Pages

Sunday, 13 April 2014

حضرت سلیما ن عليه السلام اور مینڈ ک

اللہ کی قدرت کا کرشمہ
ایک مرتبہ حضرت سلیما ن عليه السلام نہر کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کی نگاہ ایک چیونٹی پر پڑی جو گیہوں کا ایک دانہ لے کر نہر کی طرف جارہی تھی _
حضرت سلیما ن عليه السلام اس کو بہت غور سے دیکھنے لگے ، جب چیونٹی پانی سے نکلی تواچانک ایک مینڈ ک اپنا سر پانی سے نکالا اور اپنا منھ کھولا تو یہ چیونٹی اپنے دانہ کے ساتھ اس کے منھ میں چلی گئی، میڈک پانی میں داخل ہو گیا اور پانی ہی م...یں بہت دیر تک رہا _
سلیمان ں اس کو بہت غور سے دیکھتے رہے ،ذرا ہی دیر میں مینڈک پانی سے نکلا اور اپنا منھ کھولا تو چیونٹی باہر نکلی البتہ اس کے ساتھ دانہ نہ تھا۔
حضرت سلیمان عليه السلام نے ا س کو بلا کر معلوم کیا کہ ”ماجرہ کیا تھا اور وہ کہاں گئی تھی“ اس نے بتایا کہ اے اللہ کے نبی آپ جو سمندر کی تہہ میں ایک بڑا کھو کھلا پتھر دیکھ رہے ہیں ، اس کے اندر بہت سے اندھے کیڑے مکوڑے ہیں، اللہ تعالی نے ان کو وہاں پر پیدا کیا ہے، وہ وہا ں سے روزی تلاش کرنے کے لیے نہیں نکل سکتے‘ اللہ تعالی نے مجھے اس کی روزی کا وکیل بنایا ہے ، میں اس کی روزی کو اٹھا کر لے جاتی ہو ں اور اللہ نے اس مینڈک کو میرے لیے مسخر کیا ہے تاکہ وہ مجھے لے کر جائے ، اس کے منھ میں ہونے کی وجہ سے پانی مجھے نقصان نہیں پہنچاتا، وہ اپنا منھ بند پتھر کے سوراخ کے سامنے کھول دیتا ہے ، میں اس میں داخل ہو جاتی ہوں ، جب میں اس کی روزی اس تک پہنچا کر پتھر کے سوراخ سے اس کے منھ تک آتی ہوں تو مینڈک مجھے منہ سے باہر نکال دیتا ہے ۔ حضرت سلیما ن عليه السلام نے کہا: ”کیا تو نے ان کیڑوں کی کسی تسبیح کو سنا “ چیونٹی نے بتایا : ہاں! وہ سب کہتے ہیں : یا من لاینسانی فی جوف ہذہ اللجۃ ”اے وہ ذات جو
مجھے اس گہرے پانی کے اندر بھی نہیں بھولتا“ ۔
................ قصص الانبیاء سے ماخوذ ...............

