Pages

Monday, 20 January 2014

عورت كے ليے چھوٹى قميص كے نيچے پتلون پہننے كا حكم

كيا ميرے ليے كھلى اور چوڑى پينٹ ( پتلون ) اور اس كے اوپر ٹخنوں تك لمبى قيمص پہننى جائز ہے، جس ميں كوئى شگاف وغيرہ نہ ہو اور نہ ہى باريك اور تنگ ہو ؟


الحمد للہ:
غير محرم مردوں كے سامنے جو لباس عورت پہن كر آسكتى ہے اس ميں آٹھ شروط كا ہونا ضرورى ہے، شروط درج ذيل ہيں:
1 - وہ لباس سارے جسم كے ليے ساتر يعنى سارے جسم كو چھپانے والا ہو، جس ميں ہاتھ اور چہرہ بھى شامل ہيں، اس كے دلائل سوال نمبر ( 11774 ) كے جواب ميں بيان ہو چكے ہيں.
2 - وہ لباس كھلا اور واسع ہو، جو نہ تو جسم كے اعضاء كا حجم واضح كرتا ہو، اور نہ ہى جسم كے جوڑ اور انگ.
3 - باريك نہ ہو كہ جلد كى رنگت واضح كرتا پھرے.
4 - وہ لباس فى نفسہ خود زينت نہ ہو، مثلا اس پر كڑھائى كى گئى ہو، اور كشيدہ كارى كى گئى ہو.
5 - اس لباس كو خوشبو نہ لگائى گئى ہو.
6 - وہ لباس مردوں كے لباس كى مشابہ نہ ہو.
7 - وہ لباس كافر عورتوں كے لباس سے مشابہ نہ ہو.
8 - وہ لباس شہرت والا نہ ہو.
ديكھيں: آداب الزفاف تاليف علامہ البانى رحمہ اللہ ( 177 ) اور حجاب المراۃ المسلمۃ تاليف علامہ البانى رحمہ اللہ ( 19 - 111 ) اور عودۃ الحجاب ( 3 / 145 - 163 ).
اس بنا پر عورت كے ليے مردوں كے سامنے پينٹ ( پتلون ) يا پائجامہ پہن كر آنا جائز نہيں، اس كى دو وجہيں ہيں:
پہلى: كيونكہ اس سے عورت كى ٹانگوں كا حجم ظاہر ہوتا ہے.
دوسرى: اسے پہننے ميں مردوں سے مشابہت ہوتى ہے.
شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" ميرى رائے تو يہ ہے كہ مسلمانوں كواس لباس كے پيچھے نہيں بھاگنا چاہيے جو ادھر ادھر سے مسلمانوں ميں آ رہے ہيں؛ اور ان لباسوں ميں بہت سے تو اسلامى لباس كے شايان شان نہيں، اسلامى لباس مكمل ساتر ہے، اور يہ لباس چھوٹے ہوتے ہيں، يا پھر تنگ يا ہلكے اور بہت زيادہ باريك، اس ميں پتلون اور پينٹ وغيرہ بھى شامل ہے، كيونكہ يہ عورت كى ٹانگوں كا مكمل حجم ظاہر كرتى ہے، اور اسى طرح ا سكا پيٹ اور پہلو اور چھاتى وغيرہ بھى واضح ہوتى ہے.
اور يہ پينٹ شرٹ پہننے والى عورت اس حديث كے تحت ان دو قسموں ميں شامل ہوتى ہے جس كا ذكر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے درج ذيل حديث ميں كيا ہے:
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" جہنميوں كى دو قسميں ہيں جنہيں ميں نے نہيں ديكھا، ايك وہ قوم جن كے ہاتھوں ميں گائے كى دموں جيسے كوڑے ہونگے وہ اس سے لوگوں كو مارينگے، اور وہ لباس پہننے والى ننگى عورتيں جو خود مائل ہونے والى اور دوسروں كو مائل كرنے والى، ان كے سر بختى اونٹوں كى مائل كوہانوں كى طرح ہونگے، وہ نہ تو جنت ميں داخل ہونگى اور نہ ہى جنت كى خوشبو ہى پائينگى، حالانكہ جنت كى خوشبو اتنى اتنى مسافت سے پائى جاتى ہے " انتہى.
اس حديث كو امام مسلم رحمہ اللہ نے حديث نمبر ( 2128 ) ميں روايت كيا ہے.
اور شيخ رحمہ اللہ كا يہ بھى كہنا ہے:
" ميں تو پينٹ اور پتلون كو عورت كے ليے حرام سمجھتا ہوں، كيونكہ يہ مردوں كى مشابہت ہے، اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مردوں كے ساتھ مشابہت كرنے والى عورتوں پر لعنت كى ہے، اور اس ليے بھى كہ يہ عورت سے شرم و حياء ختم كر ديتى ہے، اور اس ليے بھى كہ يہ جہنميوں كے لباس كا دروازہ كھولتى ہے.
كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" جہنميوں كى دو قسميں ہيں جنہيں ميں نے نہيں ديكھا "
اور ان ميں سے ايك قسم كا ذكر كرتے ہوئے فرمايا:
" وہ عورتيں جنہوں نے لباس تو پہنا ہوگا ليكن ہونگى ننگى، اور وہ خود مائل ہونے والى ہونگى، اور دوسروں كو مائل كرنے والى، ان كے سر بختى اونٹوں كى مائل كوہانوں جيسے ہونگے، وہ جنت ميں داخل نہيں ہونگى، اور نہ ہى جنت كى خوشبو ہى حاصل كرينگے " انتہى.
ماخوذ از: مجموع فتاوى الشيخ ابن عثيمين ( 12 ) سوال نمبر ( 192 - 194 ).
اور مستقل فتوى كميٹى كے فتاوى جات ميں درج ہے:
" عورت كے ليے پتلون اور پينٹ پہننى جائز نہيں؛ كيونكہ اس ميں مردوں كے ساتھ عورتوں كى مشابہت ہوتى ہے "
ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 17 / 102 ).
اور آپ مزيد تفصيل كے ليے سوال نمبر ( 10436 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.
رہا مسئلہ عبايا يعنى برقع اور اوڑھنى وغيرہ كے نيچے پتلون پہننا تو اس ميں كوئى حرج نہيں، بلكہ اس سے ستر ميں اضافہ ہوتا ہے، ليكن شرط يہ ہے كہ جب اوڑھنى اور اوپر والا كپڑا ساتر ہو، اور اس ميں كوئى شگاف وغيرہ نہ ہو جس سے نيچے والا لباس نظر آتا ہو.
شيخ عبد الرزاق عفيفى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" جب عورت پتلون اور پينٹ پہن كر اوپر مكمل لباس پہنے جو اس كو چھپا كر ركھے تو اس ميں مردوں سے مشابہت نہيں ہوتى جب تك پينٹ اور پتلون نيچے پہن ركھى اور اوپر لمبى قميص وغيرہ ہو " انتہى.
ماخوذ از: فتاوى الشيخ عبد الرزاق عفيفى صفحہ نمبر ( 573 ).
اصل يہ ہے كہ اوپر اوڑھى جانے والى اوڑھنى يا چادر اور عبايا وغيرہ مكمل ساتر ہو، اور وہ عورت كے پاؤں كے اوپر والے حصہ كو بھى ڈھانپ رہى ہو، اس كى دليل ترمذى، نسائى، ابو داود اورابن ماجہ كى درج ذيل حديث ہے:
ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" جس نے بھى تكبر كے ساتھ كپڑا كھينچا اللہ تعالى روز قيامت اس كى جانب ديكھے گا بھى نہيں "
تو ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہا كہنے لگيں:
تو پھر عورتيں اپنى لٹكتى ہوئى چادروں كا كيا كريں ؟
تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" وہ ايك بالشت تك اسے ٹخنوں سے نيچے لٹكا كر ركھيں "
وہ كہنے لگيں:
" پھر تو ان كے پاؤں ننگے ہو جايا كرينگے "
رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" تو پھر وہ ايك ہاتھ نيچے لٹكا ليا كريں، اور اس سے زيادہ نہيں "
جامع ترمذى حديث نمبر ( 1731 ) سنن نسائى حديث نمبر ( 5336 ) سنن ابو داود حديث نمبر ( 4117 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 3580 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح سنن ترمذى ميں اس حديث كو صحيح قرار ديا ہے.
باجى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہا كا عورت كا اپنے پيچھے ايك بالشت كپڑا لٹكانے كے متعلق يہ كہنا كہ:
" پھر تو عورت كے پاؤں ننگے ہوا كرينگے "
اس سے ا نكى مراد يہ تھى كہ اتنا كپڑا اسے ڈھانپنے كے ليے ناكافى ہے؛ كيونكہ جب وہ تيز چلے گى تو پيچھے كپڑا كم ہونے كى بنا پر اس كے پاؤں ننگے ہو جايا كرينگے، اور جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو اس كا علم ہوا تو آپ نے فرمايا:
" تو پھر وہ ايك ہاتھ نيچے لٹكا ليا كرے، اس سے زيادہ نہيں " انتہى.
ماخوذ از: المنتقى.
اور شيخ صالح الفوزان حفظہ اللہ سے درج ذيل سوال دريافت كيا گيا:
عورت كے ليے كپڑے لمبے ركھنا مستحب ہے يا كہ واجب ؟
اور كيا اگر كپڑے چھوٹے ہوں تو پاؤں ميں جراب پہن لينا كافى ہے كيونكہ اس سے پنڈلى بھى نظر نہيں آتى ؟
اور عورت ايك ہاتھ يا گز كپڑا لمبا كس طرح ركھے، آيا ٹخنوں سے ايك ہاتھ نيچے يا كہ گھٹنے سے نيچے ؟
شيخ كا جواب تھا:
" مسلمان عورت سے مطلوب يہى ہے كہ وہ مردوں سے اپنا سارا جسم چھپا كر ركھے، اسى ليے اس كے ليے ايك ہاتھ كپڑا نيچے لٹكانے كى رخصت دى گئى ہے كہ اس كے پاؤں بھى ننگے نہ ہوں، حالانكہ مردوں كو ٹخنوں سے نيچے كپڑا لٹكانے سے منع كيا گيا اور ان كے ليے ايسا كرنا حرام ہے، جو اس بات كى دليل ہے كہ عورت سے مطلوب يہى ہے كہ وہ اپنا سارا جسم چھپا كر ركھے.
اور جب وہ جرابيں بھى پہنتى ہے تو يہ اس كے ستر ميں احتياط اور اضافہ كا باعث ہے، اور يہ بہت اچھا كام ہے، اور يہ جرابيں پہننا لباس كو لمبا اور لٹكانے كے ساتھ ہى ہو گا، جيسا كہ حديث ميں وارد ہے.
اللہ تعالى ہى توفيق دينے والا ہے " انتہى.
ديكھيں: المنتقى من فتاوى الشيخ الفوزان ( 5 / 334 ).
حاصل يہ ہوا كہ:
عورت كے ليے لازم ہے كہ ا سكا عبايا اور اوڑھنى اور چادر ٹخنوں كو ڈھانپنے سے بھى زيادہ ہو، ليكن ٹخنوں سے بھى ايك بالشت اوپر عورت كے ليے جائز نہيں، چاہے اس كى پنڈلياں اور قدم پينٹ يا جرابوں يا سلوار كے ساتھ ڈھانپے بھى ہوں؛ كيونكہ اس ميں مردوں سے مشابہت ہوتى ہے، جنہيں اپنا لباس ٹخنوں سے اونچا ركھنے كا حكم ہے، اور پھر ايسا كرنے ميں عورت كى ٹانگ كا حجم بھى واضح ہو جاتا ہے.

عورتوں كے مابين عورت كا ستر

اللہ تعالى آپ كى حفاظت فرمائے، ہم نے سنا ہے كہ عورتوں كا آپس ميں ستر گھٹنے سے ليكر ناف تك ہے، كيا يہ صحيح ہے ؟
خاص كر ہم ديكھ رہى ہيں كہ شادى ہال ميں كچھ ايسى عورتيں بھى آتي ہيں ـ اللہ سے سلامتى و عافيت كى دعا كرتے ہيں ـ كہ انہوں نے بالكل مختصر اور تنگ يا پھر ايسا لباس پہنا ہوتا جس سے اسكى پنڈلياں بھى ننگى ہو رہى ہوتى ہيں، يا پھر ايسا لباس زيب تن كيا ہوتا ہے جس سے اس كى كمر اور سينہ كا كچھ حصہ ڈھكا ہوتا ہے....
مسلمان عورت ايسے آتى ہے جيسے وہ كسى كافر ملك كى رقاصہ ہو يا پھر پردہ سكرين پر آنے والى فحش فنكارہ، اور جب ہم انہيں اس سے منع كرتى ہيں تو وہ جواب ديتى ہيں: ايسا كرنے ميں كچھ حرج نہيں، عورت كا ستر تو گھٹنے سے ليكر ناف تك ہے، ايسے لگتا ہے كہ شرم و حياء ختم ہو كر رہ گئى ہے، اور عورت حد سے آگے نكل چكى ہے، اور كفار سے مشابہت اختيار كر چكى ہے، اور ..... اللہ تعالى آپ كو توفيق سے نوازے ہميں جواب سے ضرور نوازيں.


