غریب ملکوں میں اگر کوئی ان ’’عقابوں” کی بات نہ مانے تو لیڈروں کو موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے۔ چلی کا آلندے، کانگو کا لوممبا اور پانامہ کا صدر اس کی مثالیں ہیں۔ اس کے ساتھ ان ملکوں کو حقوق کی جنگ کے نام پر قتل و غارت تحفے میں دی جاتی ہے۔ صرف سوڈان، روانڈا اور دارفور کی لڑائیوں میں چالیس لاکھ لوگ مارے گئے۔
یوں جہاں دہشت گردوں کا راج ہو وہاں ان سے معاہدہ کر کے معدنیات حاصل کی جاتیں ہیں اور جہاں امن ہو وہاں حکومت کو بلیک میل کر کے۔ انگولا اس کی بدترین مثال ہے۔ اگر لیڈروں کو قتل کرنے سے بھی کام نہ چلے اور کوئی ملا عمر یا صدام حسین جیسا لوہے کا چنا ثابت ہو جائے تو پھر اس کے ملک میں فوجیں اتار دی جاتی ہیں۔ یہ ہے وہ گھن چکر، اس لیے جب کوئی موٹر وے بنتا ہے، ماس ٹرانزٹ اسکیم آتی ہے، ایئر پورٹ کی توسیع ہوتی ہے تو میں کانپ اٹھتا ہوں۔ اٹھارہ کروڑ بھوکے ننگوں کے اس انجام پر جو پہلے ان عیاشیوں کا قرضہ ادا کریں گے اور پھر بدترین غلامی، دہشت اور خوف میں زندگی گزاریں گے

حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی تقلید پر فخرکرنے والے

حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی تقلید پر فخر کرنے والے. ... ....................ذرا سوچیں !!!

امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو خلیفہ ابو جعفرمنصور’’ قاضی القضاۃ ‘‘(چیف جسٹس)بنانے کی بار بار کوشش کی مگر آپ نے ہمیشہ انکار کیا۔اسی حوالے سے مولانا عاصم عمردامت برکاتہم اپنی معرکۃ الآراء کتاب ’’امام مہدی کے دوست اور دشمن ‘‘میں رقم طراز ہیں:
’’وہی امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ جن کے ہم نام لیوا ہیں………ہمارادعویٰ ہے کہ ہم ان کی تقلید کرتے ہیں ………ان کے مناقب ،ان کے فضائل اور ان کے مسائل پڑھتے پڑھاتے ساری زندگی گزرجاتی ہے ………پر کاش!کبھی سوچا ہوتاآخر کیا چیز تھی………کیا دردتھا .کیسی کڑھن تھی کہ بڑھاپے میں ’’حلقہ ٔمریداں‘‘کے بجائے قید تنہائی کو اختیار کیا ………آپ نے کیسا فقہ پڑھاتھا جس نے کسی تاویل یا فقہی جزیہ کا سہارا نہیں لیا اور آخری عمر شاگردوں کے جلو میں گذارنے کے بجائے ،زندان کی بھٹی میں جھونک دیئے ………مسندِ درس کی اہمیت بھی ’’مصلحت و حکمت‘‘کا لبادہ اوڑھ کر سامنے آئی ہوگی اور سمجھانے کی کوشش کی ہوگی کہ خلیفۂ وقت کے خلاف خروج کو کس طرح جائز قرار دیتے ہیں ،یا یہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائی ہے آپ فقہ پڑھاتے رہئیے اورخاموش ہوجائیے ،عہدہ قبول کرنے میں کیا حرج ہے ………وہ بھی اسلامی خلافت کا عہدہِ قضاء ………لیکن ثابت (نعمان ابن ثابت)کے فرزند کے قدم ثابت ہی رہے۔ ایک بار جو ’’نہ ‘‘نکلی ………سو نکلی ………جان سے گزرگئے لیکن ’’نہ ‘‘کو ’’ہاں‘‘میں تبدیل نہ کیاجاسکا۔
یہ بات قابل غور ہے کہ آپ کا رویہ ایسے دور میں تھا جو خیر القرون میں شمار ہوتا ہے ۔خلافت قائم ہے ،ہر طرف اسلام کا بول بالا ہے ،اسلامی حدود جاری وساری ہیں ،مسلمانوں کی جان ومال ،عزت وآبروکو کافروں سے کوئی خطرہ نہیں ہے………اور خلیفہ بھی آج کے حکمرانوں سے کروڑوں درجہ اچھا ،جس نے نہ اقامتِ صلوۃ کو معطل کیا ہے نہ اقامت جہاد………تصور کیجئے اگر امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو علم ہوجائے کہ ان کے نام لیوا کافروں کی غلامی میں رہتے ہیں .ان کی فقہ سے یہود ونصاریٰ اور ہندوؤں کی اطاعت کے جواز نکالتے ہیں………پھر اس پر فخر بھی کرتے ہیں کہ وہ دین کی بڑی خدمت کررہے ہیں، قیامت کے دن اگر ہماراگریبان پکڑ لیا تو کیا ہوگا؟جس امام کو قرونِ اولیٰ کے حکمران باطل نظر آئے اور ان کے خلاف جہا د کرنے والوں کا عملی ساتھ دیا ،اگر ان کو پتہ چلے کہ ان کی تقلید کرنے والے ہندوستان میں ہندوؤں کی غلامی پر راضی ہیں ،ان کی تقلید کرنے والے (دار الحرب)امریکہ و برطانیہ میں رہائش اختیار کرتے ہیں اور جہاد نہیں کرتے ،اور وہ بھی ہیں جنھوں نے ’’طواغیت‘‘کو اپنا امیر ’’تسلیم ‘‘ کرلیا ہے اور ان کے خلاف خروج کو ناجائز کہتے ہیں۔اللہ کے دشمنوں کی مدد کرنے والوں کے حق میں امام صاحب کے فقہ سے دلائل لاتے ہیں۔
اے امام ابوحنیفہ کی تقلید کرنے والو!کبھی سوچا ہے کہ قیامت میں ان نفوس قدسیہ کو کس طرح سامنا کروگے۔امریکہ کی اطاعت پر راضی رہنا ………اسلام کے خلاف چھیڑی گئی جنگ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺکے دشمنوں کی صف میں کھڑا ہونا ………کیا تاویلات کا سہارا لے کر ایسے (عظیم)شخص سے بحث کی جاسکے گی جن کے فقہی اسرار ورموز کی دنیا معترف ہے۔پھر ایک بارپڑھیئے………اور دل کی آنکھیں کھول کر پڑھیئے………امام اعظم ابو حنیفہ کا جنازہ جیل سے نکلا ………کوڑے کھائے اور سخت اذیتیں سہہ سہہ کر اپنے محبوب حقیقی سے جاملے۔زمین وآسمان کی وسعتوں کے براب اللہ کی رحمتیں ہوں نعمان ابن ثابت ،ابو حنیفہ پر جنہوں نے اپنی زندگی قربان کرکے شریعت کی آبروکی حفاظت کی ۔آمین

