سائنس دانوں کو ایک اور دنیا مل گئی
اس نئی دنیا کا نام تھیا ہے جو کے یونان کی ایک دیوی ہے
سائنس دانوں کو ایک ایسی نئی دنیا کا پتہ چلا ہے جو اربوں سال قبل زمین سے ٹکرائی تھی جس کے نتیجے میں چاند وجود میں آیا۔
سائنس جرنل میں چھپنے والی یہ نئی تحقیق خلائی طیارے اپولو کے خلابازوں کی مدد سے مکمل کی گئی جو اپنے حالیہ سفر کے بعد چاند پر سے ایک پتھر لے کر آئے۔ جس کا سائنسدانوں نے تفصیلی جائزہ لیا۔
اس نئی دنیا کو اب یونانی دیوی ’تھیا‘ کے نام سے جانا جاتا ہے جو ایک یونانی دیوی سیلین ماں تھی سیلین یونانی دیو مالا میں چاند کی دیوی ہے۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ’تھیا‘ کا ٹکراؤ جب زمین سے ہوا تو اس کے نتیجے میں وہ بکھر گئی جس کے بعد اس ملبے نے زمین کے بکھرے ہوئے ملبے کے ساتھ جڑ کر چاند کی شکل اختیار کی۔
یاد رہے کہ سائنسدانوں کا ’تھیا‘ کہ بارے میں 1980 سے یہی نظریہ تھا لیکن انھیں اس کو ثابت کرنے کہ لیے کوئی ٹھوس ثبوت حاصل نہیں ہوا تھا، تاہم اس نئے پتھر کی تحقیق سے سائنسدانوں کے اس نظریے کو ثبوت میسر آ گیا۔
جرمن یونیورسٹی گوئیٹنجن کے پروفیسر ڈاکٹر ڈینیل ہرواٹز کا کہنا ہے کہ سائنسدانوں کا تھیا کے وجود کے بارے میں نظریہ شکوک کا شکار تھا اور بہت سے نئے سائنسدانوں نے اس نظریے کی صداقت کے بارے میں بھی سوال اٹھانا شروع کر دیے تھے۔
معروف برطانوی یونورسٹی آکسفرڈ کے پروفیسر ایلکس ہالیڈے اس نئی تحقیق سے حیران رہ گئے ہیں۔
پروفیسر ہالیڈے کے مطابق بہت سے سائنس دانوں نے پہلے بھی چاند سےلائے گئے بہت سے پتھروں کا معائنہ کیا تھا لیکن اب تک کچھ حاصل نہیں ہوا تھا۔ جبکہ اس نئے پتھر کا معائنہ کرنے کے بعد اس میں اور پرانے پتھروں میں کچھ زیادہ فرق دیکھنے کو نہیں ملا۔
’تھیا‘ کے وجود کے بارے میں سائنسدانوں کا خیال ہے کہ وہ ایلینز یا خلائی مخلوق کی طرف سے بنائی گئی تھی۔اس نئی تحقیق سے سائنسدانوں کا خلائی مخلوق کے بارے میں نظریہ اور بھی پختہ اور یقینی ہوگیا ہے۔
سائنس جرنل میں چھپنے والی یہ نئی تحقیق خلائی طیارے اپولو کے خلابازوں کی مدد سے مکمل کی گئی جو اپنے حالیہ سفر کے بعد چاند پر سے ایک پتھر لے کر آئے۔ جس کا سائنسدانوں نے تفصیلی جائزہ لیا۔
اس نئی دنیا کو اب یونانی دیوی ’تھیا‘ کے نام سے جانا جاتا ہے جو ایک یونانی دیوی سیلین ماں تھی سیلین یونانی دیو مالا میں چاند کی دیوی ہے۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ’تھیا‘ کا ٹکراؤ جب زمین سے ہوا تو اس کے نتیجے میں وہ بکھر گئی جس کے بعد اس ملبے نے زمین کے بکھرے ہوئے ملبے کے ساتھ جڑ کر چاند کی شکل اختیار کی۔
یاد رہے کہ سائنسدانوں کا ’تھیا‘ کہ بارے میں 1980 سے یہی نظریہ تھا لیکن انھیں اس کو ثابت کرنے کہ لیے کوئی ٹھوس ثبوت حاصل نہیں ہوا تھا، تاہم اس نئے پتھر کی تحقیق سے سائنسدانوں کے اس نظریے کو ثبوت میسر آ گیا۔
جرمن یونیورسٹی گوئیٹنجن کے پروفیسر ڈاکٹر ڈینیل ہرواٹز کا کہنا ہے کہ سائنسدانوں کا تھیا کے وجود کے بارے میں نظریہ شکوک کا شکار تھا اور بہت سے نئے سائنسدانوں نے اس نظریے کی صداقت کے بارے میں بھی سوال اٹھانا شروع کر دیے تھے۔
معروف برطانوی یونورسٹی آکسفرڈ کے پروفیسر ایلکس ہالیڈے اس نئی تحقیق سے حیران رہ گئے ہیں۔
پروفیسر ہالیڈے کے مطابق بہت سے سائنس دانوں نے پہلے بھی چاند سےلائے گئے بہت سے پتھروں کا معائنہ کیا تھا لیکن اب تک کچھ حاصل نہیں ہوا تھا۔ جبکہ اس نئے پتھر کا معائنہ کرنے کے بعد اس میں اور پرانے پتھروں میں کچھ زیادہ فرق دیکھنے کو نہیں ملا۔
’تھیا‘ کے وجود کے بارے میں سائنسدانوں کا خیال ہے کہ وہ ایلینز یا خلائی مخلوق کی طرف سے بنائی گئی تھی۔اس نئی تحقیق سے سائنسدانوں کا خلائی مخلوق کے بارے میں نظریہ اور بھی پختہ اور یقینی ہوگیا ہے۔
No comments:
Post a Comment