الحمد للہ:
غير محرم اوراجنبى مردوں كے سامنے عورت مكمل ستر ہے، عورت كے ليے مردوں كے سامنے جسم كا كوئى حصہ بھى ظاہر كرنا جائز نہيں، چاہے وہ لباس ميں چھپى ہوئى بھى ہو جب اسے ديكھ كر اور اس كے طول اور چال ڈھال سے فتنہ كا ڈر ہو تو كچھ بھى ظاہر كرنا جائز نہيں.
اور سوال ميں جو يہ بيان ہوا ہے كہ عورت كا عورتوں كے سامنے ستر گھٹنے سے ليكر ناف تك ہے، تو يہ خاص ہے جب وہ اپنے گھر ميں اپنى بہنوں اور اپنے گھر كى عورتوں كے درميان ہو؛ حالانكہ اصل يہ ہے كہ اس پر واجب ہے كہ وہ اپنا سارا جسم چھپا كر ركھے، كيونكہ خدشہ ہے كہ اگر ايسا كريگى تو اس كى اقتدا اور نقل كرتے ہوئے يہ برى عادت عورتوں ميں پھيل جائيگى.
اور اسى طرح عورت كے ليے اپنے محرم مردوں اور اجنبى عورتوں سے اپنے جسم كے پرفتن مقام كو چھپانا واجب ہے، اس خدشہ كو مد نظر ركھتے ہوئے كہ كہيں اس كے محرم يا پھر وہ عورتيں جنہيں اس كے اوصاف بتائيں جائيں وہ فتنہ ميں پڑ جائيں.
حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" كوئى عورت بھى كسى دوسرى عورت كا وصف اپنے خاوند كے سامنے بيان مت كرے، گويا كہ خاوند اسے اپنى آنكھوں سے ديكھ رہا ہے "
اس كا معنى يہ ہے كہ: اگر وہ اپنے جسم كے پرفتن اعضاء مثلا چھاتى اور كندھے، اور پيٹ اور كمر ، يا بازو، يا گردن اور پنڈلياں ظاہر كرے تو اسے ديكھنے والا ضرور اس سے اس كى يہ عادت اور سوچ اپنائےگا.
اكثر طور پر يہ ہوتا ہے كہ عورتيں جو كچھ ديكھتى ہيں وہ گھر جا كر اپنے خاندان كے مرد اورعورت كے سامنے بيان كرتى ہيں كہ انہوں نے كيسى كيسى عورت ديكھى، اور ہو سكتا ہے ان كا ذكر اجنبى اور غيرمحرم مردوں كے سامنے بھى ہو جو اس عورت كے بارہ ميں خيالات كا باعث بنے جو غلط اور ردى قسم كے دل والوں كا اس عورت سے تعلق قائم كرنے كا سبب بنے.
اس بنا پر عورت كے ليے ضرورى ہے كہ وہ اپنے پرفتن اعضاء مثلا چھاتى، كمر بازو، اور پنڈلياں وغيرہ كو چھپا كر ركھے چاہے اس كے محر مرد اور اپنے خاندان كى ہى عورتيں كيوں نہ ہوں.
اور خاص كر جب تقريبات اور شادى ہال يا ہاسپٹل اور سكول و يونيورسٹى وغيرہ ميں تو اس كا خاص اہتمام ہونا چاہيے كہ جسم كا كوئى حصہ ظاہر نہ ہو چاہے عورتوں كے مابين ہى ہو، كيونكہ ہو سكتا ہے اچانك كوئى مرد آ جائے اور اسے ديكھ لے، يا پھر سن بلوغت كے قريب ہونے والے بچے، اور يہ بھى ہو سكتا ہے كہ اس كى ننگى تصاوير اتار لى جائيں اور يہ اس كے ليے بھى فتنہ كا باعث ہو، اور اسے ديكھنے والے كے ليے بھى.
بےپرد عورت اور باريك اور تنگ لباس زيب تن كر نے والى عورت كے ليے حديث ميں شديد قسم كى وعيد آئى ہے.
چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" جہنميوں كى دو قسميں ہيں جنہيں ميں نے نہيں ديكھا، ايك وہ قوم جن كے ہاتھوں ميں گائے كى دموں جيسے كوڑے ہونگے وہ اس سے لوگوں كو مارينگے، اور وہ لباس پہننے والى ننگى عورتيں جو خود مائل ہونے والى اور دوسروں كو مائل كرنے والى، ان كے سر بختى اونٹوں كى مائل كوہانوں كى طرح ہونگے، وہ نہ تو جنت ميں داخل ہونگى اور نہ ہى جنت كى خوشبو پائينگى، حالانكہ جنت كى خوشبو اتنى اتنى مسافت سے پائى جاتى ہے "
معنى يہ ہے كہ: انہوں نے لباس تو پہنا ہوا ہے ليكن وہ لباس شفاف اور باريك ہے، يا پھر اتنا تنگ ہے كہ جسم كے اعضاء كا حجم واضح كر رہا ہے، يا لباس ميں ايسے سوراخ اور گريبان اتنا كھلا ركھا ہے كہ اس سے چھاتى صاف نظر آ رہى ہے، اور پرفتن اعضاء نظر آتے ہيں، اور شادى اور مختلف دوسرى تقريبات ميں ان كا اسى حالت ميں جانا اس سب كو عام ہے.

بہنوئى كے سامنے چہرہ ننگا كرنا

ميرا بہنوئى بعض اوقات ہمارے گھر ميں رات بسر كرتا ہے، اور بعض اوقات سارا دن بھى گھر ميں رہتا ہے، اور ميں اس كے سامنے چہرہ نہيں ڈھانپ سكتى، تو كيا ميں اس عمل كى بنا پر گنہگار ہوں، اور اس كا حل كيا ہے ؟


الحمد للہ:
آپ كا بہنوئى آپ كے ليے اجنبى مرد ہے، اور آپ پر اس سے چہرہ كا پردہ كرنا واجب ہے، اور اسى طرح اس سے خلوت كرنا بھى جائز نہيں، اسى طرح آپ كے بہنوئى كے ليے بھى آپ كى جانب ديكھنا، اور آپ كے ساتھ خلوت و تنہائى اختيار كرنا حرام ہے.
افسوس كے ساتھ كہنا پڑتا ہے كہ لوگ گھروں ميں خاوند اور بيوى كے رشتہ دار مردوں كے متعلق تساہل اور كوتاہى سے كام ليتے ہيں، حالانكہ شريعت مطہرہ نے تو ان كے متعلق دوسروں سے زيادہ سختى كى ہے، كيونكہ گھروں ميں ان كا آپس ميں ميل جول اور اختلاط ہوتا ہے، اور گھر والے ان پر بھروسہ كرتے ہيں.
عقبہ بن عامر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" تم عورتوں كے پاس جانے سے اجتناب كيا كرو "
تو ايك انصارى شخص نے عرض كيا:
اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ذرا خاوند كے رشتہ دار مرد ( ديور ) كے متعلق تو بتائيں ؟
تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" ديور تو موت ہے "
صحيح بخارى حديث نمبر ( 4934 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2172 ).
الحمو: خاوند كے قريبى رشتہ دار مرد كو كہا جاتا ہے.
آپ يہ ديكھ رہى ہيں كہ صحابى رسول صلى اللہ عليہ وسلم نے خاوند كے قريبى رشتہ دار مرد كو اس حكم سے استثنى كروانا چاہا، تو اس كے متعلق بہت زيادہ تشديد اور سختى آئى، كيونكہ خاوند كے بھائى يعنى ديور وغيرہ كا گھرميں داخل ہونا معيوب نہيں سمجھا جاتا.
امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمانا كہ:
" ديور تو موت ہے "
اس كا معنى يہ ہے كہ اس سے خطرہ اور خوف دوسرے شخص سے بھى زيادہ ہے، اور اس سے برائى متوقع ہے، اور فتنہ و خرابى زيادہ ہے كيونكہ اس كا بغير كسى روك ٹوك اور ممانعت كے عورت تك پہنچنا اور اس سے خلوت كرنا ممكن ہے، بخلاف اجنبى شخص كے اس كا ايسا كرنا ممكن نہيں.
يہاں الحمو سے مراد خاوند كے قريبى رشتہ دار مرد ہيں جن ميں خاوند كا باپ اور خاوند كى اولاد شامل نہيں، خاوند كے والد اور اس كے بيٹے بيوى كے محرم ہيں، اور ان سے خلوت جائز ہے، انہيں موت كا وصف نہيں جاتا.
تو يہاں اس سے مراد خاوند كا بھائى يعنى ديور اور چچا زاد بھائى اور بھتيجا، اور چچا ہے، اسى طرح دوسرے مرد جو عورت كے محرم نہيں، عام لوگوں كى عادت ہے كہ وہ اس ميں كوتاہى اور تساہل سے كام ليتے ہيں.
چنانچہ ديور بھابھى كے ساتھ خلوت كرتا ہے، تو يہى موت ہے، اور كسى دوسرے اجنبى سے زيادہ ديور كو منع كرنا زيادہ اولى ہے، جو ہم بيان كر چكے ہيں، جو ميں بيان كيا ہے اس حديث كى شرح ميں صحيح بھى يہى ہے ....
ابن الاعرابى كہتے ہيں:
" يہ كلمہ عرب كى كلام ميں بالكل اسى طرح كہا جاتا ہے جس طرح يہ كہا جائے كہ شير موت ہے، يعنى شير سے ملنا ايسے ہى ہے جيسے موت "
اور قاضى كہتے ہيں:
اس كا معنى ديور اور خاوند كے رشتہ دار مردوں كے ساتھ خلوت كرنا ہے جو فتہ اور دين كى تباہى كى طرف لے جانے كا باعث ہو، تو اسے موت كى ہلاكت كى طرح ہى قرار ديا ہے، تو يہ كلام بطور سختى اور غلظہ كے وارد ہے "
ديكھيں: شرح مسلم للنووى ( 14 / 154 ).
اس ليے ہم سائلہ اور ہر ايك كو يہى نصيحت كرتے ہيں كہ وہ اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرے، اور غير محرم اور اجنبى مردوں سے مكمل شرعى پردہ كرنے كى كوشش كرے، اور حرص ركھے، اسى ميں اس كى خير و بھلائى ہے.
مزيد آپ سوال نمبر ( 13728 ) اور ( 6408 ) اور ( 13261 ) كے جوابات كا مطالعہ ضرور كريں كيونكہ يہ بہت ہى زيادہ ہميت كے حامل ہيں.
واللہ اعلم .