Thursday, 10 April 2014

Russian Army return to Home after 30 Years

عام عورت اور طوائف میں فرق Difference bitween woman & Prostitute

"عام عورت اور طوائف میں فرق"
عام بھولی بھالی عورت اور طوائف میں کیا فرق ہوتا ہے؟
ہوتی تو دونوں عورتیں ہی ہیں پھر کیوں عام عورت ایک پاکیزہ محبت کے بعد ٹوٹ جاتی ہے؟
اور کیوں طوائف ایک کے بعد ایک تعلق بنائے جاتی ہے اور پھر بھی خود کو ٹوٹنے نہیں دیتی؟
عورت کی طاقت اسکے جذبات میں ہوتی ہے.
طوائف جسم تو دے دیتی ہے مگر کبھی بھی اپنے جذبات تک کسی بھی مرد کو پہنچنے نہیں دیتی جبکہ
عام عورت جب محبت کرتی ہے تو سب سے پہلے اپنے جذبات دیتی ہے.
وہ جسم دے یا نہ دے مگر
اسکے آنسو، اسکی خوشی، اسکی دوسری عورتوں اور اس انسان کے دوستوں سے جلن اور دعائیں بس اسی انسان سے منسوب ہوجاتے ہیں جس سے وہ محبت کرتی ہے.
اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ لوگ ایک عورت کو کسی سے بات کرتا دیکھ کر فیصلہ سنادیتے ہیں کہ یہ اس آدمی میں دلچسپی لے رہی ہے. یا کبھی کبھی عورت کسی سے ہمدردی کر رہی ہوتی ہے اور اسے یہ خوش فہمی ہوجاتی ہے کہ اسے اس انسان سے محبت ہے. لیکن اسکے جانے کے بعد وہ دوسرے انسان کی محبت سر پر سجائے نظر آتی ہے. تو لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ بھی طوائف ہے.
نہیں.
ایک تعلق کے بعد دوسرے تعلق کا مطلب ہے کہ اس نے پہلے انسان کو اپنے جذبات نہیں دیئے تھے. جسے وہ اور دنیا محبت سمجھ بیٹھے وہ اسکی دوستی یا ہمدردی تھی. پہلی بار بچ سکتی ہے مگر دوسری بار نہیں. آخر ٹوٹ ہی جاتی ہے. پھر اپنی زندگی میں کبھی کسی اور انسان کو آنے نہیں دیتی. نہ کسی پر اعتبار کرتی ہے نہ شادی کا نام لیتی ہے. شادی کر بھی لے پھر بھی ساری زندگی زندہ لاش بن کر گزار دیتی ہے. اور اپنے خاندان کو سنبھال بھی نہیں پاتی.
میں مردوں سے بس اتنی درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ انٹرنیٹ کی اکثر لڑکیاں بھولی عورتیں ہیں. ان کو طوائف سمجھ کر محبت کا کھیل نہ کھیلنا.
یہ ٹوٹ جائیں گی اور
اگر عورت ٹوٹ جائے تو ایک خاندان ، ایک نسل ٹوٹ جاتی ہے.
خدا کے ہاں اپنا نام ظالمین میں مت لکھوانا.
اور میری لڑکیوں سے بھی گزارش ہے کہ اپنی عصمت کی خود حفاظت کریں. اپنی زندگی سے پیار کریں. بغیر نکاح محبت، موت کا کھیل ہے جسکی قدر کوئی نہیں کرتا. وہ بھی نہیں جو آپ کو طوائف سمجھ کر آپکے جذبات تک پہنچ کر آپ کے اندر کی عورت کو کھینچ کر سربازار لانا چاہتا ہے. بہتر ہے کہ دوستیاں بھی چھوڑ دیں. اور بروقت خود کو بچا کر اس جھوٹی زندگی سے بھاگ جائیں

ناممکن کوممکن (Impossible Make Possible)

استاد نے کمرے میں داخل ہوتے ہی بغیر ایک لفظ کہے بلیک بورڈ پر ایک لمبی لکیر کھینچ دی۔ پھر اپنا رخ طلبا کی طرف کرتے ہوئے پوچھا، ’’تم میں سے کون ہے جو اس لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کر دے ؟‘‘۔ ’’یہ ناممکن ہے ۔‘‘، کلاس کے سب سے ذہین طالبعلم نے آخر کار اس خاموشی کو توڑ تے ہوئے جواب دیا۔ ’’لکیر کو چھوٹا کرنے کے لیے اسے مٹانا پڑ ے گا اور آپ اس لکیر کو چھونے سے بھی منع کر رہے ہیں ۔‘‘ باقی طلبا نے بھی گردن ہلا کر اس کی تائید کر دی۔ استاد نے گہری نظروں سے طلبا کو دیکھا اور کچھ کہے بغیر بلیک بورڈ پر پچھلی لکیر کے متوازی مگر اس سے بڑ ی ایک اور لکیر کھینچ دی۔ جس کے بعد سب نے دیکھ لیا کہ استاد نے پچھلی لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کر دیا تھا۔ طلبا نے آج اپنی زندگی کا سب سے بڑ ا سبق سیکھا تھا۔ دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر، ان کو بدنام کیے بغیر، ان سے حسد کیے بغیر، ان سے الجھے بغیر ان سے آگے نکل جانے کا ہنر چند منٹ میں انہوں نے سیکھ لیا تھا.

