سڈنی
(بیورورپورٹ ) دنیا کی مختلف جیلوں میں 21 سال سے قید آسٹریلیا کے بدنام
زمانہ منشیات سمگلر نے خطوط کے ذریعے جیل میں گزرنے والے وقت کی دلچسپ
روداد بیان کر دی۔ خطوط میں قیدی نے بتایا کہ کس طرح اس نے جیلوں میں بھی
سمگلنگ جاری رکھی، ایک ماہ کی بھوک ہڑتال کی اور بعدازاں قرآن پاک کا
مطالعہ کرنے پر تائب ہو کر مسلمان ہو گیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی طرف
سے جاری تفصیلات کے مطابق سڈنی سے تعلق رکھنے والا 47 سالہ سابق کار ڈیلر
مارٹن گارنیٹ تین ممالک کی جیلوں میں منشیات فروشی کی وجہ سے قید رہ چکا
ہے۔ 1993ءمیں پہلی بار وہ بنکاک میں 26 سال کی عمر میں 4.7کلو گرام ہیروئن
سمگل کرتے ہوئے گرفتار ہوا۔ جیلوں میں مشکل حالات سے تنگ آکر اس نے کئی بار
خودکشی کی کوششیں بھی کیں، جس میں وہ ناکام رہا تو اس نے انڈیانا جیل سے
گارڈ کے ساتھ مل کر منشیات فروشی کا دھندہ شروع کر دیا۔ آج کل بھی مارٹن
سڈنی کی ایک جیل میں قید ہیں کیوں کہ اس کی ماں نے بھاری رقم (20ہزار
امریکی ڈالر) ادا کر کے اسے ایک امریکی جیل سے یہاں منتقلکروایا ہے۔ تھائی لینڈ میں منشیات کیس میں گرفتار مارٹن کو موت کی سزا
سنائی گئی تو 2011ءبادشاہ نے اس کی سزائے موت معاف کرتے ہوئے عمر قید میں
تبدیل کردی، جس سے اسے پیسے کا طاقت کا اندازہ ہوا۔ تھائی لینڈ کی جیل میں
قید کے دوران اس نے 31روز تک بھوک ہڑتال بھی کی، جس دوران اسے پہلی بار
زندگی سے پیار ہوگیا اور اس نے سوچا کہ اسے زندہ رہنا چاہیے۔ دوران قید اس
نے کتب کا مطالعہ شروع کر دیا جس میں مقدس کتاب قرآن مجید بھی شامل تھی۔
قرآن کے اس مطالعہ نے اس کی زندگی ہی بدل کر رکھی دی اور وہ مسلمان ہو گیا۔
مسلمان ہونے پر مارٹن نے اپنا نام تبدیل کرکے امین مبارک رکھا لیا۔ اب اس
نے سمگلنگ کا دھندہ چھوڑ دیا ہے اور پانچ وقت کی نماز کی پابندی کرتا ہے۔
آج وہ زندہ رہنے پر خوش ہے۔
No comments:
Post a Comment