بھابھی پر دل آگیا ہے علاج کا کوئی طریقہ ہے؟

میں 26 سال کا نوجوان ہوں،میری ابھی تک شادی نہیں ہوئی ، میں اور میرے شادی شدہ بھائی ایک ہی مکان میں رہتے ہیں، معاملہ یہ ہے کہ میں اپنی بھابھی سے محبت کرنے لگا ہوں، اور اس حد تک پہنچ گیا ہوں کہ میں اسے اپنے لئے چاہنے لگاہوں، حالانکہ وہ ماں بھی بن چکی ہے، اور ابھی تک میں اس محبت کو اپنے دل میں چھپائے ہوئے ہوں۔
سوال یہ ہے کہ: کیا مجھے اس محبت پر گناہ ہوگا؟ حالانکہ یہ محبت غیر ارادی ہے، مجھے بتائیں میں کیا کروں؟


الحمد للہ:
اللہ تعالی کسی بندے سے غیر ارادی افعال پر حساب نہیں لے گا، فرمانِ باری تعالی ہے: ( لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا )
ترجمہ: اللہ تعالی کسی کو اسکی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں بناتا البقرة/ 286
اسی طرح ایک مقام پر فرمایا: ( لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آَتَاهَا )
ترجمہ: اللہ کسی کو اسی کے مطابق تکلیف دیتا ہےجو اس نے اسے دیا ہے۔ الطلاق/ 7
بلکہ صرف انہی افعال کا حساب لیا جائے گا جو اس نے اعضاء سے کئے ہونگے، فرمانِ باری تعالی ہے: ( ثُمَّ قِيلَ لِلَّذِينَ ظَلَمُواْ ذُوقُواْ عَذَابَ الْخُلْدِ هَلْ تُجْزَوْنَ إِلاَّ بِمَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ )
ترجمہ: پھر ان ظالم لوگوں سے کہا جائے گا: ہمیشہ کا عذاب چکھو، تمہیں انہیں اعمال کی جزا دی جا رہی ہے جو تم نے کئے تھے۔ يونس/ 52
آؤ ذرہ کھل کر بات کرتے ہیں کہ چلو مان لیا کہ آپ کا بھابھی کے ساتھ محبت کا کوئی ارادہ نہیں ہے، لیکن کیا آپ ان اسباب کے بارے میں کیا کہیں گے جن کی وجہ سے آپ یہاں تک پہنچے ہو؟!
کیا اس محبت سے پہلے نظریں نہیں ملیں؟ یا اس سے بات نہیں ہوئی؟یا اسکے ساتھ بیٹھے نہیں؟!
آپ کے دل میں اسکی محبت اترنے سے پہلے یہی کام ہوئے ہونگے، اور یہ سب کچھ واضح شرعی نصوص کی رو سے ممنوع ہے، اس لئے ان معاملات پر آپکو مؤاخذے کا سامنا کرنا پڑے گا، اور اگر آپ کی بھابھی بھی اسی طرح متساہل ہوئی تو اسے بھی برابر کا گناہ ہوگا۔
یاد رکھنا! شیطان تمہیں اسی حد پر اکیلا نہیں چھوڑے گا کہ تم اسکی محبت دل میں لئے پھرو اور بس! بلکہ آپکی زبان سے یا حرکات سے یہ واضح کروا دےگا، اس لئے غافل مت بنو، اور اس سے پہلے کے وقت جاتا رہے اپنے نفس کو بچا لو، اس جیسے مسائل میں نتیجہ انتہائی بھیانک ہوتا ہے، عقل مند افراد ان نتائج کو جانتے ہیں، اس لئے شیطان کے مکرو فریب میں مت آجانا، اس سے بچ کر رہنا، اپنے لئے ، اپنے بھائی کیلئے اور والدین کیلئے اللہ سے ڈرو۔
اب ہم آپکو سنت مطہرہ سے واضح لفظوں میں کچھ مفید مشورے دیتے ہیں:
فرض کرو کہ تمہاری ایک باشعور، پاکباز لڑکی سے شادی ہوجاتی ہے، اور اسکی محبت تمہارے کسی بھائی کے دل میں داخل ہوجائے! تو کیا یہ صورتِ حال آپکو پسند ہوگی؟!
پکّی بات ہے کہ آپ اسے کسی قیمت میں قبول نہیں کرینگے۔
اور پھر کیا آپ اس محبت کے پہلے قدم کو ہی ختم کرنے کی کوشش کروگے!؟
یہ بھی لازمی بات ہے کہ آپ اسکے لئے پہلا قدم اٹھنے ہی نہیں دینگے۔
اچھا یہ بتلاؤ کہ کیا آپ اپنے بھائی کا عذر قبول کروگے کہ یہ محبت غیر ارادی طور پر اسکے دل میں داخل ہوگئی ہے؟!
یہ بھی لازمی بات ہے کہ آپ اس کا یہ عذر قبول نہیں کروگے۔
اس لیے یہ بات ذہن نشین کر لو کہ جو بات آپ کر رہے ہو یہ سب لوگوں کیلئے بارِ گراں ہے، اور اسکے نتائج بھی بھیانک ہیں، پھر شریعت کے مطابق تو اس کے اسباب ہی حرام ہیں، اس لئے اس بیماری کے کنٹرول سے باہر ہونے سے پہلے پہلے اسکا علاج کرو، ورنہ اسکا علاج مشکل ہوجائےگا۔
علاج کیلئے مندرجہ ذیل نقاط مفید ہونگے، ہمیں امید ہے کہ آپ ان نقاط کو عملی جامہ پہنا کر اپنے آپ کو بچا لیں لگے:
1- کچھ بھی ہوجائے اپنی بھابی پر نظر ڈالنے سے قطعاً اعراض کرو، جہاں کہیں بھی ان پر نظر پڑ سکتی ہے وہاں مت جاؤ، چاہے کوئی تقریب ہو یا کچھ اور، وہاں جانے سے معذرت کرلو۔
2- اُن کے ساتھ بالکل بھی بات نہ کرو حتی کہ سلام بھی نہ کرو۔
3- اُن کے بارے میں سوچنا چھوڑ دو، اور جب بھی یاد آئے تو اپنے دل کو سنبھالا دو ، اور اسے روک دو، اپنے آپ کو یہ مت کہوکہ تمہارے ساتھ ہونے والا معاملہ "محبت" ہے بلکہ اپنے آپ کو یہ سمجھاؤ کہ یہ "حرام" ہے۔
4- جتنی جلدی ہوسکے شادی کرلو، شادی اس سوچ پر لیٹ نہ کرو کہ آپ کی بھابھی آپکی رفیق حیات بنے گی!
5- اپنی رہائش اور کھانے پینے کا انتظام بھائی اور بھابھی سے دور کسی اور جگہ کرلو ، چاہے شادی کے بعد ہو ؛ یا اگر ابھی ممکن ہوتو اچھا ہے، اور اس میں آپ ہی کا فائدہ ہے، اس کے لیے آپ اپنے شہر سے دور کسی اور جگہ ملازمت بھی کر سکتے ہو۔
6- اپنے ایمان کو مزید نیکیوں اور تقوی سے مضبوط کرو، احکامات کی پاسداری اور ممنوعہ کاموں سے رک جاؤ، یہ مسلّمہ بات ہے کہ جو اپنے آپ کو اچھی چیزوں میں مصروف رکھے وہ برائیوں سے بچ جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایمان سے عاری دل ہی شیطان کا شکار ہوتا ہے، اپنی عقل کو اللہ کی ناراضگی کے متعلق سمجھاؤ، اور اپنے دل کو ایمان سے خالی نہ ہونے دو، کہ کہیں شیطان غلبہ نہ پا لے۔
7- اللہ تعالی سے سچے دل کے ساتھ دعا مانگو کہ اسکے دل کو پاک باز بنادے، اور اُس کے دل کو حُبِّ الہی اور حُبِّ دین سے بھر دے۔
ہم آپ سے امید کرینگے کہ آپ ان لکھی ہوئی باتوں کو کاغذ سے عملی شکل میں تبدیل کردیں گے، اور اس طرح سے آپ اپنے دعوے میں بھی سرخ رو ہونگے کہ آپ گناہ سے بچنے کیلئے مخلص تھے۔
اللہ تعالی آپکی حفاظت فرمائے اور آپکا حامی ناصر ہو۔

والد اپنی بیٹی کے ساتھ غلط کاری کرتا ہے، بیٹی کیا کرے؟

میں 19 سالہ نوجوان لڑکی ہوں، میرا والد مجھے جنسی طور پر اپنی طرف مائل کرتا ہے، اس نے مجھ سے زبردستی کرنے کی کوشش کی لیکن میں نے اپنے دفاع کیا، وہ اب بھی مجھے ہراساں کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے، میں نے اپنی والدہ کو اس بارے میں بتلایا لیکن اس نے میری بات پر کان تک نہیں دھرا ، اور ایسے اظہار کرنے لگی جیسے اسے اس بارے میں پتہ ہی نہیں، لیکن مجھے لگتا ہے کہ اسے اس بات کا علم ہے، اور میں یہ سمجھتی ہوں کہ میری والدہ بھی اس بارے میں کچھ نہیں کرسکتی، کیونکہ ہم ایک مغربی ملک میں رہتے ہیں، اور یہ ملک ہمارے لئے نیا ہے، اور مادّی اعتبار سے ہمارا انحصار والد پر ہی ہے، ہم بھی چاہتے ہیں کہ میرا والد ہمارے ساتھ ہی رہے۔
آپ مجھےکوئی طریقہ بتائیں جس سے اپنے والد کو روک سکوں، میں اس کے ساتھ کیسے پیش آؤں، تو کیا میں اس سے بالکل بات کرنا چھوڑ دوں؟


الحمد للہ:
انا للہ وانا الیہ راجعون، اللہ کی قسم یہ بات آنسو بہانے کے قابل ہے، کیا اس حد تک لوگ گر چکے ہیں کہ نظامِ فطرت کو ہی درہم برہم کردیا ، اور ایک باپ اپنی بیٹی کے بارے میں اس حد تک گر گیا ہے؟!
اس باپ کے بارے میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ وہ نفسیاتی اور جنسی مریض ہے، اسکو جلد از جلد قلب وعقل، دماغی اور جسمانی علاج کی شدید ضرورت ہے۔
اور آپ کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، جس سے تمہارے والد کیلئے جنسی طور پر ہراساں کرنے کے مواقع کم ہوجائیں گے، اس کیلئے آپ اور والد کبھی بھی گھر میں اکیلے مت رہیں، جب آپ اپنے کمرے میں چلی جائیں تو کمرے کا دروازہ بند کر لیں، اور اسے کسی صورت میں بھی اپنے کمرے میں داخل نہ ہونے دیں، اس سے تمہارے والد کو موقع نہیں ملے گا۔
اور اس عادت کو کلی طور پر ختم کرنے کیلئے باپ کا علاج یا اس کے کرتوت کو لوگوں کے سامنے بیان کرنا پڑے گا، اس واسطے آپ کو بھی اس پر مرتب ہونے والے اثرات کیلئے تیار ہونا پڑے گا، کیونکہ اسکے کرتوت بیان کرنے سے آپکے خاندان پر بُرے اثرات مرتب ہونگے ، لیکن یہ اثرات موجودہ صورتِ حال سے کہیں بہتر ہونگے۔
ایک باپ کی طرف سے اس قسم کے کام صادر ہونے کی بھی کوئی وجہ ہے، اور اس قسم کے مسائل حل کرنے کیلئے اسباب کو مدّ نظر رکھنا ضروری ہے، تو ان اسباب میں سے کچھ تو باپ سے متعلقہ ہیں اور کچھ اسی لڑکی سے متعلق ہیں، اور کچھ اسباب جگہ اور وقت سے بھی متعلق ہیں۔
ذیل میں اس خطرناک انحراف کے کچھ اسباب ہیں:
1- ایمان کمزور ہوجائے، اللہ کا ڈر دل میں نہ رہے، اور یہ خیال ذہن سے مٹ جائے کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔
2- مسلسل شراب نوشی، اور نشہ آور اشیاء کا استعمال۔
3- ذہنی یا نفسیاتی تناؤ کا شکار۔
4- جنسی فلمیں اور تصاویر دیکھنا۔
5- بے روز گاری اور گھر میں بیٹھے رہنا۔
6- لباس پہنتےہوئے بے احتیاطی سے کام لینا، کہ بہت سے لڑکیاں اپنے والد اور بھائیوں کے سامنے تنگ اور مختصر لباس زیب تن کرتی ہیں، حالانکہ یہ شرعی طوربالکل ممنوع ہے، اور اس سے نفسیاتی طور پر مریض میں چھپی ہوئی شہوت بھڑک اٹھتی ہے، اور اگر جنسی چینل بھی ساتھ میں دیکھے جاتے ہوں تو یہ جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں۔
7- کچھ معاملات میں تساہل سے کام لینا، مثلاً، ہونٹوں پر بوسہ لینا، یاشہوت سے چھونا، یا ایک ہی بیڈ پر ایک ہی لحاف میں باپ کے ساتھ یا بھائی کے ساتھ سونا، یہ بھی شرعاً منع ہے، بلکہ اس سے جذبات بھڑکتے ہیں۔
اگر ہم فطرت کے مخالف اس بری عادت کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں مذکورہ بالا اسباب کا خاتمہ کرنا ہوگاجن کی وجہ سے غیر فطری عادات جنم لیتی ہیں، اور اسکے لئے مندرجہ ذیل امور پر عمل کیا جاسکتا ہے:
1- اپنے خاندان میں اخلاقیات اور اچھی عادات اپنائی جائیں، اللہ کے بارے میں ایمان، خوفِ الہی، اور اس بات کو پختہ کیا جائے کہ اللہ دیکھ رہا ہے، اس کیلئے نمازوں اور دیگر نیک اعمال کی پابندی کی جائے، اور برے اخلاق اور ممنوعہ کاموں سے بچا جائے۔
2- کلی طور پر شہوت بھڑکانے والے پروگرام، اور قصے کہانیوں کو ترک کردیا جائے، نہ سنیں نہ پڑھیں ، اور نہ ہی دیکھیں۔
3- برے دوستوں کی محفلوں سے دور ہو جائیں، انہی محفلوں سے اس قسم کی عادات پیدا ہوتی ہیں۔
4- لڑکیوں کو شریعت کے مخالف تنگ، مختصر، اور شفاف لباس سے دور رکھا جائے، ایسے ہی شہوت سے ہاتھ نہ لگائیں، اور ہونٹوں پر پیار نہ دیں۔
5- کشادہ اور کھلی رہائش میں زندگی گزاریں کہ جہاں پر بیٹی اور باپ ایک کمرے اور ایک لحاف میں نہ ہوں۔
6- اس قسم کے حالات میں والدہ کا مثبت کردار ہونا چاہئےکہ اس قسم کی باتیں سن کر غفلت سے کام نہ لے، بلکہ اسے اِن معاملات کا پہلے سے ادراک ہونا چاہئے، اسلئے بیٹی کو تساہل سے کام نہ لینے دے اور نہ ہی اپنے خاوند کو اتنی آزادی دے کہ جو مرضی کرتا پھرے۔
7- سمجھ دار رشتہ داروں کو اس معاملے پر باخبر کیا جائے، تا کہ ان غیر اخلاقی معاملات کا سدّ باب کیا جاسکے، اگر اس سے بھی کوئی فرق نہ پڑے تو باپ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جاسکتی ہے۔
8- ہم سائلہ بہن سے کہیں گے کہ اس معاملے میں سستی سے کام مت لے، بلکہ اس کے علاج کیلئے پختہ بنیادوں پر کوشش کرے، ہم اسے دعا کا بھی مشورہ دیتے ہیں، اور دعا کیلئے خاص اوقات مثلا رات کی آخری تہائی میں اپنے والد کیلئے دعا مانگے، کہ اللہ اسے ہدایت دے اور اس کےشر سے آپکو بچائے۔
9- اپنے والد کے ساتھ غیر فطری معاملات میں سستی سے کام لینا آپ پر حرام ہے اللہ نے جتنی آپکو طاقت دی ہے ، ساری آپ والد کو دور کرنے میں لگا دو، اور اپنی مدد کیلئے چیخ وپکار شروع کردو، چاہے تمہارے باپ کو رسوائی یا جیل میں جانا پڑے۔
10- اگر پھر بھی حالات ساز گار نہ ہوں ،تو آپ گھر میں نہ رہیں آپ نیک سیرت مسلمان بہنوں کے ساتھ رہائش اختیار کر لیں، یا اپنے ان رشتہ داروں کے ساتھ رہائش اختیار کر لیں جہاں شرعی طور پر آپکی رہائش کا بندو بست کیا جاسکے۔
اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالی آپکی اس پریشانی کو دور فرمائے، اور آپکو اس تنگی سے نکال دے، اور آپ کے والد کوہدایت دے، اور اس کے شر سے آپکو محفوظ فرمائے۔
اللہ ہی توفیق دینے والا ہے.