How To Hide Drives in Windows

How To Hide Drives in Windows:
1.Go to run .
2.Type "diskpart".
3.Type "list volume".
4.Now select the volume you want to hide by
typing "select volume n"(n is the volume
number against the drive you want to hide).
eg: select volume 2.
5.Type "revome letter x"(x is the drive name)
.eg: remove letter D.
Done, now check my computer .
If you want to show the drive again then
repeat step 1 to 4 then type "assign letter x".
**Dont try with drive C **
** If you have locked something with
Folderlock or other software then after
assigning the drive everything will be
unlocked
How To Hide Drives in Windows: 1.Go to run . 2.Type "diskpart". 3.Type "list volume". 4.Now select the volume you want to hide by typing "select volume n"(n is the volume number against the drive you want to hide). eg: select volume 2. 5.Type "revome letter x"(x is the drive name) .eg: remove letter D. Done, now check my computer . If you want to show the drive again then repeat step 1 to 4 then type "assign letter x". **Dont try with drive C ** ** If you have locked something with Folderlock or other software then after assigning the drive everything will be unlocked


ﺣﺠﺎﺝ ﺑﻦ ﯾﻮﺳﻒ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺪﮦ

ﺣﺠﺎﺝ ﺑﻦ ﯾﻮﺳﻒ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻋﺮﺏ
ﻣﯿﮟ ’’ﮨﻨﺪﮦ‘‘ ﻧﺎﻡ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﭘﻨﮯ
ﺣﺴﻦ ﻭ ﺟﻤﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﮔﻔﺘﺎﺭﯼ ﮐﮯ
ﺑﺎﻋﺚ ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺗﮭﯽ۔ ﺣﺠﺎﺝ ﺑﻦ
ﯾﻮﺳﻒ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﻓﺮﯾﻔﺘﮧ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ
ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻻﮐﮫ ﺩﺭﮨﻢ ﺣﻖ ﻣﮩﺮ ﮐﮯ ﻋﻮﺽ
ﻧﮑﺎﺡ ﮐﺮﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ۔ ﺣﺠﺎﺝ ﮐﯽ
ﺳﺨﺖ ﻣﺰﺍﺟﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻠﺦ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ
ﺳﮯ ﯾﮧ ﺷﺎﺩﯼ ﺩﯾﺮﭘﺎ ﺛﺎﺑﺖ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ
ﺣﺠﺎﺝ ﻧﮯ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻃﺎﮨﺮ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ
ﺣﻖ ﻣﮩﺮ ﮐﮯ ﺩﻭ ﻻﮐﮫ ﺑﮭﺠﻮﺍ ﺩﯾﺌﮯ ﺍﻭﺭ
ﮐﮩﻼ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﻃﻼﻕ
ﺩﯼ، ﮨﻨﺪﮦ ﻧﮯ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻃﺎﮨﺮ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ!
ﻗﺎﺻﺪ ﺗﯿﺮﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﺒﺎﺭﮎ، ﺗﻮ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ
ﯾﮧ ﺟﺎﮞ ﻓﺰﺍ ﺧﻮﺷﺨﺒﺮﯼ ﺳﻨﺎﺋﯽ، ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ
ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ
ﺑﺪﻣﺰﺍﺝ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﻧﺨﻮﺍﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﻗﯿﺪ ﺳﮯ
ﺭﮨﺎﺋﯽ ﭘﺎﺋﯽ۔
ﯾﮧ ﺩﻭ ﻻﮐﮫ ﺩﺭﮨﻢ ﺍﺱ ﺧﻮﺷﺨﺒﺮﯼ ﺳﻨﺎﻧﮯ
ﮐﮯ ﻋﻮﺽ ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮭﮯ ﺑﺨﺸﺘﯽ ﮨﻮﮞ۔
ﻃﻼﻕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ’’ﮨﻨﺪﮦ‘‘ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﭼﻠﯽ
ﮔﺌﯽ،
ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻋﺒﺪﺍﻟﻤﻠﮏ
ﺑﻦ ﻣﺮﻭﺍﻥ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﺎ ﭘﯿﻐﺎﻡ
ﺑﮭﺠﻮﺍﯾﺎ۔ ﻣﮕﺮ ’’ﮨﻨﺪﮦ‘‘ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮﺩﯾﺎ،
ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ
ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﮨﻮﺍ، ﺗﻮ ﺍﺱ ﺷﺮﻁ ﭘﺮ ﻣﺎﻧﯽ
ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﮑﺎﻥ ﺳﮯ ﺟﺲ ﻣﺤﻤﻞ
ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺍﺭ ﮨﻮ ﮐﺮﺁﭖ ﮐﮯ ﻣﺤﻞ ﺗﮏ ﺁﺋﻮﮞ
ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺑﺎﻥ ’’ﺣﺠﺎﺝ‘‘ ﮨﻮ۔ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻧﮯ ﯾﮧ
ﺷﺮﻁ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﮐﺮﻟﯽ ﺍﻭﺭﺍﺳﯽ ﺧﻂ ﮐﯽ
ﭘﺸﺖ ﭘﺮ ﻟﮑﮫ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮐﮧ ’’ﺣﺎﮐﻢ ﮐﻮﻓﮧ
ﺣﺠﺎﺝ‘‘ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﻞ ﮐﺮﮮ۔ ﺣﺠﺎﺝ ﻧﮯ
ﯾﮧ ﺷﺎﮨﯽ ﺣﮑﻢ ﻧﺎﻣﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﺗﻮ ﺩﻡ ﺑﺨﻮﺩ ﺭﮦ
ﮔﯿﺎ، ﻣﮕﺮ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﺳﺮﺗﺎﺑﯽ
ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺣﮑﻢ ﺷﺎﮨﯽ
ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﻭﻧﭧ ﮐﯽ ﻣﮩﺎﺭ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ
ﺷﺎﮨﯽ ﻣﺤﻞ ﺗﮏ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ۔