Friday, 6 June 2014

سائنس دانوں کو ایک اور دنیا مل گئی

سائنس دانوں کو ایک اور دنیا مل گئی

اس نئی دنیا کا نام تھیا ہے جو کے یونان کی ایک دیوی ہے
سائنس دانوں کو ایک ایسی نئی دنیا کا پتہ چلا ہے جو اربوں سال قبل زمین سے ٹکرائی تھی جس کے نتیجے میں چاند وجود میں آیا۔
سائنس جرنل میں چھپنے والی یہ نئی تحقیق خلائی طیارے اپولو کے خلابازوں کی مدد سے مکمل کی گئی جو اپنے حالیہ سفر کے بعد چاند پر سے ایک پتھر لے کر آئے۔ جس کا سائنسدانوں نے تفصیلی جائزہ لیا۔
اس نئی دنیا کو اب یونانی دیوی ’تھیا‘ کے نام سے جانا جاتا ہے جو ایک یونانی دیوی سیلین ماں تھی سیلین یونانی دیو مالا میں چاند کی دیوی ہے۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ’تھیا‘ کا ٹکراؤ جب زمین سے ہوا تو اس کے نتیجے میں وہ بکھر گئی جس کے بعد اس ملبے نے زمین کے بکھرے ہوئے ملبے کے ساتھ جڑ کر چاند کی شکل اختیار کی۔
یاد رہے کہ سائنسدانوں کا ’تھیا‘ کہ بارے میں 1980 سے یہی نظریہ تھا لیکن انھیں اس کو ثابت کرنے کہ لیے کوئی ٹھوس ثبوت حاصل نہیں ہوا تھا، تاہم اس نئے پتھر کی تحقیق سے سائنسدانوں کے اس نظریے کو ثبوت میسر آ گیا۔
جرمن یونیورسٹی گوئیٹنجن کے پروفیسر ڈاکٹر ڈینیل ہرواٹز کا کہنا ہے کہ سائنسدانوں کا تھیا کے وجود کے بارے میں نظریہ شکوک کا شکار تھا اور بہت سے نئے سائنسدانوں نے اس نظریے کی صداقت کے بارے میں بھی سوال اٹھانا شروع کر دیے تھے۔
معروف برطانوی یونورسٹی آکسفرڈ کے پروفیسر ایلکس ہالیڈے اس نئی تحقیق سے حیران رہ گئے ہیں۔
پروفیسر ہالیڈے کے مطابق بہت سے سائنس دانوں نے پہلے بھی چاند سےلائے گئے بہت سے پتھروں کا معائنہ کیا تھا لیکن اب تک کچھ حاصل نہیں ہوا تھا۔ جبکہ اس نئے پتھر کا معائنہ کرنے کے بعد اس میں اور پرانے پتھروں میں کچھ زیادہ فرق دیکھنے کو نہیں ملا۔
’تھیا‘ کے وجود کے بارے میں سائنسدانوں کا خیال ہے کہ وہ ایلینز یا خلائی مخلوق کی طرف سے بنائی گئی تھی۔اس نئی تحقیق سے سائنسدانوں کا خلائی مخلوق کے بارے میں نظریہ اور بھی پختہ اور یقینی ہوگیا ہے۔