Friday, 17 January 2014

جہاد كا حكم

كيا اس وقت ہم پر جہاد فرض عين ہے، كيونكہ ہر طرف سے دشمن اسلام نے يلغار كر ركھى ہے، اور مسلمانوں كے حقوق محفوظ نہيں رہے ؟
اور جو لوگ بيٹھ رہے ہيں وہ حيلہ كى استطاعت نہيں ركھتے ان كا حكم كيا ہے، ليكن يہ ہے كہ اگر امام المسلمين انہيں جہاد ميں نكلنے كا كہے تو وہ اس كى بات تسليم كرتے ہوئے جہاد فى سبيل اللہ كرنے لگيں گے، انہيں ان حالات نے روك ركھا ہے جو امت مسلمہ كو درپيش ہيں كہ ان ميں غير اللہ كے قوانين كا نفاذ كيا جا رہا ہے ، دلائل كے ساتھ واضح كريں ؟


الحمد للہ:
اعلاء كلمۃ اللہ، اور دين اسلام كى حمايت، اور دين اسلام كى نشر و تبليغ كو ممكن بنانے، اور دين اسلام كى حرمت كى حفاظت كرنا ہر مسلمان شخص پر فرض ہے جو اس كى طاقت و استطاعت اور قدرت ركھتا ہو، ليكن كوئى ايسا شخص ہونا چاہيے جو لشكر روانہ كرے، اور انہيں منظم كر كے ركھے؛ تا كہ بدنظمى نہ پھيلے اور ايسى چيز پيدا ہونے كا خدشہ نہ رہے جس كا انجام اچھا نہيں؛ اسى ليے اس كى ابتداء اور اس ميں داخل ہونے كے ليے مسلمان حكمران اور ولى الامر كا بہت بڑا دخل ہے.
اس ليے علماء كرام كو اس كام كے ليے اٹھ كھڑے ہونا چاہيے، تو جب يہ شروع ہو اور مسلمانوں كو اس جہاد ميں نكلنے كے ليے كہا جائے تو جو شخص بھى اس ميں شامل ہونے كى طاقت و استطاعت ركھتا ہو اسے اللہ كے ليے اخلاص كے ساتھ، اور حق كى مدد و نصرت كى اميد ركھتے ہوئے، اور دين اسلام كى حفاظت و حمايت كے ليے اس دعوت كو قبول كرنا چاہيے، اور ضرورت ہونے اور كسى عذر كے نہ ہونے كے باوجود جو شخص جہاد سے پيچھے رہے وہ گنہگار ہے.
اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے، اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور ان كے صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے.

اگر خاوند بيوى كى شرمگاہ ديكھے تو كيا وضوء ٹوٹ جاتا ہے ؟

اگر خاوند بيوى كى شرمگاہ ديكھے تو كيا وضوء ٹوٹ جائيگا ؟


الحمد للہ:
اس سے وضوء نہيں ٹوٹےگا، سوال نمبر ( 14321 ) كے جواب ميں وضوء توڑنے والى اشياء كا بيان ہو چكا ہے جن ميں مرد كا اپنى يا كسى دوسرے كى شرمگاہ ديكھنا شامل نہيں ہے.
مستقل فتوى كميٹى سے درج ذيل سوال كيا گيا:
كيا ننگے مرد اور عورت كو صرف ديكھنے سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے، اور اگر كوئى شخص اپنى شرمگاہ كو ديكھے تو كيا اس كا وضوء ٹوٹ جائيگا ؟
كميٹى كا جواب تھا:
" باوضوء شخص كا ننگے مردوں يا عورتوں كو صرف ديكھنے سے ہى وضوء نہيں ٹوٹتا، اور نہ ہى اس كا اپنى شرمگاہ ديكھنے سے وضوء ٹوٹےگا كيونكہ اس كى كوئى دليل نہيں ملتى " اھـ
ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 5 / 270 ).
كميٹى سے يہ سوال بھى كيا گيا:
اگر كسى باوضوء شخص نے اپنى شرمگاہ ديكھ لى تو كيا وہ قرآن مجيد كو پكڑ سكتا ہے يا وہ نماز ادا كر سكتا ہے ؟
كميٹى كا جواب تھا:
" جى ہاں جائز ہے، اور شرمگاہ كى طرف ديكھنا نواقض وضوء ميں شامل نہيں ہوتا " اھـ

خودكشى كا حكم اور خود كشى كرنے والے كى نماز جنازہ

ميرى خالہ كى بيٹى فوت ہو چكى ہے، اور زيادہ احتمال اور واضح يہى ہوتا ہے كہ اس نے خود كشى كى ہے، اس ليے خود كشى كرنے والے كا حكم كيا ہے؟
اور اللہ تعالى كے ہاں اس كى حالت كيا ہے ؟
اور اس سے كمى كرنے كے ليے والدين كو كيا كرنا چاہيے ؟


الحمد للہ :
خود كشى كبيرہ گناہ ميں شمار ہوتى ہے، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بتايا ہے كہ خود كشى كرنے والے شخص كو اسى طرح كى سزا دى جائےگى جس طرح اس نے اپنے آپ كو قتل كيا ہو گا.
ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" جس نے اپنے آپ كو پہاڑ سے گرا كر قتل كيا تو وہ جہنم كى آگ ميں ہميشہ كے ليے گرتا رہے گا، اور جس نے زہر پي كر اپنے آپ كو قتل كيا تو جہنم كى آگ ميں زہر ہاتھ ميں پكڑ كر اسے ہميشہ پيتا رہے گا، اور جس نے كسى لوہے كے ہتھيار كے ساتھ اپنے آپ كو قتل كيا تو وہ ہتھيار اس كے ہاتھ ميں ہو گا اور ہميشہ وہ اسے جہنم كى آگ ميں اپنے پيٹ ميں مارتا رہے گا"
صحيح بخارى حديث نمبر ( 5442 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 109 ).
اور ثابت بن ضحاك رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" جس نے دنيا ميں اپنے آپ كو كسى چيز سے قتل كيا اسے قيامت كے روز اسى كا عذاب ديا جائيگا "
صحيح بخارى حديث نمبر ( 5700 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 110 ).
اور جندب بن عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" تم سے پہلے لوگوں ميں ايك شخص زخمى تھا جس اور وہ اسے برداشت نہ كر سكا تو اس نے چھرى ليكر اپنا ہاتھ كاٹ ليا اور خون بہنے كى وجہ سے مر گيا، تو اللہ تعالى نے فرمايا: ميرے بندے نے اپنى جان كے ساتھ جلدى كى ہے، ميں نے اس پر جنت حرام كر دى "
صحيح بخارى حديث نمبر ( 3276 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 113 ).
اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بطور سزا اور دوسروں كو اس سے دور ركھنے اور روكنے كے ليے كہ وہ ايسا كام مت كريں، خود كشى كرنے والے شخص كى نماز جنازہ بھى نہيں پڑھائى، اور دوسرے لوگوں كو اس كى نماز جنازہ پڑھنے كى اجازت دى، اس ليے اہل علم اور فضل و مرتبہ والے لوگوں كے ليے مسنون يہ ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ كى پيروى اور اتباع كرتے ہوئے خود كشى كرنے والے شخص كى نماز جنازہ ادا نہ كريں.
جابر بن سمرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:
" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس ايك شخص لايا گيا جس نے اپنے آپ كو تير كے ساتھ قتل كر ليا تھا، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس كى نماز جنازہ ادا نہيں فرمائى"
صحيح مسلم حديث نمبر ( 978 ).
امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
المشاقص: چوڑے تير كو كہتے ہيں.
اس حديث ميں يہ دليل ہے كہ خودكشى جيسى نافرمانى كرنے والے شخص كى نماز جنازہ نہيں ادا كى جائيگى.
عمر بن عبد العزيز، اوزاعى رحمہما اللہ تعالى كا يہى مذہب ہے، اور حسن، نخعى، قتادہ، مالك، ابو حنيفہ، شافعى، اور جمہور علماء كرام رحمہم اللہ تعالى كا مسلك ہے كہ اس ك نماز جنازہ ادا كى جائيگى.
اور اس حديث كا انہوں نے جواب ديتے ہوئے كہا ہے كہ:
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بطور سزا اور لوگوں كو اس طرح كے كام سے منع كرتے ہوئے خود تو نماز جنازہ ادا نہيں فرمائى، تاہم صحابہ كرام كو اس كى نماز جنازہ ادا كرنے كا حكم ديا تھا. انتہى
ديكھيں: شرح المسلم للنووى ( 7 / 47 ).
اس كا معنى يہ نہيں كہ ـ اگر اس لڑكى كى خود كشى ثابت ہو جائے تو ـ اس كے ليے مغفرت اور رحمت كى دعاء نہ كى جائے، بلكہ تمہارے ليے تو يہ حتمى چيز ہے كہ اس كے ليے مغفرت اور رحمت كى دعا كريں، كيونكہ وہ اس كى محتاج اور ضرورتمند ہے.
اور پھر خود كشى كوئى كفر تو نہيں جو دائرہ اسلام سے خارج كر دے جيسا كہ بعض لوگوں كا خيال اور گمان ہے، بلكہ يہ تو كبيرہ گناہ ہے جو اللہ تعالى كى مشئيت پر ہے قيامت كے روز اگر اللہ تعالى چاہے تو اسے معاف كر دے اور اگر چاہے تو اسے عذاب دے، اس ليے آپ اس كے ليے دعا كرنے ميں سستى اور كاہلى سے كام مت ليں، بلكہ اس كے ليے پورے اخلاص كے ساتھ مغفرت اور رحمت كى دعا كريں، ہو سكتا ہے يہ اس كى مغفرت اور بخشش كا سبب بن جائے.

