Pages

Saturday, 7 June 2014

حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی تقلید پر فخرکرنے والے

حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی تقلید پر فخر کرنے والے. ... ....................ذرا سوچیں !!!

امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو خلیفہ ابو جعفرمنصور’’ قاضی القضاۃ ‘‘(چیف جسٹس)بنانے کی بار بار کوشش کی مگر آپ نے ہمیشہ انکار کیا۔اسی حوالے سے مولانا عاصم عمردامت برکاتہم اپنی معرکۃ الآراء کتاب ’’امام مہدی کے دوست اور دشمن ‘‘میں رقم طراز ہیں:
’’وہی امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ جن کے ہم نام لیوا ہیں………ہمارادعویٰ ہے کہ ہم ان کی تقلید کرتے ہیں ………ان کے مناقب ،ان کے فضائل اور ان کے مسائل پڑھتے پڑھاتے ساری زندگی گزرجاتی ہے ………پر کاش!کبھی سوچا ہوتاآخر کیا چیز تھی………کیا دردتھا .کیسی کڑھن تھی کہ بڑھاپے میں ’’حلقہ ٔمریداں‘‘کے بجائے قید تنہائی کو اختیار کیا ………آپ نے کیسا فقہ پڑھاتھا جس نے کسی تاویل یا فقہی جزیہ کا سہارا نہیں لیا اور آخری عمر شاگردوں کے جلو میں گذارنے کے بجائے ،زندان کی بھٹی میں جھونک دیئے ………مسندِ درس کی اہمیت بھی ’’مصلحت و حکمت‘‘کا لبادہ اوڑھ کر سامنے آئی ہوگی اور سمجھانے کی کوشش کی ہوگی کہ خلیفۂ وقت کے خلاف خروج کو کس طرح جائز قرار دیتے ہیں ،یا یہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائی ہے آپ فقہ پڑھاتے رہئیے اورخاموش ہوجائیے ،عہدہ قبول کرنے میں کیا حرج ہے ………وہ بھی اسلامی خلافت کا عہدہِ قضاء ………لیکن ثابت (نعمان ابن ثابت)کے فرزند کے قدم ثابت ہی رہے۔ ایک بار جو ’’نہ ‘‘نکلی ………سو نکلی ………جان سے گزرگئے لیکن ’’نہ ‘‘کو ’’ہاں‘‘میں تبدیل نہ کیاجاسکا۔
یہ بات قابل غور ہے کہ آپ کا رویہ ایسے دور میں تھا جو خیر القرون میں شمار ہوتا ہے ۔خلافت قائم ہے ،ہر طرف اسلام کا بول بالا ہے ،اسلامی حدود جاری وساری ہیں ،مسلمانوں کی جان ومال ،عزت وآبروکو کافروں سے کوئی خطرہ نہیں ہے………اور خلیفہ بھی آج کے حکمرانوں سے کروڑوں درجہ اچھا ،جس نے نہ اقامتِ صلوۃ کو معطل کیا ہے نہ اقامت جہاد………تصور کیجئے اگر امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو علم ہوجائے کہ ان کے نام لیوا کافروں کی غلامی میں رہتے ہیں .ان کی فقہ سے یہود ونصاریٰ اور ہندوؤں کی اطاعت کے جواز نکالتے ہیں………پھر اس پر فخر بھی کرتے ہیں کہ وہ دین کی بڑی خدمت کررہے ہیں، قیامت کے دن اگر ہماراگریبان پکڑ لیا تو کیا ہوگا؟جس امام کو قرونِ اولیٰ کے حکمران باطل نظر آئے اور ان کے خلاف جہا د کرنے والوں کا عملی ساتھ دیا ،اگر ان کو پتہ چلے کہ ان کی تقلید کرنے والے ہندوستان میں ہندوؤں کی غلامی پر راضی ہیں ،ان کی تقلید کرنے والے (دار الحرب)امریکہ و برطانیہ میں رہائش اختیار کرتے ہیں اور جہاد نہیں کرتے ،اور وہ بھی ہیں جنھوں نے ’’طواغیت‘‘کو اپنا امیر ’’تسلیم ‘‘ کرلیا ہے اور ان کے خلاف خروج کو ناجائز کہتے ہیں۔اللہ کے دشمنوں کی مدد کرنے والوں کے حق میں امام صاحب کے فقہ سے دلائل لاتے ہیں۔
اے امام ابوحنیفہ کی تقلید کرنے والو!کبھی سوچا ہے کہ قیامت میں ان نفوس قدسیہ کو کس طرح سامنا کروگے۔امریکہ کی اطاعت پر راضی رہنا ………اسلام کے خلاف چھیڑی گئی جنگ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺکے دشمنوں کی صف میں کھڑا ہونا ………کیا تاویلات کا سہارا لے کر ایسے (عظیم)شخص سے بحث کی جاسکے گی جن کے فقہی اسرار ورموز کی دنیا معترف ہے۔پھر ایک بارپڑھیئے………اور دل کی آنکھیں کھول کر پڑھیئے………امام اعظم ابو حنیفہ کا جنازہ جیل سے نکلا ………کوڑے کھائے اور سخت اذیتیں سہہ سہہ کر اپنے محبوب حقیقی سے جاملے۔زمین وآسمان کی وسعتوں کے براب اللہ کی رحمتیں ہوں نعمان ابن ثابت ،ابو حنیفہ پر جنہوں نے اپنی زندگی قربان کرکے شریعت کی آبروکی حفاظت کی ۔آمین

No comments:

Post a Comment