پکتیا دشت لیلی اور تورابورا

ایک درخت سے توڑی ہوئی ٹہنی اور اس پر سفید جھنڈا، کچھ فقیر جن کے کاندھوں پر لٹکی بندوقیں اور ان کے ساتھ ایک امریکی فوجی۔
فضا میں روشنی کے گولے چھوڑتا ایک دنیا کا جدید ترین ہیلی کاپٹر اترتا ہے اور اس دنیا کی جدید ترین ترقی یافتہ کافر قوم کے کچھ لوگ نہایت تیزی کے ساتھ پریشانی اور تناؤ کے عالم میں نکلتے ہیں، ان کی جسم کی حرکات بتاتی ہیں کہ وہ جلدی میں اور خوفزدہ ہیں۔
یہ ایک درخت سے توڑی گئی ٹہنی پر اپنا جھنڈا لگائے آگے بڑھتا اللہ تعالی کا مجاھد صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی یاد تازہ کرتا ہے ۔۔ خیال آیا کیسے صحابہ قیصر اور کسری کے محلات میں بے خوف اور ان سے مرعوب ہوئے بغیر جاتے ہوں گے ۔
پھر خیال آیا اسی کافر قوم کا کوئی ایک سفید چمڑی والا کافر اس ملک پاکستان میں اگر آئے تو اس کے لیے کیسے استقبال کیے جاتے ہیں اور کپکپاتے ہونٹوں کے ساتھ کیسے احساس کمتری کا شکار اس ملک کے حکمران قیمتی سوٹ پہن کر ان کو ان کے معیار کے مطابق مرعوب کرنے کی بے وقعت کوششیں کرتے ہیں
خیر کس کا مقابلہ کس سے؟
ذہن میں کچھ تصویر ابھری
ایک تصویر جس نے میری زندگی کا رخ تبدیل کیا
کابل کا سقوط
اسی ملک جس کا یہ ہیلی کاپٹر اترا ہے، یہی فوجیں کابل میں داخل ہو رہی ہیں، ظلم کی وہ داستانیں لکھی جانے کو ہیں جس سے اس دنیا کا کلیجہ کانپے گا، پہاڑ بھی دہل جائیں گے، سمندر بھی خوں رونے کو ہیں ۔۔۔۔ اے افغان خون مسلم بہنے کو ہے اور اتنا بہے گا کہ تیرے سارے پہاڑ اس سے تر ہو جائیں گے
ان دنوں میں ٹی وی دیکھتا تھا ۔۔ کیا دیکھتا ہوں کہ کابل پر قبضہ ہو گیا، احمد شاہ مسعود کے وحشی درندے کافروں کے ساتھ اس شہر میں داخل ہو گئے ہیں اور قتل عام شروع ہے
اسی وقت ایک شخص جس کا نام پرویز مشرف ہے امریکہ میں کھڑا وہاں کے کافراعظم بش کے ساتھ پریس کانفرنس بھی کر رہا ہے
پھر ۔۔۔ بی بی سی کابل پہنچتا ہے ۔۔
یہ کیا
ایک ڈبل کیبن ہے اس میں پچھلی سیٹ پر تین جوان عرب ہیں اور ان کے مبارک چہروں کو کیمرہ کی طرف متوجہ کرنے کیلیے مارا جا رہا ہے ۔۔ اور ان کی داڑھیوں سے پکڑ کر کھینچ کر ان کو گندی گالیاں نکالتے ناردرن الاینس والے ان کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔۔۔ کیمرہ ان کے چہرے کی طرف مرکوز ہے اورمیں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک درمیان میں بیٹھا نوجوان حسرت، غصہ اور بے بسی سے جیسے میری آنکھوں میں دیکھ کر کہہ رہا ہے ۔۔ میں بھی تو تیرا ہوں ۔۔۔ اللہ تعالی کی قسم اسی دن میری دنیا لٹ گئی
میں روتا روتا گھر کے باہر آ گیا اور آسمان کی طرٖف دیکھتا اپنے رب کو پکارنے لگا، اے میرے رب ۔۔ رحم ۔۔ رحم ۔۔ رحم ۔۔ میرے آنسو تھمنے کا نام نہ لیتے تھے
اور میری دنیا لٹ گئی اور تبدیل ہو گی ۔۔۔ اور ظلم پر ظلم بڑھنے لگا اور ستم پر ستم ڈھانے کو تیار بدترین لوگ اس امت کے تاجداروں کو رسوا کرنے نکل پڑے
۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔۔۔۔ آج میں اس نظارے کو دیکھتا ہوں اس فقیر مجاہد کا دلیری سے آنا ۔۔۔ اسے کسی کا خوف نہیں اس کا جسم اس کی گواہی دیتا ہے ۔۔ اس کے سامنے یہ کافر بے بس اس کو راضی کرنے خوشامدانہ انداذ میں اس سے ہاتھ ملاتے ۔۔ اس کے خوف سے بھاگتے اپنے فوجی کو لیکر اپنے ہیلی کاپٹر میں سوار ہونے سے پہلے اپنے فوجی کی پوری تلاشی لیتے ہیں کہ شاید کہیں یہ بیلٹ باندھے ہوئے نہ ہو ۔۔۔۔۔
اللہ تعالی نے اپنے ان بہترین بندوں کو چنا اور ان کو تیار کیا اور ان کو فتح بخشی اور مومنین کے سینے ٹھنڈے ہوئے
کچھ لوگ کہتے تھے کہ اب یہ غاریں بھی انکو پناہ نہ دیں گی
آج آسمان، زمین اور ہوائیں بھی ان کے ساتھ مسکرا رہی ہیں
اے رب کریم ۔۔۔ دنوں کو تبدیل کر دینے والے جبار رب
تیرے بندے آج فتح یاب ہیں
اے سقوط کابل کے دن اپنی جوانی قربان کر دینے والے مجاھد تو کہاں ہے اس کا علم نہیں ۔۔ لیکن اللہ تعالی کی عزت کی قسم اس دل میں تو رہتا ہے، اسی دن سے کہ جس دن تیری آنکھوں نے مجھے وہ پیغام دیا ۔۔ مجھے رلا کر ذندہ کیا
اے گمنام مجاہدو ۔۔۔۔ تم عظیم ہو
اور اے میرے آباء کی زمین افغانستان ۔۔۔ تیرا وجود کتنا پاک اور کتنا قوی ہے
تجھ پر تیرے رب کی رضا برستی ہے ۔۔۔۔ تیرے پہاڑوں کو سلام ۔۔ دشت لیلی کو سلام ۔۔۔ تورابورا کے پتھروں کو سلام ۔ کنڑ کے دریا کو سلام ۔۔ تیرے ایک ایک ذرہ کو سلام ۔۔۔۔پکتیا کو سلام ۔۔۔ میرے آبائی وطن غزنی کو سلام
اے ملا عمر مجاھد ۔۔ اللہ تعالی تجھے تیری غیرت کے بدلے جنت میں محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ عطا فرمائے اور ہمیں تجھ سے محبت کی وجہ سے تیرا ساتھ ۔۔۔ اے عرب کے شہزادو ۔۔ اے قحطان کی نیک ترین روح ۔۔۔۔ تم سب عظیم ہو، میری عزت ہو میرا وقار ہو
آج میرے رب نے میرا دل ٹھنڈا کیا
کہاں ہیں اس دنیا کے وہ ظالم اور متکبر؟
اسلام باقی ہے ۔۔ اور باقی رہنے کوہے
ایک جماعت باقی ہے اور روز قیامت یعنی حکم کے قائم ہونے تک باقی رہے گی ان شا الله ۔۔ کبھی نہ مغلوب ہونے والی ۔۔ ناجیہ ۔۔ طائفہ منصورہ
اور ۔۔ اے میرے وطن تیرے لیے یہ کہنا کتنا درست ہے

ٹی وی اینکر اور چرواھا

ٹی وی اینکر اور رپورٹر حضرات جس طرح لوگوں کو فضول سوالات سے زچ کرتے ہیں، چرواھے نے اس کا بدلہ لے لیا
ٹی وی اینکر چرواھے سے
ٹی وی اینکر: آپ بکرے کو کیا کھلاتے ہیں
چرواھا: کالے کو یا سفید کو
؟
ٹی وی اینکر: سفید کو
چرواھا : گھاس
ٹی وی اینکر: اور کالے کو
چرواھا :اس کو بھی گھاس
ٹی وی اینکر: ان کو باندھتے کہاں ھو
چرواھا: کالے کو یا سفید کو
ٹی وی اینکر: سفید کو
چرواھا : بڑے کمرے میں
ٹی وی اینکر: اور کالے کو
چرواھا :اس کو بھی بڑے کمرے میں
ٹی وی اینکر: ان کو نہلاتے کیسے ہو
چرواھا: کالے کو یا سفید کو
ٹی وی اینکر: سفید کو
چرواھا : پانی سے
ٹی وی اینکر: اور کالے کو
چرواھا :اس کو بھی پانی سے
ٹی وی اینکر غصے سے ( منحوس آدمی جب دونوں کے ساتھ ایک جیسا کرتے ھو تو باربار مجھ سے پوچھتے کیوں ھو کہ کالے کو یا سفید کو؟
چرواھا: کیوں کہ سفید بکرا میرا ھے
ٹی وی اینکر: اور کالا
چرواھا : وه بھی میرا هے۔

سکـون

ایک نوجــوان نے کــسی بـزرگ سے عــرض کیا کـہ "حضرت ! میں سکـون چاہـتا ھوں آپ مـجھے کـوئی طـریقہ بتا دیں.."
ان بـزرگ نے فـرمایا.. "پہلے تـو اپنے فـقرے میں سے "میں" نکال دو کــیونکہ یہ تکـبر کی عـلامت ھے اور اللہ کــو تکـبر پسـند نہیں ھے..
پھـر اپنے فـقرے سے "چاھـتا ھوں" نـکال دو کـیونکہ یہ نـفس کی خـواھش ہے اور نفس کـو خـواھش ھـلاکت کی طـرف لے جاتی ھے..
جـب اپنے فــقرے سے یہ دونـوں چـیزیں نکال دو گے تو بـاقی جو بچے گا وہ سکـون ھـوگا
__________________!