عورتوں كى طرف ديكھنے كى بيمارى والا شخص كيا كرے

مجھے اكثر بےپردہ عورتوں كو ديكھنے كى بيمارى ہے اكثر طور پر ميں اپنے اوپر كنٹرول نہيں كر سكتا، مجھے كوئى نصيحت كريں كہ مجھے كيا كرنا چاہيے ؟


الحمد للہ:
جسے كوئى زہريلا زخم ہو جائے تو اسے وہ كام كرنا چاہيے جس سے زہر كا اخراج ہو، زخم ترياق اور مرہم سے صحيح ہوتا ہے، اس بيمارى كا علاج كئى ايك طريقوں سے ہو سكتا ہے:
پہلا طريقہ تو شادى ہے اسے شادى كر لينى چاہيے، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ كا فرمان ہے:
" جب تم ميں سے كوئى شخص كسى عورت كے محاسن كو ديكھے تو وہ اپنى بيوى كے پاس آئے كيونكہ اس كى بيوى كے ساتھ بھى وہى كچھ ہے جو اس عورت كے ساتھ تھا "
اس سے شہوت ٹوٹ ہو كر عشق كمزور ہو جاتا ہے.
دوم:
اسے نماز پنجگانہ كى پابندى كرنى چاہيے، اور سحرى كے وقت اللہ سے عاجز و انكسارى كے ساتھ دعا كرے، اور نماز پورے خشوع و خضوع اور دل كے ساتھ ادا كرنى چاہيے، اور درج ذيل دعا كثرت سے كيا كرے:
" يا مقلب القلوب ، ثبت قلبي على دينك "
اے دلوں كو الٹنے والے، ميرے دل كو اپنے دين پر ثابت ركھ "
" يا مصرف القلوب صرف قلبي إلى طاعتك وطاعة رسولك "
اے دلوں كو پھيرنے والے، ميرے دل كو اپنى اور اپنے رسول كى اطاعت كى طرف پھير دے"
كيونكہ جب بھى وہ مستقل طور پر ہميشہ عاجزى و انكسارى سے يہ دعا كريگا تو اللہ سبحانہ و تعالى اس كے دل كو اس بيمارى سے پھير دے گا، جيسا كہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
{ اسى طرح ہم اس سے برائى اور فحاشى كو دور كر ديتے ہيں، يقينا وہ ہمارے مخلص بندوں ميں سے تھا }يوسف ( 24 ). انتہى
ماخوذ از: الفتاوى الكبرى لشيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ ( 3 / 77 ).
سوم:
وہ اپنے آپ كو بےپرد عورتوں والى جگہوں سے دور ركھے، اور اسى طرح فحاشى كے ٹى وي چينلوں سے بھى دور رہے جو گندى اور مخرب الاخلاق فلميں اور تصاوير پيش كرتے رہتے ہيں جو دل ميں اثر كر كے اسے كمزور كر ديتى ہيں.

Thursday, 16 January 2014

Door to Hell




اسلام قبول کرنا چاہتی ہے لیکن

میں مسلمان ہونا چاہتی ہوں لیکن کسی جماعت اورتنظیم سے منسلک ہوۓ بغیر یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟
یہ تومجھے علم ہے کہ اس کے لیے کلمہ شہادت پڑھنا واجب ہے ، لیکن حج کے متعلق کیا ہے ؟
جب میرے کاغذات سے میرا مسلمان ہونا ثابت نہ ہوتومیں حج کس طرح کرسکتی ہوں ؟


الحمدللہ
اسلام بندے اور اس کے رب کے درمیان تعلق اوراللہ تعالی کے اوامر اوراحکام کے سامنے سرخم تسلیم کرنے اوراللہ تعالی کے لیے خضوع و عاجزی اوراس سے محبت اوراللہ تعالی کے ڈر اورخوف اوراس سے امیدوں کی وابستگی اوراس اللہ وحدہ کی اس طریقے پرعبادت جومشروع کیے گۓ ہیں کا نام اسلام ہے ، جس کے واجبات اورارکان بھی ہیں ۔
اسلام میں داخل ہونے کی چابی کلمہ طیبہ ( لا إله إلا الله وأنّ محمدا رسول الله ) ( اللہ تعالی کے علاوہ کو‏ئ معبود برحق نہیں اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کےسچے رسول ہيں ) ۔
اسلام میں داخل ہونے کے لیے حج شرط نہیں بلکہ یہ اسلام کا ایک رکن ہے اوراس پرواجب ہوتا ہے جس کےپاس حج کرنے کی استطاعت ہواس کی دلیل اللہ تعالی کایہ فرمان ہے :
{ اللہ تعالی نے ان لوگوں پرجواس کی جانے کی راہ پا سکتے ہوں اس گھر کا حج کرنا فرض کردیا ہے } آل عمران ( 97 ) ۔
حج میں استطاعت کی شروط کی تفصیل سوال نمبر ( 5261 ) میں مل سکتی ہیں اس کا مطالعہ کریں ، اورآپ اسلامک سینٹر سے اسلام قبول کرنے کا سرٹیفکیٹ حاصل کرلیں توآپ حج کا سفرکرنے کی اجازت حاصل کرسکتی ہيں اوراس کی بنا پرمشا‏عر مقدسہ میں داخل بھی ہوسکتی ہیں ۔
اوریہ سب کچھ حج کا وسیلہ ہے تاکہ آپ مستقبل میں حج کرسکیں لیکن دین اسلام میں داخل ہونے کی شرط نہیں اورنہ ہی اسلامی عبادات نماز وغیرہ کی ابتدا کرنے میں شرط ہے ۔
انسان جب مسلمان ہوجاتا ہے تووہ امت مسلمہ کا ایک فرد بن جاتا ہے جوسب مسلمان موحدین کواخوت اسلامی اوربھائ چارہ کی بنا پرایک دوسرے کی مدد و تعاون اورمحبت و الفت میں اکٹھا کرتی ہے جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
{ مومن مرد وعورت آپس میں ایک دوسرے کے ( مدد گارومعاون ) اور دوست ہیں ، وہ بھلائیوں کا حکم دیتے ہیں اوربرائیوں سے روکتے ہیں ، نمازوں کوپابندی سے بچا لاتے زکوۃ ادا کرتے ہیں ، اللہ تعالی اوراس کے رسول کی بات مانتے اوراطاعت کرتے ہیں ، یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالی بہت رحم فرماۓ گا ، بلاشک اللہ تعالی غلبے والا حکمت والا ہے } التوبـۃ ( 71 ) ۔
اس لیے آپ قبول اسلام میں جلدی کریں اورہم آپ کی ابتدائی رغبت پرآپ کومبارکباد دیتے ہيں ، اورآپنے اورآپ کےلیے اخلاص توفیق اورکامیابی کی دعا کرتے ہیں ، اور اللہ تعالی ہی سیدھے راستے کی ھدایت دینے والا ہے ۔

اجنبی عورت کودم کرنے کے لیے خلوت جائز نہیں

قرآنی دم کرنے والےمولانا صاحب کے پاس جانے کا حکم کیا ہے ، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہر عورت کواکیلے اورخلوت میں دم کرتا ہے ، اوربعض اوقات عورت کی حالت کے پیش نظرکچھ دن تک اسےاپنے گھر میں بھی رکھتا ہے ؟
میں بھی انہی عورتوں میں شامل تھی لیکن بعد مجھ ایسا کرنے پر بہت زيادہ ندامت ہوئي تومیں نے اللہ تعالی سے استغفار کرتے ہوئے ایسے کام سے توبہ کرلی ۔


الحمدللہ
کسی بھی اجنبی عورت سے خلوت کرنا حرام ہے چاہے وہ قرآن کریم کا دم کرنے کے لیے ہی کیوں نہ ہو ، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
( کوئي بھی مرد کسی عورت سے خلوت نہ کرے ، اس لیے کہ ان دونوں کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے ) ۔
اورخلوت میں سب سے زيادہ خطرناک اورعظیم جرم توآپ کا اس اجنبی مرد کے گھرمیں کچھ راتیں بسرکرنا اوراس کے گھرمیں قیام ہے اورآپ کے ساتھ خلوت ہے ، جوسب کچھ شر اورفساد کے وسائل میں شامل ہوتا ہے ۔
توہراس مسلمان عورت پر جس نے ایسا کام کیا ہو اسے چاہیے کہ وہ اللہ تعالی کےسامنے توبہ نصوحہ کرے ، اور آئندہ عزم کرے کہ وہ ایسا برا کام نہیں کرے گی ۔
اللہ تعالی ہی توفیق بخشنے والا ہے ۔ .

یھودی سائلہ کے دل میں اسلام کا پیداہونا

میرا ایک مشکل سا سوال ہے لیکن صرف ايک ہی خواہش ہے کہ میرے سوال کاجواب ملنا چاہیے ۔
میں روس سے تعلق رکھنے والی یھودی عورت ہوں ایک برس قبل میرے ایک مسلمان نوجوان سے تعارف ہوا اورجیسے جیسے ہمارا تعلق گہرا ہوتا گيا اورہمیں پیشس آنےوالی مشکلات میں بھی اضافہ ہوتا گیا ، ان کا سبب دین یا عادات و تقالید نہیں ۔
ہم آپس میں بہت کرتے ہیں اور موضوع یہ ہے کہ کیا وہ مجھ سے شادی کرسکتا ہے کہ نہیں ؟
وہ ایک اچھا مسلمان ہے اورمذھبی خاندان سے تعلق رکھتا ہے اورمیں بھی اس کے دین اورخاندان و گھروالوں کو پسند کرتی ہوں ۔
میں ایک ایسے بند شہرمیں پیدا ہوئ ہوں جہاں پرکسی بھی دین کو پیش کرنے کا کوئ موقع نہيں یہ سب کچھ کرنا ممنوع ہے ، جب میں امریکہ آئ تومجھ پریہ منکشف ہوا کہ میرے اعتقادات یھودیت کے موافق نہيں تواس نوجوان سے تعارف کے بعد میں نے اسلام کا بہت زیادہ مطالعہ کرنا شروع کردیا اسی طرح دو اورمسلمان لڑکوں اورلڑکیوں سے تعارف کے بعد یہ سلسلہ زيادہ چل نکلا اورقرآن مجید کا مطالعہ بھی کیا تومیرے اندریہ شعور اوربڑھ زیادہ ہوگیا کہ میں ایک اچھی مسلمان بن سکتی ہوں ۔
اب میں کسی ایسے مدرسے یا سکول جانا چاہتی ہوں جہاں عربی کے ساتھ ساتھ اسلام ثقافت اورتعلیمات بھی سیکھی جاسکے
میں نے مسجد میں بھی رابطہ کیا اوروہاں جانے پربھی تیار ہوں لیکن مشکل یہ ہے کہ آیا وہ یھودیت کےعلاوہ باقی سب ادیان کو چھوڑ کرمسلمان ہونے والوں کی طرح مجھےبھی ایک جدید مسلمان بہن کی شکل میں قبول کرلیں گے ؟
اس لیے کہ یھودیوں اورمسلمانوں کے درمیان ہمیشہ سےاختلاف رہا ہے میرے خیال کے مطابق ان کے درمیان کبھی بھی امن پیدا نہیں ہوسکتا ۔
میں اپنی روسی زبان میں اللہ تعالی سے دعا گو ہوں کہ وہ مجھے راہ حق کی طرف لےجاۓ اورحق کی راہنما‏ئ کرے تا کہ میں ایمان حاصل کرسکوں توآپ سے میری گزارش ہے کہ آپ میرے ساتھ تعاون فرمائيں تا کہ میں اپنے سوال کا جواب حاصل کرسکوں ۔



