Pages

Saturday, 7 June 2014

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ

اسلام کے بعد ہجرت کا شرف حاصل کیا ،اکثر مہاجرین نے مع بال بچوں کے ہجرت کی تھی؛لیکن سلمہ نے راہ اللہ میں بال بچوں کو بھی چھوڑ کر مدینہ کی غربت اختیار کی۔

مدینہ آنے کے بعد قریب قریب تمام غزوات میں شریک رہے، سب سے پہلے غزوۂ حدیبیہ میں شریک ہوئے اورخلعت امتیاز حاصل کیا، صلح حدیبیہ کے سلسلہ میں بیعت رضوان کو تاریخ اسلام میں خاص اہمیت حاصل ہے،جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمانؓ کی شہادت کی خبر سن کر مسلمانوں سے موت پر بیعت لینا شروع کی تو سلمہؓ نے تین مرتبہ بیعت کی،پہلی مرتبہ سب سے اول جماعت کے ساتھ بیعت کرچکے تھے دوبارہ آنحضرتﷺ کی نظر پڑی تو فرمایا سلمہ بیعت کرو ،عرض کیا: یا رسول اللہ جاں نثار پہلے ہی بیعت کرچکا ہے،فرمایا کیا ہرج ہے دوبارہ سہی، اس وقت سلمہؓ نہتے تھے،آنحضرتﷺ نے ایک ڈھال عنایت فرمائی،تیسری مرتبہ آنحضرتﷺ کی نظر پڑی تو فرمایا کہ سلمہؓ!بیعت نہ کروگے؟ عرض کیا یا رسول اللہ! دو مرتبہ بیعت کرچکا ہوں فرمایا تیسری مرتبہ سہی ؛چنانچہ انہوں نے سہ بارہ بیعت کی،آنحضرتﷺ نے پوچھا سلمہؓ !ڈھال کیا کی؟ عرض کیا کہ میرے چچا بالکل خالی ہاتھ تھے،ان کو دیدی ،آپ نے ہنس کر فرمایا تمہاری مثال اس شخص کی سی ہے کہ اس نے دعا کی کہ خدایا! مجھ کو ایسا دوست دے جو مجھ کو اپنی جان سے زیادہ عزیز ہو، ابھی بیعت کا سلسلہ جاری تھا کہ اہل مکہ اورمسلمانوں کے درمیان صلح ہوگئی اور لوگ مطمئن ہوکر ایک دوسرے سے ملنے جلنے لگے، سلمہؓ بھی ایک درخت کے نیچے لیٹ رہے،اتنے میں چار مشرکین آئے اوران کے قریب بیٹھ گئے آنحضرتﷺ کے بارے میں ایسی باتیں کرنے لگے جو ان کو ناگوار ہوئیں، یہ اُٹھ کر دوسرے درخت کے نیچے چلے گئے،ان کے جانے کے بعد چاروں ہتھیار اتار کر اطمینان سے لیٹ گئے، ابھی لیٹے ہی تھے کہ کسی نے نعرہ لگایا، مہاجرین دوڑنا ابن زنیم قتل کردیے گئے،آوازسن کر سلمہؓ نے ہتھیار سنبھال لیے اورمشرکوں کی طرف لپکے ،یہ سب سورہے تھے،سلمہؓ نے ان کے اسلحہ پر قبضہ کرکے ان سے کہا خیر اسی میں ہے کہ سیدھے میرے ساتھ چلے چلو، خدا کی قسم جس نے سر اٹھایا، اس کی آنکھیں پھوڑدوں گا، چنانچہ ان سب کو کشاں کشاں لاکر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کیا، ان کے چچا عامربھی ستراکہتر مشرک گرفتار کرکے لائے تھے؛لیکن رحمت عالم نے سب کو چھوڑدیا ،اس پریہ آیت نازل ہوئی:
وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ
(الفتح:۲۴)

اور وہ خدا ہی تھا،جس نے عین مکہ میں تم کو کافروں پر فتحیاب کرنے کے بعد ان کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک دیا۔

مسلمانوں کا قافلہ مدینہ سے واپسی میں ایک پہاڑ کے قریب خیمہ زن ہوا،مشرکین کی نیت کچھ بد تھی، آنحضرت ﷺ کو اس کی اطلاع ہوگئی اور پڑاؤ کی نگرانی کی ضرورت محسوس ہوئی؛چنانچہ آپ نے اس شخص کے لیے دعائے مغفرت کی جو پہاڑ پر چڑھ کر نگرانی کرے، سلمہؓ نے یہ سعادت حاصل کی اور رات بھر میں کئی مرتبہ پہاڑی پر چڑھ کر آہٹ لیتے رہے۔
(مسلم:۲/۹۸،۹۹،مطبوعہ مصر)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اونٹ ذی قروہ کی چراگاہ میں چرتے تھے،ان کو بنو غطفان ہنکالے گئے،سلمہؓ بن اکوع طلوع رضی اللہ عنہ فجر کے قبل گھر سے نکلے،تو حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کے غلام نے ان سے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ لٹ گئے، پوچھا کس نے لوٹا ،کہا بنوغطفان نے ،یہ سن کر آپ نے اس زورکا نعرہ لگایا کہ مدینہ کے اس سرے سے اس سرے تک آواز گونج گئی اور تن تنہا ڈاکؤں کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے وہ پانی کی تلاش کررہے تھے کہ سلمہؓ پہنچ گئے، یہ بڑے قادر انداز تھے، تاک تاک کر تیر برسانا شروع کردیے، تیر برساتے جاتے تھے اوریہ رجز پڑھتے جاتے تھے۔

انا ابن الاکوع الیوم یوم الرضع

میں اکوع کا بیٹا ہوں آج کا دن سخت جنگ کا دن ہے

اور اس قدر تیر باری کی کہ ڈاکؤں کو اونٹ چھوڑ کر بھاگ جانا پڑا،اوربدحواسی میں اپنی چادریں بھی چھوڑ گئے،اس درمیان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی لوگوں کو لے کر پہنچ گئے،سلمہؓ نے عرض کیا،یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے ان لوگوں کو پانی نہیں پینے دیا ہے،اگر ابھی ان کا تعاقب کیا جائے تو مل جائیں گے؛لیکن رحمت عالمؓ نے فرمایاکہ قابو پانے کے بعد درگذر کرو۔
(بخاری،جلد۲،کتاب المغازی باب غزوۂ ذی قروہ اورمسلم ،جلد۲،حوالہ مذکور)

اس کے بعد ہی خیبر کی مہم میں داد شجاعت دی، فتح خیبر کے بعد اس شان سے لوٹے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں ہاتھ دیے ہوئےتھے

No comments:

Post a Comment