کیا جنرل ضیاء ہی مجرم ہے؟

  

کیا جنرل ضیاء ہی مجرم ہے؟

نوٹ:ہمارے ہاں اب یہ روائت بہت جمتی جارہی ہے کہ پاکستان میں پھیلتی اور بڑھتی مذھبی فاشزم کے سوال کو زیر بحث لاتے ہوئے اس کا سارا ملبہ کسی ایک فرد کے زاتی کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے اور یہ کوشش خاص طور پر ایسے قلم کار کرتے ہیں جن کا مقصد اپنے تجزئے میں پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ کی ادارہ جاتی بددیانتیوں،طبقاتی فائدوں اور کینہ پروری کو چھپانا ہوتا ہے اور یہی کام ایک دوسرا طبقہ سیاسی یا عدالتی اسٹبلشمنٹ کا حمائت میں کرتا ہے اور اس طرح سے مذھبی فاشزم کی جو ادارہ جاتی بنیادیں ہوا کرتی ہیں ان کو گول مول اور ابہام پرست ڈسکورس کے تحت دفن کردیا جاتا ہے
ہمارے ہآں نجم سیٹھی ،شیری رحمان،اعجاز حیدر ،رضا رومی ،علی دایان حسن جیسی 70ء اور 80 ء کی دھآئی سے آنے والی لبرل تجزیہ نگاروں کی نسل نے جو گول مول ڈسکورس بنایا تھا اب وہ نئی نسل میں منتقل ہورہا ہے اور اسی گول مول تجزیہ نگاری کی نئی نمآئندگی نجم سیٹھی کے بیٹھے علی سیٹھی کررہے ہیں جنھوں نے نیویارک ثائمز ميں بلاسفیمی لاز کے حوالے سے جو آرٹیکل لکھا وہ بہت سے فکری مغالطوں پر مشتمل ہے اور میں نے جب اس آرٹیکل کو پڑھا تو مجھے لگا کہ مجھے تعمیر پاکستان ویب سائٹ کے اردو سیکشن کے قاری کے لیے اس پر تفصیلی بات کرنی چاہئیے تو میں نے صرف بات کو صحافتی تجزیہ نگاری میں گول مول ڈسکورس کو پروان چڑھانے والوں تک محدود نہیں رکھا اور نہ ہی اپنی بات کو نجم سیٹھی سے علی سیٹھی تک کے مشتبہ جرنلزم تک محدود رکھا ہے بلکہ اس کا دائرہ میں نے پاکستان کی مذھبی سیاسی جماعتوں کے کردار تک بڑھایا ہے
نئی نسل جو ضیاء الحق کے مارشل لاء کے بعد جوان ہوئی ہے اسے فوج کے 5 جولائی 1977ء کو اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کی ریاست کی ڈیپ سٹیٹ بنانے کی پالیسی میں جہادی پراکسی خاص طور پر جہاد کشمیر اور جہاد افغانستان کے شامل ہونے اور پاکستان کے اندر بحانلی جمہوریت کی تحریک کو کچلنے کے لیے کشمیر اور افغانستان کی پراکسی کے اہم کرداروں کو استعمال کرنے اور ان کی سیاسی شراکت داری کو بڑھانے کے پروسس سے ناواقف ہے اور اس پروسس میں کیسے دیوبندی-وہابی مکتبہ فکر سے دیوبندی-وہابی سیاسی فاشسٹ اور دیوبندی-وہابی عسکری فاشسٹ ایمپائر کا جنم ہوا اس بارے میں بھی نوجوان نسل کو معلومات کم ہیں اور دیوبندی  اور وہابی مکاتب فکر کے اندر عسکری اور سیاسی فاشزم کے ایک معیار اور قدر کے طور پر تشکیل پانے اور مستحکم ہونے میں فوج ،انٹیلی جنس اداروں اور فوج کے زیر سایہ 80ء کی دھائی سے سامنے ابھر کر آنے والی سیاسی اشرافیہ کا کس قدر کردار ہے اس حوالے سے بھی گول مول ڈسکورس رکھنے والے پردہ پوشی سے کام لیتے ہیں کیونکہ کسی کو ملٹری اسٹبلشمنٹ کی ناراضگی کا خوف لاحق ہوتا ہے تو کوئی نواز شریف ایںڈ کمپنی کی مراعات اور کرم نوازی سے محروم نہیں ہونا چاہتا اور کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ اگر ملٹری و نازو کے لے پالکوں کے تلوے چاٹ لیے تو دیوبندی-وہابی فاشزم کے عذاب سے بچ جائے گا حالانکہ مذھبی فاشسٹوں کے تلوے چانٹنے والوں کو رضا رومی کے حشر سے سبق سیکھنا جاہئیے
ملٹری اسٹبلشمنٹ 80ء کی دھائی میں مغرب اور سعودیہ عرب کی مدد سے جس مذھبی فاشزم کو پاکستان کے اندر پروان چڑھارہے تھے اس فاشزم کو آگے لیجانے میں خود سنّی بریلوی اور شیعہ کی مذھبی قیادت بھی چند معمولی رشتوں کے ساتھ شامل ہوگئی اور آج وہ اس حوالے سے اپنی قوم کی تباہی کا سارا ملبہ یا تو اکیلے ضیاء الحق پر ڈالتی ہے یا میاں محمد نواز شریف پر جبکہ اس کے پیچھے ملٹری اسٹبلشمنٹ اور خفیہ ایجنیسیاں ان کو نظر نہیں آتیں بلکہ وہ ان کے بطور ایک ٹول کے آج بھی استعمال ہونے کے لیے بے قرار نظر آتے ہیں اور ان کی روش دیکھ کر میر کا یہ شعر یاد آتا ہے
میر بھی کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
پاکستانی نژاد بہت سے روشن خیال ایسے ہیں جو پاکستان کے اندر مذھبی فاشزم اور اس کے ساتھ آنے والی قباحتوں اور وحشتوں کے تناظر کا تجزیہ کرتے ہوئے اسے کسی فرد واحد کے زاتی رجحانات اور زاتی حثیت میں اٹھائے گئے اقدام قرار دیتے ہیں اور اس حوالے سے مبہم اشاروں اور گول مول اصطلاحوں کا بہت استعمال کرتے ہیں