الحمد للہ
( میرے اندریہ قوی شعور ہے کہ میں ایک اچھی مسلمان ثابت ہوسکتی ہوں ) یہ خوشگوارعبارت آپ کی ای میل کی ہے جوکہ حق کوتلاش کرنے میں باریک بینی اوردقت نظری اوربہت اچھے تجربات کے شعورکی غماز ہے ۔
میں اللہ تعالی سے ( روسی زبان میں ) دعا کرتی ہوں کہ وہ مجھے راہ حق کی ھدایت نصیب فرماۓ : یہ ایک اورعبارت جوآپ نے سوال کے آخرمیں لکھی ہے جس سےمسلمان قاری اس عورت کی حالت کوسمجھ سکتا ہےجو داعی کی دعوت کو جاننے اوراسے قبول کرنے کے بعد اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہوئ اوراس اللہ عزوجل سے سیدھے اورقوی دین کی ھدایت طلب کررہی ہے ۔
اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
{ اورجب میرے بندے میرے بارے میں آپ سےسوال کریں توآپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہرپکارنے والے کی پکار کوجب کبھی وہ مجھے پکارے قبول کرتا ہوں ، اس لیے لوگوں کوبھی چاہیۓ کہ وہ میری بات مانیں اورمجھ پرایمان رکھیں ، یہی ان کی بھلائ کا باعث ہے } البقرۃ ( 186 ) ۔
اورآپ اس شرح صدر کے ساتھ خوش ہوجائيں جواپنے اندر محسوس کرتی ہیں کہ اسلام کے لیے کہ آپ کا سینہ کھل چکا ہے ۔
اللہ تبارک وتعالی نے اپنے کتاب عزيز میں کچھ اس طرح فرمایا ہے :
{ توجس شخص کوبھی اللہ تعالی ھدایت دینا چاہے اس کے سینہ کواسلام کے لیے کشادہ کردیتا ہے ،اورجس کوبے راہ رکھنا چاہے اس کے سینہ کوبہت تنگ کردیتا ہے جیسے کوئ آسمان میں چڑھتا ہے } الانعام ( 125 ) ۔
آپ کے علم میں بھی ہونا چاہیے اورجان بھی لیں کہ دین کی سمجھ رکھنے والے مسلمانوں کے نزدیک اسلام قبول کرنے والے نۓ بہن بھائیوں کے لیے کوئ بھی کسی قسم کی نفرت یا فرق نہیں چاہے وہ دین اسلام قبول کرنے سے قبل جس مذھب سے بھی تعلق رکھنے والے ہوں ۔
انہوں نے یھودیت سے اسلام قبول کیا ہویا پھر عیسائیت کوترک کرکے ان میں کسی قسم کا فرق یا تمیز نہیں کی جاتی ، ہم ذیل میں ان مرد اورعورت کی مثال پیش کرتے ہیں جو یھودیت کوچھوڑ کر اسلام قبول کرتے ہیں ، ان میں سے ایک توابویوسف عبداللہ بن سلام رضي اللہ تعالی عنہ ہیں :
انس رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ :
عبداللہ بن سلام رضي اللہ تعالی عنہ کونبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ تشریف لانے کی خبر ملی توعبداللہ بن سلام رضي اللہ تعالی عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آۓ اورکہنے لگے :
میں آپ سے تین چيزیں پوچھوں گا جنہیں نبی کے علاوہ کوئ اورنہیں جانتا ، عبداللہ بن سلام رضي اللہ تعالی عنہ نے تین سوال کیے :
سب سے پہلی قیامت کی نشانی کیا ہے ؟
جنتیوں کا سب سے پہلاکھانا کیا ہوگا ؟
بچے کووالد کی طرف ( شکل و شباہت میں ) کون سی چيز لےجاتی ہے اوراپنے ماموں کی طرف کون سی چيز کھینچ لے جاتی ہے ؟
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ارشادفرمایا :
مجھے ابھی ابھی جبریل علیہ السلام نے ان کے متعلق بتایا ہے ۔
انس رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ کہنے لگے یہ فرشتہ تویھودیوں کادشمن ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے : قیامت کی سب سے پہلی نشانی یہ ہوگی لوگوں کو ایک آگ مشرق کی جانب سے مغرب کی جانب دھکیل کرلے جاۓ گی ۔
اوراہل جنت کا سب سے پہلاکھانا اورمہان نوازی مچھلی کی کلیجی ہوگی ، اوربچے کا والد کے مشابہ ہونے میں یہ ہے کہ جب مرد عورت سے جماع کرتا ہے تواگرخاوند کی منی عورت سے سبقت لے جاۓ تواس کی طرف مشابہت ہوتی ہے ، اوراگر عورت کی منی سبقت لے جاۓ توعورت سے مشابہت ہوتی ہے توعبداللہ بن سلام رضي اللہ تعالی عنہ کہنے لگے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ تعالی کے رسول ہیں ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 3082 ) ۔
اوربخاری کی دوسری روایت میں ہے کہ :
عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ آۓ اورانہوں نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ تعالی کے رسول ہیں اورحق لاۓ ہیں اوریھودی اس بات کا علم رکھتے ہیں کہ میں ان کا سردار اورسردار کا بیٹا بھی ہوں اوران میں سے زيادہ علم رکھتا ہوں اورسب سے زیادہ علم رکھنے والے کا بیٹا بھی ہوں آپ یھودیوں کوبلائيں اورقبل اس کے وہ میرے اسلام کے متعلق جان لیں آپ انہیں میرے متعلق پوچھیں اس لیے کہ اگرانہيں میرے اسلام قبول کرنے کا علم ہوگیا تووہ میرے بارہ میں وہ باتیں کریں گے جو میرے اندرنہیں ہيں ۔
لھذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے طرف پیغام بھیجا یھودی آۓ اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس داخل ہوۓ تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے سوال کیا :
اے یھودیو ! تمہارے لیے افسوس کا مقام ہے اورہلاکت ہے اللہ تعالی سے ڈر جاؤ اس اللہ کی قسم جس کے علاوہ کوئ معبود برحق نہیں تمہیں اس کا علم ہے کہ میں اللہ تعالی کاسچا رسول ہوں اورتمہارے پاس حق ہی لے کر آیا ہوں لھذا اسلام قبول کرلو ، یھودیوں نے جواب میں کہا ہميں کوئ علم نہيں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کوتین باردھرایا اورپھرفرمانے لگے :
تم میں عبداللہ بن سلام کون اورکیسا شخص ہے ؟ انہوں نےجواب دیا وہ ہمارے سردار اور ہمارے سردار کا بیٹا ہے ، ہم میں سب سے زیادہ علم رکھتا اورسب سے زیادہ عالم کا بیٹا ہے ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اب مجھے یہ بتاؤکہ اگر وہ اسلام قبول کر لے تو ؟ انہوں نے جواب دیا اللہ بچاۓ وہ اسلام قبول نہیں کرسکتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن سلام ذرا ان کے پاس باہر توآؤ توعبداللہ بن سلام رضي اللہ تعالی عنہ باہر تشریف لاۓ اورکہنے لگے :
اے یھودیو! اللہ تعالی سے ڈر جاؤ اس اللہ کی قسم جس کے علاوہ کوئ اورعبادت کے لائق نہيں وہ ہی معبود برحق ہے بلاشک تمہیں اس بات کا علم ہے کہ وہ اللہ تعالی کے رسول ہیں اورحق لاۓ ہيں ، تویھودی کہنے لگے توجھوٹ بولتا ہے ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے ان یھودیوں کونکال دیا ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 3621 ) ۔
تواس شخص کویھودی الاصل ہونے کے باوجود اسلام قبول کرکے موت سےقبل جنت کی خوشخبری حاصل کرنے سے کسی نے نہیں روکا ، سعدبن ابی وقاص رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں زمین پرچلنے والے کسی شخص کے بارہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نہیں سنا کہ اسے آپ نے یہ کہا ہو وہ جنتی ہے لیکن آپ نے عبداللہ بن سلام رضي اللہ تعالی عنہ کے بارہ میں فرمایا کہ وہ جنتی ہے ۔
وہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ان کے بارہ میں ہی یہ آیت نازل ہوئ { اوربنی اسرائیل میں سے ہی ایک نے اس طرح کی گواہی دی ۔۔۔ } صحیح بخاری حدیث نمبر ( 3528 ) ۔
اوروہ عورت جویھودیت ترک کرکے اللہ تعالی رب ہونے اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم پراس کے رسول ہونے پرایمان لائ وہ خیبرکے یھود کے تعلق رکھنے والی صفیہ بنت حییی بنت اخطب رضي اللہ تعالی عنہا ہیں ۔
اوریہی وہ یھودی عورت بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی بنی اور ام المومنین صفیہ رضي اللہ تعالی عنہا کے نام سے جانا جانے لگا اس لیے کہ اللہ سبحانہ وتعالی کافرمان ہے :
{ مومنوں کی جانوں سے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے اولی ہیں اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں مومنوں کی مائيں ہيں } ۔
انس رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اورمدینہ کے درمیان تین روز تک قیام فرمایا جس میں وہ صفیہ بنت حیی رضي اللہ تعالی عنہ کے ساتھ رشتہ ازواج میں منسلک ہوۓ اورسب مسلمانوں کواپنے ولیمہ کی دعوت دی ۔
تومسلمان آپس میں کہنے لگے کہ آیا یہ امہات المومنین میں سے ایک ہیں یا کہ ان کی باندی ، پھرکہنے لگے کہ اگر انہوں نے پردہ کرلیا توامہات المومنین میں ہوں گی اوراگرپردہ نہیں کریں گی تو ان کی باندی اورلونڈی ہونگی ، توجب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوچ فرمایا توصفیہ رضي اللہ تعالی عنہا کواپنے پیچھے سوار کیا اورلوگوں اورصفیہ رضي اللہ تعالی عنہا کے درمیان پردہ کردیا گیا ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 4762 ) ۔
اوروہ ام المومنین صفیہ رضي اللہ تعالی عنہا ہی ہیں جن کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خصوصی طورپراعتکاف والی جگہ سے نکل کران کے ساتھ گھرتک گۓ ( حالانکہ اعتکاف کی حالت میں کسی کے لیے یہ جائزنہيں کہ وہ اپنی اعتکاف والی جگہ سے بغیر کسی ضرورت کے باہرنکلے ) ۔
علی بن حسین رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ام المومنین صفیہ رضي اللہ تعالی عنہا نے انہيں بتایا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زيارت کے لیے اعتکاف کے دوران رمضان کے آخری عشرہ میں ان کے پاس مسجد میں آئيں اورکچھ دیر بیٹھی باتیں کرتی رہیں پھراٹھ کرجانے لگیں تونبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ انہیں واپس پہنچانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوۓ ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1894 ) ۔
اورایک دوسری روایت میں ہے کہ :
نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے اوران کےپاس ازواج مطہرات بھی آئيں ہوئيں تھیں تووہ سب چلی گئيں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضي اللہ تعالی عنہا سے فرمایا آپ جلدی نہ کریں میں بھی آپ کے ساتھ ہی جاؤں گا اورصفیہ رضي اللہ تعالی عنہا کا گھرداراسامہ میں تھا ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ گھر کی جانب نکلے ۔ صحیح بخاری حديث نمبر ( 1897 ) ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کا بہت زیادہ خیال رکھتے اور ان کے ساتھ شفقت ومہربانی کرتے تھے ، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم انس بن مالک رضي اللہ تعالی عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کااپنی زوجہ صفیہ رضي اللہ تعالی عنہا کے ساتھ سفر میں معاملات کرنے کا بیان کرتے ہیں کہ :
میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسمل کودیکھا آپ صفیہ رضي اللہ تعالی عنہا کے لیے اپنے پیچھے چادر جمع کرکے رکھتے اوران کے اونٹ کے پاس بیٹھ کراپنا گھٹنا کھڑا کرتے اورصفیہ رضي اللہ تعالی عنہا اپناپاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے پررکھ کراونٹ پرسوار ہوتی تھیں ۔ صحیح بخاری حديث نمبر ( 2081 ) ۔
اوپربیان کیے گۓ کچھ اس طرح اوربھی بہت سی مثالیں اورنمونے ملتے ہیں جس یہ ظاہراورواضح ہوتا ہے کہ دین اسلام میں ایک جدید اورنۓ مسلمان کی کیا قدرو قیمت اور‏عزت ہے چاہے وہ پہلے کسی بھی دین سے تعلق رکھنے والا ہی کیوں نہ ہو وہ یھودی ہویا عیسائ یا کسی اوردین سے تعلق رکھنے والا ہو ۔
اوراگرکچھ مسلمانوں کی طرف سے کوئ تنگی یا پھرروکاوٹ کسی اسلام قبول کرنے والے یھود ی الاصل کوآئ بھی ہوتویہ جہالت اورکمی کوتاہی کی بنا پر ہے نہ کہ اسلام کی وجہ سے بلکہ اسلام کا موقف توآپ نے جان ہی لیا ہے ، لھذا آپ قبول اسلام میں جلدی کریں اورفوری طورپرکلمہ پکاراٹھیں ، ہم اس دین کے تحت آپ کی سعادت مندزندگی کے خواہشمند ہیں ۔
باقی ایک ملاحظہ ہے ہم چاہتے ہیں کہ وہ بھی بیان کردیا جاۓ جس کا ذکر آپ نے اپنے خط میں بھی کیا ہے ۔
آپ کا اس مسلمان نوجوان کے ساتھ تعلق اس وقت تک شرعی نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ نکاح اورشادی کے ساتھ نہ قائم ہو اللہ تعالی بھی نکاح کے طریقہ کوپسند فرماتا ہے جوکہ اس نے اپنے بندوں کے لیے مشروع کیا ہے تا کہ مرد اورعورت آپس میں تعلق قائم کریں اس لیے آپ نکاح کے بغیر اس سے تعلق رکھنے سے گريز کریں جوکہ ناجائز ہیں ۔
اورہم سمجھتے ہيں کہ آپ نے جوحالات بیان کیے ہیں ان میں آپ کا اسلام قبول کرنا اورگناہوں سے توبہ آپ کے لیے سب راستے کھول د ےگا اوراس مسلمان کے ساتھ شرعی تعلقات قائم کرنے میں بھی آسانی پیدا کرے گا ۔
ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ آپ کوحق قبول کرنے اوراس پر ثابت قدمی کی توفیق عطافرماۓ اورآپ کے لیے دنبیا میں خیرو بھلائ میں جلدی کرے اورآپ کو اس سے نوازے ، اور آخرت میں آپ کوکامیابی اورجنت عطا فرماۓ آمین یا رب العالمین ۔
اللہ سبحانہ وتعالی ہی سیدھے راہ کی راہنمائ کرنے والا ہے