Sunday, 6 April 2014

نو ماہ کا بچہ پولیس پر قاتلانہ حملے کا ’ملزم

نو ماہ کا بچہ پولیس پر قاتلانہ حملے کا ’ملزم‘
April 5, 2014 at 5:39:23 PM
بچہ کمرۂ عدالت میں دودھ کی بوتل لیے اپنے والد کی گود میں بیٹھا رہا
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں کارِ سرکار میں مداخلت اور سرکاری اہلکاروں پر قاتلانہ حملے کے مقدمے میں نو ماہ کے بچے کو ملزم قرار دینے والے پولیس اہلکار کو معطل کر دیا گیا ہے تاہم بچے کا نام تاحال مقدمے سے خارج نہیں کیا گیا ہے۔
محمد موسیٰ خان نامی اس بچے سمیت 30 افراد پر یہ مقدمہ مسلم ٹاؤن کے علاقے میں محکمۂ سوئی گیس کے ملازمین اور پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی اور مبینہ جھگڑے کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔
ان افراد پر الزام ہے کہ انھوں نے گیس کی چوری کے خلاف کارروائی کرنے والی ٹیم اور پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا جس سے ان کی جان کو خطرات لاحق ہوئے۔
جمعرات کو اس معاملے کی سماعت کے موقع پر دیگر ملزمان کے ہمراہ نو ماہ کے موسیٰ خان کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں وہ دودھ کی بوتل لیے اپنے والد کی گود میں بیٹھا رہا جو خود بھی نامزد ملزم ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ مذکورہ عدالت کے جج نے موسیٰ خان کو ملزم تسلیم کرتے ہوئے اسے دیگر ملزمان کے ساتھ ضمانت دے دی اور مقدمے کی سماعت 12 اپریل تک ملتوی کر دی۔
ذرائع ابلاغ میں قاتلانہ حملے کے نو ماہ کے ملزم کی خبریں نشر ہونے پر وزیراعلیٰ پنجاب نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کی ہے اور مقدمہ درج کرنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا تھا۔
بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق ان احکامات پر مقدمہ درج کرنے والے اہلکار اے ایس آئی کاشف کو معطل کر دیا گیا تاہم بچے کا نام اب بھی مقدمے سے نہیں نکالا گیا ہے۔
بشکریہ

Thursday, 3 April 2014

Who are Terrorist

وسطی افریقہ میں مسلمانوں کو گاجر مولی کیطرح کاٹا جارہا ہے، اب تک ہزاروں مسلمانوں کو قتل کیا جاچکا ہے، ہزاروں مسلمان عورتوں کی عصمت دری ہوچکی ہے، لیکن کہیں کوئی آواز نہیں اٹھ رہی ہے۔ انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔ یا اللہ معصوم مسلمانوں کی مدد فرمائیے آمین