ابھی حال ہی میں نجم سیٹھی کے بیٹے علی سیٹھی نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں ایک آرٹیکل پاکستان میں توھین مذھب کے قوانین کے تحت لوگوں پر مقدمات کی شرح بڑھنے اور مختلف مذھبی گروہوں کے اس کے نشانہ بن جانے کے بارے میں لکھا تو انھوں نے اس حوالے سے جو تجزیہ کیا وہ بہت ناقص ،فکری مغالطوں اور گمراہ کن اصطلاحوں پر مبنی ہے
علی سیٹھی بلاسفیمی قوانین کے حوالے سے سارا الزام جنرل ضیاءالحق کے سر ڈالتے ہیں اور ایسے ظاہر کرتے ہیں کہ جیسے جنرل ضیاء نے یہ فیصلہ اپنی زاتی حثیت میں کیا تھا
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ 5 جولائی 1977ء کو جب جنرل ضیاءالحق نے اقتدار پر قبضہ کیا تو یہ قبضہ جنرل ضیاء نے فوج کے سربراہ کے طور پر کیا تھا اور فوج بطور ادارہ اس فیصلے کے پیچھے کھڑی تھی
جنرل ضیاء الحق نے اس کے بعد 1988ء تک طیارے کریش میں ہلاک ہوجانے تک جو بھی اقدامات کئے وہ فوج کے خیالات اور افکار کی عکاسی کرتے تھے
اسی لیے جنرل ضیاء الحق کی جانب سے پاکستان کے آئین کی مزید دیوبندی-وہابی ریڈیکل آئیڈیالوجی کی طرف جھکاؤ کرنے کا سلسلہ شروع کیا جسے ہم جدید ٹرمنالوجی میں پاکستانی آئین کو مذھبی فاشزم سے ہم آہنگ کرنا کہہ سکتے ہیں تو اس کے پیچھے ان کو پاکستان آرمی کی قیادت کی پوری حمائت حاصل تھی اور میں تو یہ بھی کہتا ہوں کہ اس وقت پنجاب ،سندھ ،خیبرپختون خوا سے جو حلقے جنرل ضیاء الحق کی حمائت کررہے تھے وہ بھی جنرل ضیاء الحق کی جانب سے مذھبی فاشزم کا ایسا ماڈل نافذ کرنے کی کوشش میں بالواسطہ شریک تھے جس کے لیے جنرل ضیاء الحق کو سب سے زیادہ ںظریاتی اور فکری مواد اور ںظریہ ساز دیوبندی اور وہابی مکتبہ فکر سے میسر آئے اگرچہ حدود آرڑیننس کے نفاز میں اس وقت کے دیوبندی ،وہابی لوگوں کے ساتھ جماعت اسلامی ،سنّی بریلوی کے ضیاء الحق کے حامی مولوی اور یہاں تک کہ ایم آر ڈی میں شامل مولوی بھی اس کے حامی تھے
ریکارڈ درست ہونا چاہئیے کہ حدود آرڈیننس میں توھین مذھب ،اینٹی قادیانی ایکٹ میں ترامیم ،قانون شہادت مین تبدیلی ،قانون حد زنا وغیرہ کو سنّی،بریلوی،شیعہ ،دیوبندی ،جماعت اسلامی سب کی مذھبی پیشوائیت نے حمائت دی تھی اور آج بھی یہ پیشوائیت ان قوانین کے نفس مضمون سے اختلاف نہیں کرتی
اور یہ مشترکہ حمائت ویسی ہی تھی جیسے 1974ء میں امتناع قادیانیت ایکٹ کو منظور کرتے وقت دیکھنے کو ملی تھی اس لیے یہ کہنا کہ جنرل ضیاء الحق کے اقدامات سے سنّی سخت گیریت کو فائدہ ہوا جبکہ میرا خیال یہ ہے کہ فوجی اسٹبلشمنٹ کی اس پالیسی سے شیعہ ،سنّی بریلوی،دیوبندی ،وہابی کی مذھبی پیشیوائیت کو زیادہ ترقی کرنے اور گروم کرنے کا موقعہ ملا جبکہ مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو فوجی اسٹبلشمنٹ کی جانب سے پاکستانی آئین کے اندر مذھبی فاشسٹ عناصر کو اور زیادہ کرنے کی پالیسی اور پاکستان کی 1947ء کے بعد سے ریاست کو گہرا کرنے اور اس کو سیکورٹی سٹیٹ بنانے کی پالیسی میں جہادی پراکسی کو ڈالنے اور پنجاب و سندھ میں خاص طور پر بحالی جمہوریت کی تحریک کو کچلنے کے لیے فرقہ وارانہ تشدد کو پروان چڑھانے کی پالیسی نے دیوبندی اور وہابی مکاتب فکر کو زیادہ فائدہ پہنچایا
کیونکہ ایک طرف سعودیہ عرب تو دوسری طرف مغربی بلاک اور تیسیری طرف فوج کی اپنی مقامی ضرورتیں ایسی تھیں کہ جس نے دیوبندی-وہابی آئیڈیالوجی کے ساتھ خود کو بہت زیادہ ہم آہنگ پایا
دیوبندی-وہابی مذھبی فاشسٹ ایمپائر کی عسکری اور سیاسی دونوں جہتوں کی تعمیر پہلے فوج،آئی ایس آئی ،سعودی عرب ،امریکہ و مغربی ممالک نے ملکر کی اور آہستہ آہستہ ہم نے یہ دیکھا کہ ملٹری اسٹبلشمنٹ نے دیوبندی-وہابی عسکریہ اور سیاسی قوتوں کو گود لے لیا اور جب امریکہ و مغرب نے ،چین ،روس ،بھارت سمیت عالمی برادری نے ان سے تعلق توڑنے پر ملٹری اسٹبلشمنٹ کو مجبور کیا تو بھی یہ تعلق ختم کرنے سے انکار کیا گیا
ملٹری اسٹبلشمنٹ کی توجہ اور پشت پناہی سے نہ صرف وہابی اور دیوبندی فاشسسٹ سیاسی پاور کی تعمیر ہوئی بلکہ ہم نے مسلم لیگیوں کے اندر بھی دیوبندی-وہابی فاشزم کو تیزی سے سرایت کرتے دیکھا اور میرے خیال میں نائن الیون کے بعد تو دیوبندی-وہابی فاشسسٹ عناصر پاور پالیٹکس میں اہم ہونے کی وجہ سے یہاں تک ہوا کہ پی پی پی جیسی سیکولر جماعتوں کے اندر بھی شامل ہوئے
میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی ملٹری ،سول نوکر شاہی اور پاکستان کی سیاسی اشرافیہ کا دیوبندی-وہابی مذھبی فاشسٹ عسکری وسیاسی چہروں کے ساتھ اتحاد سٹریٹجک بنیادوں پر استوار ہے اور اس کی جڑیں بہت گہری ہیں اور اس اتحاد میں بہت سے بریلوی اور شیعہ بھی شامل ہیں جو پاکستان میں اپنی کمیونٹی کے حاشیے پر دھکیلے جانے پر بہت شور مچاتے ہیں اور وہ بھی صرف ضیاء الحق اور ضیاءالحقی باقیات کا شور شرابا کرتے ہیں اور یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ پاکستان میں سیکولر جمہوری ترقی پسندانہ ماڈل کی راہ میں سب سے بڑی روکاوٹ ملٹری اسٹبلشمنٹ ہے جو اس روکاوٹ کو برقرار رکھنے کے لیے سب سے زیادہ انحصار وہابی-دیوبندی فاشزم پر کرتی ہے جس کے عسکری اور سیاسی ونگ جب چاہتے ہیں پاکستان کی اکثریت کو اپنا یرغمال بنالیتے ہں لیکن کیا ٹریجڈی نہيں کہ شیعہ اور بریلویوں میں ایسے کرداروں کی کمی نہیں ہے جو ملٹری اسٹبلشمنٹ اور بارودیوں کو الگ الگ کرکے دیکھنے کی غلطی کا ارتکاب کرتی ہے اور وہ سارے اچھے جہادی دیوبندی فاشسٹوں کو فوج کی ٹوکری میں پڑے دیکھنے کے باوجود اپنے انڈے بھی اسی ٹوکری میں ڈال دیتے ہیں
جس طرح بہت سے مذھبی فاشسٹوں نے اپنے چہرے پر جمہوریت اور سویلین بالادستی کا نقاب چڑھا رکھا ہے اور ماضی کے بہت سے امیر المومنین آج سرخیل اینٹی اسٹبلشمنٹ بنے بیٹھے ہیں اور بہت سی دیوبندی-وہابی تںطیموں نے خود کو سول سوسائٹی کا درجہ دے رکھا ہے اسی طرح سے ملٹری اسٹبلشمنٹ کی جانب سے خود کو دھشت گردی کا سب سے بڑی مخالف اور انتہا پسندی کے خلاف مزاحمت کرنے والا واحد منظم ادارہ ظاہر کیا جارہا ہے اور ہمارے بہت سے لوگ اس فریب کا شکار ہیں
اس فریب میں ان کو مبتلا کرنے میں نجم سیٹھی،علی سیٹھی،شیری رحمان ،اعجاز حیدر ،رضا رومی سمیت بہت سے جعلی لبرل اور فیک روشن خیال دانشوروں اور صحافی تجزیہ نگاروں کا بہت ہاتھ ہے
جس طرح بہت سے تجزیہ نگار مسٹر نواز شریف اینڈ کمپنی کو ملٹری اسٹبلشمنٹ بالادستی کا سب سے بڑا مخالف اور جمہوریت کا سورما ثابت کرنے پر تلے ہیں ویسے ہی بہت سے تجزیہ نگار ملٹری اسٹبلشمنٹ کو پاکستان کی امن پسند،اعتدال پسند عوام کا نجات دھندہ بناکر دکھانے کی کوشش کررہے ہیں اور پاکستان کی اسٹبلشمنٹ کے دو دھڑوں کی پاور پر لڑائی کو آزادی و غلامی کی لڑائی بناکر دکھانے کی کوشش ہورہی ہے جس سے اس ملک میں مذھبی فاشزم کے خلاف جنگ نہيں جیتی جاسکتی
ہمیں یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں مذھبی سنٹر رائٹ بریلوی اور سنٹر رائٹ شیعہ مذھبی سیاسی قیادت نے پاکستان بننے کے بعد سے لیکر اب تک فوجی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ سٹریٹجک پارٹنرشپ کی اگرچہ اس کے اندر دیوبندی-وہابی مذھبی سنٹر رآئٹ کو پاور کوریڈور میں زیادا توجہ ملنے پر اعتراض اور شکایت رہی لیکن یہ شکائت اور اعتراض آگے بڑھکر کبھی بھی بغاوت میں نہیں بدلا جبکہ شیعہ سنٹر رآئٹ اور بریلوی سنٹر رائٹ کا پنجاب میں نواز شریف سے دور ہونا اور سندھ میں پی پی پی اور ایم کیو ایم سے دوری اور خیبرپختون خوا میں اے این پی سے دوری اور جوڈیشری کی اسٹبلشمنٹ سے ناراضگی کے اسباب حقیقی ہیں لیکن اس سے ہٹ کر انھوں نے جو ملٹری کی ٹوکری میں اپنے انڈے ڈالے ہیں اور ساتھ ہی ان کی قربتیں جماعت اسلامی ،تحریک انصاف سے نظر آتی ہیں تو یہ تو آسمان سے گرکر کجھور میں اٹکنے کے مترادف ہے اور فوج سے ان کی سٹریٹجک پارٹنر شپ بہت سے شکوک پیدا کررہی ہے
جبکہ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی پنجابی اکثریت کی حامل جو عسکری ،سیاسی اور معاشی سامراجیت ہے اس کی جانب سے محکوم نسلی،لسانی قومیتی گروہوں کو کچلنے اور ان پر جو زبردست جبر کیا جارہا ہے جس میں پاکستانی ریاست فضائیہ تک کا استعمال کررہی ہے کی پاکستان کی شیعہ اور بریلوی برادریوں کی نمائندہ مذھبی سیاسی جماعتوں (جیسے ایم ڈبلیو ایم،تحریک جعفریہ،سنّی اتحاد کونسل،پاکستان سنّی تحریک ،جماعت اہل سنت ،اے ٹی آئی جن کی بنیاد زیادہ تر پنجابی اور اردو بولنے والے حلقوں میں ہے)کی جانب سے حمائت بھی وہی غلطی ہے جو بنگالیوں کے خلاف فوج کشی کرتے وقت فوج کا ساتھ دیکر دوھرائی گئی تھی یا ایم آر ڈی کی تحریک کو کچلنے کے سندھ پر فوج کشی کی حمائت کے وقت دوھرائی گئی تھی
ایرانی انقلاب کی قیادت اور آج اس کی باقیات بھی پاکستان میں جماعت اسلامی ،جے یوآئی س و ف وغیرہ کو جس طرح سے اپنا سرکاری مہمان بناتی رہی اور پاکستان میں اپنے زیر اثر شیعہ تںظیموں کو دیوبندی-وہابی فاشسٹوں سے موقعہ پرستانہ اتحاد اور اشتراک بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا رہی ہے جس سے بار بار پاکستان میں مذھبی فاشزم کو تقویت ملی اور ہر مرتبہ مذھبی فاشزم جس کی سب سے طاقتور ایجنسی دیوبندیت اور وہابیت کے اندر ہے کو نئی زندگی ملتی رہی ہے