غیرمسلم لڑکی کے مطالبہ پرایک مسلمان عورت کا عظيم قصہ

مرحبا : میری عمرہ پندرہ برس ہے اورمیں اسٹریلیا میں پڑھتی ہوں ، میرے ذمہ ادیان کے بارہ میں ایک مقالہ ہے جس کا موضوع اسلام میں عورت کے احکام ہے ، میں نے آپ کی ویپ سائٹ کوبہت مفید پایا مجھے علم نہيں کہ کہں مزید معلومات ارسال کرنے کوئ مانع تونہیں اورکتنا ہی اچھا ہوکہ کسی عورت کا کو‏ئ قصہ جو اس مقالہ میں معاون ہو ؟
میں حقیقت میں جس طرح غیرمسلم عورتوں کےبارہ میں جانتی ہوں مسلمان عورتوں کے بارہ میں بہت زيادہ علم نہیں رکھتی ، لیکن اتنا علم ہے کہ اسلام میں عورت پربہت زيادہ پابندیاں ہیں ۔
مجھے امید ہے کہ آپ اس موضوع میں میری تصحیح کریں گے ۔


الحمدللہ
ہم آپ کے اہتمام اورسؤال پرمشکورہیں ، اورذیل میں ہم آپ کے سامنے ایک عظیم مسلمان عورت کا قصہ رکھتے ہیں جس میں ہوسکتا ہے آپ کا مطلوب بھی پوراہوجاۓ اور آپ کے لیےحق کے راستے کی طرف دلیل اورچراغ بن جاۓ :
انس رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ( مالک بن انس نے اپنی بیوی ام سلیم رضي اللہ تعالی عنہ جوکہ انس رضي اللہ تعلی عنہ کی والدہ بھی ہیں کوکہا :
بلاشبہ یہ شخص - یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم - شراب نوشی کوحرام کہتا ہے ، اورمالک وہاں سے شام چلا گيا اوروہیں مرگیا ( یعنی جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ھجرت کرکے مدینہ تشریف لاۓ تومالک وہاں سے بھاگ گيا اس لیے کہ اسے شراب کی حرمت پسند نہیں آئي اورشام میں کفر کی حالت میں ہی مرگیا )
ابوطلحہ رضي اللہ تعالی عنہ نے ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا کوشادی کا پیغام بھیجااوران سے بات کی توام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا کہنے لگيں :
اے ابوطلحہ ! تیرے جیسے آدمیوں کورد تونہیں کیا جاسکتا لیکن بات یہ ہے کہ توکافر ہے اور میں مسلمان عورت ہوں اس لیے میں شادی نہیں کرسکتی !
توابوطلحہ رضي اللہ تعالی عنہ کہنے لگے تجھے مہر بھی ملے گا ، توام سلیم رضي اللہ تعالی عنہ نے پوچھا میرا مہر کیا ہوگا ؟
ابوطلحہ نے کہا : سونا اورچاندی ( یعنی سونے چاندی کی رغبت دلائ ) توام سلیم رضي اللہ تعالی عنہا کہنے لگیں مجھے سونا چاندی نہیں چاہیۓ ، میں توتجھ سے اسلام کا مطالبہ کرتی ہوں کہ اسلام قبول کرلو ، اگراسلام قبول کرلوگے تویہی میرا مہرہوگا اس کے علاوہ میں کچھ بھی نہیں مانگوں گی ۔
ابوطلحہ رضي اللہ تعالی عنہ کہنے لگے : اس میں میرا کون تعاون کرے گا ؟ ام سلیم رضي اللہ تعالی عنہا کہنے لگيں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تعاون کریں گے ، لھذا ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تلاش کرتے ہوۓ گۓ تونبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ میں بیٹھے ہوۓ تھے
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا توکہنے لگے تمہارے پاس ابوطلحہ آرہا ہے اوراس کی آنکھوں میں اسلام کی چمک ہے ۔ ( یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کامعجزہ ہے کہ ابوطلحہ کے کلام کرنے سے قبل ہی اس کے اسلام کا علم ہوگيا ) ۔
ابوطلحہ رضي اللہ تعالی عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوام سلیم کی ساری بات بتائ اوراس پرانہوں نے ام سلیم رضي اللہ تعا لی عنہا سے شادی کرلی ۔
انس رضي اللہ تعالی عنہ سے اس قصہ کے راوی ثابت البنانی کہتے ہیں کہ ہمیں اس سے زيادہ کسی اورکے مہرکے متعلق کوئ خبرنہیں پہنچی اس لیے کہ ام سلیم رضي اللہ تعالی عنہا اسلام کومہربنایا توابوطلحہ رضي اللہ تعالی عنہ نے ان سے شادی کرلی ۔
ام سلیم نیلگوں اورقدرے چھوٹی آنکھوں کی مالک خاتون تھیں ابوطلحہ رضي اللہ تعالی عنہ کےساتھ رہیں حتی کہ ان کا ایک بیٹا بھی پیدا ہوا ، ابوطلحہ رضي اللہ تعالی عنہ ان سے بہت زيادہ محبت کرتے تھے ۔
اوروہ بچہ بہت سخت بیمار ہوگيا توابوطلحہ رضي اللہ تعالی عنہ اس کی بیماری سے بہت پریشان وعاجز اور اس کی وجہ سے بہت زيادہ کمزوراوردبلے ہو گۓ ، ابوطلحہ رضي اللہ تعالی عنہ کی عادت تھی کہ وہ فجر کی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے اورآدھے دن تک وہیں رہتے ۔
پھر واپس آ کرکھانے کھاتے اورقیلولہ کرتے اورظہر کی نماز پڑھ کرتیار ہوکے چلے جاتے اورعشاء کے وقت واپس آتے تھے ، ایک شام ابوطلحہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( اورایک روایت میں ہے کہ مسجد) کی طرف چلے گۓ اوربچہ قضاۓ‎ الہی سے فرت ہوگيا ( یعنی ان کی غیرموجودگی میں )
توام سلیم رضي اللہ تعالی عنہا کہنے لگيں : ابوطلحہ کوان کے بچے کی موت کا کوئ نہ بتاۓ ، بلکہ میں خود ہی انہیں بتاؤں گی ، انہوں نے بچے کی تجہیزوتکفین کی اوراسے ڈاھانپ دیا گویا کہ وہ سورہا ہو اوراسے گھر میں ایک طرف لٹا دیا ۔
ابوطلحہ رضي اللہ تعالی عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے واپس آۓ اوران کے ساتھ مسجدوالوں میں سے ان کے دوست بھی تھے ابوطلحہ ام سلیم رضي اللہ تعالی عنہا کے پاس آۓ اورپوچھنے لگا بیٹا کی حالت کیسی ہے ؟
توام سلیم رضي اللہ تعالی عنہا کا جواب تھا :
اے ابوطلحہ جب سے اسے تکلیف شروع ہوئ ہے ابھی کچھ دیرپہلے ختم ہوئ ہے ، اورمجھے امید ہے کہ وہ آرام اورراحت محسوس کررہا ہے !
( ام سلیم رضي اللہ تعالی عنہا کا یہ کوئ جھوٹ نہیں بلکہ انہوں نے توریہ کیا جس میں ان کا مقصد یہ تھا کہ بچے کو تکلیف اوربیماری سے موت کے سکون و راحت اورارام میں ہے اوران کے خاوند یہ سمجھے کہ بچے کی حالت پہلے سے بہتر اوراچھی ہے )
ام سلیم رضي اللہ تعالی عنہا نے انہیں کھانا دیا ان سب نے کھانا کھایا اورسب دوست چلے گۓ ۔
انس رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوطلحہ رضي اللہ تعالی اٹھے اوراپنے بستر پرجا کرسو گۓ اورام سلیم رضي اللہ تعالی عنہا بھی اٹھیں اورخوشبووغیرہ لگائ اورابوطلحہ کے لیے اچھا بناؤ سنگار کیا جس طرح وہ پہلے کرتی تھیں ۔
( یعنی اپنے خاوند کے لیے بناؤ سنگار کیا جوکہ ان کے صبرعظیم اورتقدیر اوراللہ تعالی کے فیصلے پرایمان کی دلیل اورنشانی اوراللہ تعالی سے ثواب کے حصول کےلیے صبر اوران کےغم کے شعور کوچھپانے اوراس امید کی دلیل ہے کہ اس رات اپنے فوت شدہ بچے کے عوض میں خاوندسے ہم بستری کرکے حمل کی امید رکھتے ہوۓ کیا )
پھرآکر خاوند کے بستر میں داخل ہو‏ئ توابوطلحہ رضي اللہ تعالی عنہ کوخوشبوآئ اورابوطلحہ رضي اللہ تعالی عنہ نے وہ کیا جو آدمی اپنی گھروالی سے کرتا ہے ( یہ راوی نے خاوند کا بیوی سے ہم بستری کے واقعہ بیان کرنےمیں ادب و عفت کا طریقہ ہے )
جب رات کا آخری پہرہوا تو ام سلیم رضي اللہ تعالی عنہا کہنے لگيں :
اے ابوطلحہ ذرا یہ توبتائيں کہ اگر کچھ لوگ کسی کے پاس عاریۃ کوئ چيزرکھیں اورپھر وہ اپنی اس رکھی ہوئ چیزکا مطالبہ کریں توکیا انہیں یہ لائق ہے کہ وہ ان کی رکھی ہو‏ئ چيز واپس نہ کریں ؟
ابوطلحہ رضي اللہ تعالی عنہ کہنے لگے انہیں اسے اپنے پاس رکھنے کا کوئ حق نہیں پہنچتا ۔
ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا کہنے لگيں : تواللہ تعالی نےبھی آپ کوبیٹا عاریتا دیا تھا پھراللہ نے اسے قبض کرلیا ہے ، لھذا آپ صبر کیں اوراللہ تعالی سے اجرحاصل کریں !
ابوطلحہ کوغصہ آیا اورکہنے لگے : تونےمجھے ایسے ہی رہنے دیا حتی کہ میں نے جماع اورجنابت بھی کرلی اورپھرمجھے میرے بیٹے کی موت کی خبر دی!
پھرانہوں نے ( إنا لله وإنا إليه راجعون ) بلاشبہ ہم بھی اللہ کے لیے ہیں اوراس کی طرف لوٹ کرجانے والے ہيں ، پڑھا اوراللہ تعالی کی حمدوثنا بیان کی
جب طلوع فجر ہوئ توغسل کیا اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کی نماز ادا کی اورانہيں سارا قصہ بیان کیا ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی تمہاری اس گزری ہوئ رات میں برکت فرماۓ ، تواس سے ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا کوحمل ٹھر گيا ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ام سلیم کے بارہ میں کی ہوئ دعا قبول ہوئ‏ )
ام سلیم رضي اللہ تعالی عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں جاتی تھیں جب آپ جاتے وہ بھی جاتیں اورجب واپس آتے تو وہ بھی آجاتیں ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچہ پیدا ہوتومیرے پاس لانا ،۔
انس رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تھے اورام سلیم رضي اللہ تعالی عنہا بھی ساتھ تھیں اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب سفر سے واپس آتے تورات کونہیں آتے تھے ۔
( یعنی رات کومدینہ میں نہیں آتے تھے تا کہ اہل عیال کوگبراھٹ میں نہ ڈالیں اوربیویاں سفر پرگۓ ہوۓ خاوندوں کے لیے تیاری کرلیں )
نبی صلی اللہ جب اس سفر میں مدینہ کے مریب پہنچے توام سلیم کودردوں نے آلیا ، اوران کی وجہ سے ابوطلحہ کوبھی رکنا پڑا اوررسول صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چل پڑے ،توابوطلحہ رضي اللہ تعالی عنہ نے دعا کی اےاللہ تجھے علم ہے کہ مجھے یہ پسند ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی نکلوں اوران کے ساتھ ہی مدینہ میں داخل ہوؤں اورتودیکھ رہا ہے کہ میں اس کی وجہ سے رکا ہوا ہوں ۔
انس رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ :
ام سلیم رضي اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں : اے ابوطلحہ مجھے اب وہ دردنہیں جوپہلے ہو رہی تھی ( یہ ان کی کرامت ہے کہ اللہ تعالی سے دعا کرتے ہی وہ درد جاتی رہی تا کہ وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا ملیں )
تووہ دونوں وہاں سے آگۓ اورجب مدینہ آگۓ توپھردرد شروع ہوا توام سلیم رضي اللہ تعالی عنہا نے ایک بچہ جنا ، اورام سلیم اپنے بیٹے انس رضي اللہ تعالی عنہ کوکہنے لگيں اے انس اسے اس وقت کوئ چيزنہیں کھلانی جب تک کہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس نہ لے جاؤ
اوربچے کےساتھ کچھ کھجوریں بھی بھیجیں ( اس لیے کہ وہ چاہتی تھیں کہ بچے کے پیٹ میں سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ جاۓ ، جو کہ ان کے عظیم الشان ایمان پردلالت کرتا ہے حالانکہ عورت عادتا پیدائش کے بعد سب سے پہلے بچے کودودھ پلانے کی کرتی ہے )
انس رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ : بچے نے رات روتے ہوۓ گزاری اورمیں ساری رات اس کا خیال رکھتا رہا اورچپ کرانے کی کوشش کرتا رہا جب صبح ہوئ تومیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گيا اورنبی صی اللہ علیہ وسلم دھاری دار چادر لیے ہوۓ صدقہ کے اونٹ یا بکریوں کونشانات لگا رہے تھے تاکہ وہ دوسروں میں گھل مل کرضائع نہ ہوجائيں ۔
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کی طرف دیکھا توفرمانے لگے : کیا بنت ملحان کے ہاں بچے پیداہواہے ؟
جواب کہا گیا جی ہاں ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے صبر کرومیں تیر ے لیے فارغ ہوتا ہوں ۔
انس رضي اللہ تعالی عنہ کہتے ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں جوکچھ بھی تھا اسے رکھااوربچے کواٹھا لیا اورفرمانے لگے : کیا اس کے ساتھ کوئ اورچيزبھی ہے ؟ توصحابہ نے جواب دیا جی ہا ں کھجوریں ہیں ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کھجوریں لیں اورانہیں چبا کراپنے تھوک کے ساتھ بچے کے منہ میں ڈالیں ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تھوک اللہ تعالی کی جانب سے بابرکت ہے ) اوراسے چٹائ اوربچہ کھجور کی مٹھاس اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تھوک چوسنے لگا ۔
تواس طرح بچے کے پیٹ میں سب سے پہلے داخل ہوکر انتڑیوں کو کھولنے والي چيز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تھوک تھی ۔
اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے دیکھو انصار کی کھجوروں سے محبت ہے ، انس رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اےاللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کانام بھی رکھ دیں ،تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سر پر پیار کیا اوراس کا نام عبداللہ رکھا ،توانصارمیں اس سے افضل جوان کوئ‏ نہیں تھا ۔
انس رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس عبداللہ کی اولاد بہت زيادہ تھی اورعبداللہ فارس میں شہید ہوۓ ( یعنی فارس کے شہروں کو فتح کرتے ہوے جام شھادت نوش کیا جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا اثر تھا )
یہ قصہ امام بخاری اور امام مسلم اورامام احمد اورطیالسی ، وغیرہ نے روایت کیا ہے ، اوپر گزرنے والا سیاق طیالسی کا بیان رکردہ ہے ، علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے اس حدیث کے سارے طرق احکام الجنائز ص 26 میں جمع کیے ہیں ۔
یہ تومسلمانوں میں سے صرف ایک صحابیہ عورت کا ایک قصہ تھا ، اوراس کے علاوہ بھی بہت سے قصے اورواقعات پاۓ جاتے ہیں جوعورتوں پر اسلامی اثر کوواضح کرتے ہیں ، کہ کس طرح ان پاکیزہ دلوں میں دین اسلام بسا ہوا تھا اوراس کے کیا اچھے نتائج حاصل ہوتے تھے ۔
اورکس طرح وہ دین کے ساتھ معاملات کرتے اوراعمال صالحہ اورسیرت نبویہ کس طرح کے پھل دیتے تھے ، دین حق اور دین صحیح کے متلاشی کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اتباع کے لیے اگرکوئ دین تلاش کرتا ہے تووہ دین اسلام ہی ہے ۔
آپ ایک دفع اس جواب اورقصہ کوپھرپڑھیں اورغورو فکر اورتدبر سےکام لیں ہوسکتا ہے کہ آپ بھی اپنی زندگی کا سب سے اہم قدم اٹھائيں اورسلام قبول کرلیں ، والسلام علی من اتبع الھدی ۔

قبلہ رخ ليٹرين بنانے كا حكم

ميں اس وقت گھر تعمير كر رہا ہوں مجھے يہ بتايا گيا ہے كہ ليٹرين كا رخ قبلہ كى طرف نہيں ہونا چاہيے، چاہے آگے ديوار بھى حائل ہو كيا يہ كلام صحيح ہے ؟


الحمد للہ:
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے صحيح حديث ميں ثابت ہے كہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے قضائے حاجت كرتے وقت قبلہ رخ ہونا اور قبلہ كى طرف پيٹھ كر كے قضائے حاجت كرنے سے منع فرمايا ہے.
جمہور علماء كرام ( جن ميں امام مالك، امام شافعى، امام احمد رحمہم اللہ شامل ہيں ) كا كہنا ہے كہ يہ نہى اس شخص كے ليے ہے جو ايسى جگہ قضائے حاجت كرے جہاں قبلہ اور اس كے مابين آڑ اور چھپاؤ نہ ہو، ليكن عمارتوں اور گھروں ميں انہوں نے قضائے حاجت ميں قبلہ رخ يا قبلہ كى طرف پشت كرنا جائز قرار ديا ہے.
اور كچھ دوسرے علماء كرام ( جن ميں امام ابو حنيفہ رحمہ اللہ شامل ہيں، اور شيخ الاسلام ابن تيميہ نے بھى اسے ہى اختيار كيا ہے ) قضائے حاجت كے وقت مطلقا قبلہ رخ اور پشت كرنا حرام ہے، چاہے عمارتوں ميں ہو يا كھلى جگہ پر.
ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 1 / 107 ) حاشيۃ ابن عابدين ( 1 / 554 ) الموسوعۃ الفقھيۃ ( 5 / 34 ).
جبكہ ابھى آپ گھر كى تعمير كے مرحلہ ميں ہيں اس ليے احتياط اسى ميں ہے اور بہتر يہى ہے كہ آپ ليٹرين كا رخ اس طرح ركھيں كہ قضائے حاجت كے وقت نہ تو قبلہ رخ ہو اور نہ ہے قبلہ كى طرف پشت، تا كہ اختلاف سے نكلا جا سكے.
مستقل فتوى كميٹى سے درج ذيل سوال كيا گيا:
گھروں يا كھلى جگہ ميں قضائے حاجت كے وقت قبلہ رخ ہونا يا اس كى طرف پشت كر كے قضائے حاجت كرنے كا حكم كيا ہے ؟
پھر يہ بھى بتائيں كہ اس وقت جو عمارتيں استعمال كى جا رہى ہيں اور ان ميں ليٹرين قبلہ رخ ہے يا قبلہ كى طرف پشت ہوتى ہو اور سارى ليٹرين كو گرائے بغير اس ميں تبديلى ممكن نہ ہو تو اس كا حكم كيا ہے ؟
آخر ميں يہ سوال بھى ہے كہ ہمارے پاس كچھ كالونياں ہيں جن كى ابھى تنفيذ نہيں ہوئى اور بعض ليٹرينيں قبلہ رخ ہيں يا پھر قبلہ كى طرف پشت ہوتى ہے كيا انہيں تبديل كرنا ضرورى ہے يا كہ اسے ويسے ہى رہنے ديا جائے اور اس ميں كوئى حرج نہيں ؟
كميٹى كا جواب تھا:
اول:
علماء كرام كے اقوال ميں ميں صحيح قول يہ ہے كہ قضائے حاجت كے وقت قبلہ رخ ہونا يا اس كى طرف پشت كرنا حرام ہے، ليكن گھروں اور عمارتوں كے اندر جائز ہے، يا پھر كعبہ اور اس كے قريب كوئى آڑ ہو جو كعبہ كے درميان حائل ہو تو جائز ہے، مثلا اونٹ كا كجاوہ، يا كوئى درخت يا پہاڑ اور چٹان وغيرہ.
اكثر اہل علم كا قول يہى ہے كيونكہ ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى كى حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" جب تم ميں سے كوئى ايك قضائے حاجت كے ليے بيٹھے وہ نہ تو قبلہ رخ ہو كر بيٹھے اور نہ ہى قبلہ كى طرف پشت كرے "
اسے امام احمد اور امام مسلم نے روايت كيا ہے.
اور ابو ايوب انصارى رضى اللہ عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" جب تم قضائے حاجت كے ليے جاؤ تو قبلہ كى طرف رخ نہ كرو، اور نہ ہى اس كى طرف پيٹھ كرو، ليكن مشرق يا مغرب كى طرف اپنا رخ كيا كرو "
اسے بخارى اور مسلم نے روايت كيا ہے.
اور ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ:
" ميں ايك روز حفصہ رضى اللہ تعالى عنہا كے گھر كى چھت پر چڑھا تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو شام كى طرف رخ اور قبلہ كى طرف پيٹھ كر كے قضائے حاجت كرتے ہوئے ديكھا "
اسے بخارى اور مسلم اور سنن اربعہ نے روايت كيا ہے.
اور ابو داود اور حاكم نے روايت كيا ہے كہ مروان الاصفر رحمہ اللہ كہتے ہيں ميں نے عبد اللہ بن عمر رضى اللہ تعالى عنہما كو ديكھا كہ انہوں نے اپنى اونٹنى بٹھائى اور قبلہ رخ ہو كر اونٹنى كى طرف پيشاب كيا، تو ميں نے عرض كيا:
" اے ابو عبد الرحمن كيا اس سے منع نہيں كيا گيا ؟
تو انہوں نے فرمايا: يہ كھلى جگہ اور فضاء ميں منع ہے، اگر تيرے اور قبلہ كے درميان كوئى آڑ ہو جو تجھے چھپا رہى ہو تو كوئى حرج نہيں "
ابو داود رحمہ اللہ نے اس حديث پر سكوت اختيار كيا ہے، اور حافظ ابن حجر فتح البارى ميں كہتے ہيں: اس كى سند حسن ہے.
احمد، ابو داود، ترمذى اور ابن ماجہ نے جابر بن عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہما سے روايت كيا ہے كہ:
" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہميں پيشاب كرتے وقت قبلہ رخ ہونے سے منع فرمايا، تو ميں نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو فوت ہونے سے ايك برس قبل قبلہ رخ ديكھا "
بہت سے اہل علم دلائل كے درميان جمع اور تطبيق كرتے ہوئے يہى كہتے ہيں كہ ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ وغيرہ كى حديث كو اس پر محمول كيا جائيگا كہ اگر كھلى جگہ ميں بغير كسى آڑ كے قضائے حاجت كى جائے، اور جابر بن عبد اللہ اور ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہم كى احاديث كو گھروں اور عمارتوں يا پھر قبلہ اور اس كے درميان آڑ اور پردہ پر محمول كيا جائيگا.
اس سے يہ علم ہوا كہ عمارتوں اور گھروں ميں قضائے حاجت كرتے ہوئے قبلہ رخ اور قبلہ كى طرف پيٹھ كرنا جائز ہے.
دوم:
اگر تو يہ كالونياں عمارتوں كے ليے ہيں اور ابھى ان كى تنفيذ نہيں ہوئى اور اس ميں قبلہ رخ يا پھر قبلہ كى طرف پشت ہونے والى ليٹرينيں ہيں تو احتياط اسى ميں ہے كہ ان ميں تبديلى كر لى جائے، تا كہ قضائے حاجت كے وقت قبلہ رخ نہ ہوا جائے اور نہ ہى قبلہ كى طرف پشت ہو، اس طرح اختلاف سے بھى بچا جا سكتا ہے، اور اگر ان ميں تبديلى نہ بھى كى جائے تو سابقہ احاديث كى روشنى ميں اس ميں كوئى گناہ نہيں " انتہى.