Tuesday, 3 June 2014

منصور بن عمار بصری

منصور بن عمار بصری
ایک شرابی کے ہاں ہر وقت شراب کا دَور رہتا تھا

ایک مرتبہ اس کے دوست احباب جمع تھے شراب تیار تھی اس نے اپنے غلام کو چار درہم دیے کہ شراب پینے سے پہلے دوستوں کو کھلانے کے لیے کچھ پھل خرید کر لائے.
وہ غلام بازار جا رہا تھا کہ راستے میں حضرت منصور بن عمار بصری رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس پر گزر ہوا وہ کسی فقیر کے واسطےلوگوں سے کچھ مانگ رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ
"جو شخص اس فقیر کو چار درہم دے میں اس کو چار دعائیں دوں گا"
اس غلام نے وہ چاروں درہم اس فقیر کو دے دیے.
حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا, بتا کیا دعائیں چاہتا ہے...؟
غلام نے کہا میرا ایک آقا ہے میں اس سے خلاصی چاہتا ہوں.
حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے دعا فرمائی اور پوچھا دوسری دعا کیا چاہتا ہے...؟
غلام نے کہا مجھے ان درہموں کا بدل مل جائے.
حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی بھی دعا کی پھر پوچھا تیسری دعا کیا ہے...؟
غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میرے سردار کو توبہ کی توفیق دے اور اس کی دعا قبول کرے.
آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی بھی دعا کی پھر پوچھا چوتھی دعا کیا ہے...؟
غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میری, میرے سردار کی, تمہاری اور یہاں مجمعے میں موجود ہر شخص کی مغفرت کرے.
حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی یہ بھی دعا کی.
اس کے بعد وہ غلام خالی ہاتھ اپنے سردار کے پاس واپس چلا گیا.
سردار اسی کے انتظار میں تھا. دیکھ کر کہنے لگا " اتنی دیر لگا دی...؟
غلام نے قصہ سنایا. سردار نے ان دعاؤں کی برکت سے بجائے غصہ ہونے اور مارنے کے یہ پوچھا کہ کیا کیا دعائیں کرائیں...؟
غلام نے کہا پہلی تو یہ کہ میں غلامی سے آزاد ہو جاؤں.....
سردار نے کہا میں نے تجھے آزاد کر دیا,دوسری کیا تھی...؟
غلام نے کہا مجھے ان درہموں کا بدلہ مل جائے.....
سردار نے کہا میری طرف سے تمہیں چار ہزار درہم نذر ہیں,تیسری کیا تھی....؟
غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ تمہیں شراب وغیرہ فسق و فجور سے توبہ کی توفیق دے....
سردار نے کہا میں نے اپنے سب گناہوں سے توبہ کر لی, چوتھی کیا تھی....؟
غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میری,آپ کی, ان بزرگ کی اور سارے مجمع کی مغفرت فرما دے....
سردار نے کہا کہ یہ میرے اختیار میں نہیں ہے....
رات کو سردار کو خواب میں ایک آواز سنائی دی.....
جب تو نے وہ تینوں کام کر دیے جو تیرے اختیار میں تھے تو کیا تیرا یہ خیال ہے کہ اللہ وہ کام نہیں کرے گا جس پر وہ قادر ہے....؟
اللہ نے تیری, اس غلام کی, منصور کی, اور اس سارے مجمعے کی مغفرت کر دی ہے....
اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ صدقہ باعث نجات بھی ہے اللہ پاک ہم سب کو صدقہ کرنے اور اپنی زندگی کو عین اسلام کے مطابق بسر کرنے کی اور جو ہم سے گناہ ہو گئے ہیں ان کی معافی مانگنے کی توفیق دے......
آمین

Monday, 2 June 2014

امیر خطاب کی معرکہ آرائیاں Khitab from Chechania

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للّٰہ رب العالمین والصلاة والسلام علیٰ رسول الکریم امابعد!
محترم اہلیان اسلام آج ہمارے پڑوس افغانستان میں عالمی کفر کی افواج موجود ہیں اور امریکی قبضے کو مستحکم بنائے ہوئے ہیں امارت اسلامیہ افغانستان پر نیٹو ایساف وغیرہ کے قالب میں کیا جانے والا صلیبی حملہ، امریکہ کی طرف سے اسلام پر مسلط کردہ جنگ کا اہم ترین محاذ ہے۔ اس لئے کہ اسلام کی محبت، شریعت کا نفاذ اور عالم اسلام کی مہاجرین کی مسلمانان خراسان کے وہ جرائم ہیں جو عالمی کفر کی ہزیمت کا سامان بن گئے۔ امریکہ اور برطانیہ سمیت کل٣٦ کے قریب ممالک جو نیٹو اور اس کے اتحادی ہیں۔ افغانستان پر امریکی قبضے میں شریک ہیں۔
قابل غور بات یہ ہے کہ افغانستان کے علاوہ ہمارے وہ مسلمان ممالک جہاں ظلم ودہشت گردی کا راج ان ممالک میں موجوں ہے، وہاں مرد حکمران بھی ہیں، انجینئر، ڈاکٹرز اور کسان بھی۔ ان مسلم ممالک میں کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ لڑنے کے لئے مرد نہیں لیکن کمی ہے تو تربیت کی عقیدہ وفکر کی اس سوچ کی جو ہمارے اسلاف میں موجود تھی اس لئے ہم میں مردوں کی تعداد بہت ہے جیسا کہ نبیۖ نے فرمایا:
''الناس کابل مئة لا تجد فیھا داحلة''
ترجمہ: ''لوگوں کی مثال ان سو اونٹوں کی مانند ہے جن میں سواری کے قابل کوئی بھی نہیں۔''
اس لئے مرد تو ہیں لیکن ان میں عمر، طلحہ اور زبیر کوئی نہیں خالد بن ولید کوئی نہیں کوئی صلاح الدین ایوبی نہیں، محمد بن قاسم کوئی نہیں نورالدین زنگی نہیں کوئی ٹیپو سلطان نہیں۔
قوموں کا مستقبل نوجوانوں سے وابستہ ہوتا ہے پچھلی ایک دو صدیوں میں یہ مشاہدہ ہوا کہ نوجوانوں کی اکثریت بالخصوص اور عالم مسلمان بالعموم جہاد جیسے اہم فریضے سے غافل ہیں مسلمانوں کے سامنے ان کی عزت لٹ گئی لیکن کسی کی عزت کی موت مرنے کے لئے آواز تک نکالنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ یہ ہندوکش سے خون بہہ رہا ہے ہمالیہ بلند چوٹیوں سے نالے ابل رہے ہیں جو لان کی پہاڑیوں پہ ظلمت کا سایہ ہے قفقاز کی وادی میں موت کا سناٹا ہے اور مسجد اقصیٰ سے رونے کی آوازیں آتی ہیں ان سب کا سبب کیا تھا؟ وہ کونسی چیز ہے جو ہم میں سے نکل گئی کون کون اس ذلت وپستی کا ذمہ دار ہے؟
آج اس ہولناک اور ظلم وبربریت کے دور میں میدان لہو مانگ رہے ہیں امت اسلام کی بہو بیٹیوں کی عظمت نیلام ہو رہی ہیں، نوجوانوں کو ذبح کیا جا رہا ہے، بوڑھے قتل ہو رہے ہیں، شیر خوار بچوں کے سامنے ان کی مائوں کی چھاتیاں کاٹ دی گئیں کے ہاتھو ں سے بچے لے کر چیر دئیے گئے ہیں ہماری بہنیں قتل گاہوں کی طرف لے جائی جا رہی ہیں۔
مسلمانوں کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے آج کے دور میں عرب وعجم کے نوجوان مجاہدین جنہوں نے اللہ عزوجل کا نام لے کر پہاڑوں سے ٹکرانا طے کیا، انہی عرب مجاہدین کی صف اول میں ایک بہت محبوب، محترم اور روشن ترین نام عبداللہ عزام شہید کا ہے اللہ ان کی روح کو راضی کرے کہ انوں نے جو ولولہ اور روح عالم اسلام میں پیدا کردی اسے سن کر اور پڑھ کر عرب وعجم نے اپنے جگر گوشے اس جہاد کے سپرد کردئیے شیخ نے ایسی ہزاروں لاکھوں آوارہ جوانیوں کو عظمت وعزیمت کے راستوں پر لگایا زندگی پر عزت کی موت کو ترجیح دینے کا درس دیا اور بیلوں کو ہاتھیوں سے ٹکرانے کا حصلہ دیا انہی نوجوانوں میں جو شیخ عبداللہ عزام شہید کی شخصیت اور نظریہ سے متاثر ہوئے امیر خطاب جو عرب کے نوجوان مجاہدہیں انہوں نے اپنی زندگی اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے وقف کردی اپنے جان ومال سے اللہ کی راہ میں بیشمار قربانیاں دیں روس کے خلاف افغانستان میں مجاہدین کے ساتھ مل ایسی سپر پاور کو شکست دی افغانستان کے کہساروں اور تاجکستان میں مجاہدین کی بیداری کی تحریک میں شامل رہ کر جہادی اور عسکری تربیت حاصل کی بالآخر اللہ کے حکم سے
شیشان یعنی چیچنیا اور داغستانع کے علاقوں میں روسی ریچھوں کے خلاف برسر پیکار رہے اور مختلف محاذوں پر کامیابیاں حاصل کیں روس کے خلاف جن عرب مجاہدین کے گروپوں نے میدان رزار کو گرم رکھا ان میں امیر خطاب نے چیچنیا اور داغستان کے محاذوں پر جو معرکہ آرائیاں انجام دیں وہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہیں۔
مشکل کی اس گھڑی میں مبارک ہیں وہ لوگ جو اپنوں کی بے اعتنائی کے باوجود اسلام اور مسلم سرزمینوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ ملازمت کرنے والوں کی ملازمت سے بے پرواہ اپنے سروں کی فصلیں کٹائے جا رہے ہیں امت کو ذلت کے گڑھے سے نکالنے کے لئے خود اپنی توہین برداشت کر رہے ہیں، دنیاوی زندگی کے ان جھمیلوں، قبر کی تنگ وتاریک کوٹھڑیوں اور قیامت کی ہولناکیوں میں اللہ کی معیت ان کے ساتھ فرشتے ان کے دوست ہیں ان شاء اللہ اور یہ سب مشقتیںدنیا وآخرت میں ان کے خوب کام آئیں گی کیونکہ یہی تو وہ لوگ ہیں جو سب سے بڑھ کر اپنے مالک کی رحمت کے امیدوار ہیں۔
ترجمہ: ''بے شک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں لڑے وہ اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔''
اللہ ربّ ذوالجلال عرب انصار کے مجاہدین جو چیچنیا کے محاذ پر شہید ہوئے اور ان کے علاوہ جہاں کہیں بھی مسلم نوجوان اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے کوشاں ہیں اور جام شہادت نوش فرما چکے ہیں ان کی قربانیوں کو قبول فرمائے ان کے لواحقین اور ورثاء کو صبرِ جمیل عطاء فرمائے(آمین ثم آمین)
والسّلام
ابو رافع
بسم اللہ الرحمن الرحیم
امیر خطاب کی معرکہ آرائیاں
الحمد للہ رب العلمین!
ہماری یہ نشست چیچنیا میں جنگجو گروپوں کے فیلڈ کمانڈر امیر ابن الخطاب کے ساتھ ہے۔ ہماری یہ نشست جہاد کی ایک مشہور ومعروف شخصیت کے ساتھ ہوگی ۔ ہم پر امید ہیں کہ اس نشست میں ہم ابن الخطاب کی شخصیت کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جان پائیں گے۔
الخطاب ان رہنمائوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے جہاد، وقار اور عظمتوں کے میدانوں میں اپنا نام پیدا کیا۔ انہوں نے جہاد افغانستان میں شرکت کی اور تاجکستان کے جہاد میں اہم کردار ادا کیا۔ 1994 میں وہ اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کیلئے چیچنیا آیا جب سرخ فوج نے چیچنیا پر یلغار کی تھی۔ انہوں نے چیچنیا کی پہلی جنگ میں بڑا زبردست کردار ادا کیا۔ اس نے جو جنگی کاروائیاں اور حکمت عملی جنگ کے دوران اپنائی ان کے نتائج دنیا کے سامنے آئے اور ہر طرف کامیابیوں کی داستانیں سنی گئیں جس سے روسیوں کو مؤثر طریقے سے شکست ہوئی اور چیچنیا سے روسی فوجوں کو نکلنا پڑا۔ آج وہ چیچنیا میں جو واقعات پیش آئے ان کے متعلق تفصیل سے بات کریں گے۔ آج کی اس نشست میں وہ پہلی جنگ کے آغاز سے لے کرآج تک جو بھی واقعات پیش آئے ہیں اس کے متعلق بات کریں گے لہٰذا ہم ان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنی بات کا آغاز کریں۔ جزاھم اللہ خیراً۔