Pages

Saturday, 24 May 2014

خاتون جنت حضرت فاطمہؓ


سیدہ فاطمہؓ حضور کی سب سے چھوٹی صاحبزادی ہےں بعثت نبوی کے وقت جب حضور کی عمر مبارک41سال تھی ۔حضرت فاطمہؓ مکہ مکرمہ میں پےداہوئےں سیدہ فاطمہؓ کے القاب مےن چند مشہور القاب زہرا،بتول،زکےہ،رافےہ،طاہرہ،سےدة النساءاہل الجنة خاص طور پر قابل ذکر ہےں۔ان کی پرورش اور تربےت سےدہ خدےجہ ؓ اور آنحضرت نے فرمائی اور انہےں کی نگرانی مےں سن شعور کو پہنچےں مسلم شرےف مےں ہے:
?سےدہ فاطمہؓ جس وقت چلتی تھیں تو آپ کی چال ڈھال اپنے والد امام الانبےائ کے بالکل مشابہہ ہوتی تھی۔?
حضور کے ساتھ ام المومنےن سےدہ عائشہ صدےقہؓ فرماتی ہےں کہ مےں نے قےام وقعود نشت و برخاست ،عادات و اطوار مےں حضرت فاطمہؓ سے زےادہ آ پ کے مشابہ کسی کو نہےں دےکھا۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہےں کہ اسلام کے ابتدائی اےام مےں حضور کعبة اللہ مےں نماز پڑھ رہے تھے قرےش کے چند شرےروں نے شرارت کرتے ہوئے اونٹ کی اوجھڑی لا کر خےرالانام کے اوپر رکھ دی حضور حالت سجدہ مےں تھے قرےش اس حرکت پر مسرور ہوئے۔سےدہ فاطمہؓ کا بچپن تھا کسی نے جا کر بتلاےا تو دوڑتی ہوئی تشرےف لائےں اور اس بوجھ کو اتار ا اور کفار سے ناراضگی کا اظہار فرماےا۔علامہ جلال الدےن سےوطی نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے رواےت نقل کی ہے کہ حضور کی بعثت کے ابتدائی زمانے مےں اےک دن ابوجہل نے سےدہ فاطمہؓ کو کسی بات پر تھپڑ مارا،کمسن سےدہ روتی ہوئی سےد الاولےن و آخرےن کے پاس حاضر ہوئےں۔آپ نے ان سے فرماےا بےٹی!ابوسفےان ؓ کو ابوجہل کی اس حرکت سے آگاہ کرو۔وہ ابوسفےانؓ کے پاس گئےں اور انہےں سارا واقعہ سناےا،ابو سفےانؓ نے سےدہ کی انگلی پکڑی اور سےدھے ابوجہل کے پاس گئے اور سےدہؓ سے کہا کہ جس طرح اس نے تھپڑ مارا ہے تم بھی اسے تھپڑ مارو۔اگر ےہ کچھ بولے گا تو مےں نمٹ لوں گا۔چنانچہ سےدہ ؓ نے ابوجہل کو تھپڑ مارا اور گھر جا کر حضور کو سارا واقعہ سناےا تو حضور نے ان کے لئے دعا فرمائی :?اے اللہ ابوسفےانؓ کے اس سلوک کو نہ بھولنا?۔
ماہ رجب 2ہجری مےں سیدہ فاطمہؓ کا نکاح سےدنا علی المرتضیٰ ؓ سے ہوا اور نکاح کا مہر چار صد مشکال مقرر کےاگےا۔نکاح کے وقت سےدنا علیؓ کی عمر اکےس ےا چوبےس برس اور سےدہ فاطمہؓ کی عمر پندرہ،اٹھارہ ےا انےس سال تھی اس نکاح کی تقرےب مےں جےد صحابہ کرامؓ کی بڑی تعداد شرےک تھی۔سےدنا ابوبکر صدےقؓ سےدنا عمر فاروق ؓ سےدنا عثمانؓ اور دےگر صحابہؓ شامل تھے۔
آنحضرت نے فرماےا!
?فاطمہؓ جنت کی عورتوں کی سردار ہے ۔?(البداےة)
?فاطمہؓ سب سے پہلے جنت مےں داخل ہوں گی?(کنزالعمال)
صحےح بخاری مےں رواےت ہے کہ نبی کرےم فرماتے ہےں کہ فاطمہؓ خواتےن امت کی سردار ہے فاطمہؓ مےرے جگر کاٹکرا ہے جس نے اسے تنگ کےا اس نے مجھے تنگ کےا اور جس نے مجھے تنگ کےا اس نے اللہ کو تنگ کےا جس نے اللہ تعالیٰ کو تنگ کےا قرےب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا مواخذہ کرے۔آقا نے حضرت علی المرتضیٰ اور سےدہ فاطمہؓ کے درمےان خانگی امور کی تقسےم اس طرح فرمائی کہ فاطمہ ؓ اندرون خانہ سارا کام سر انجام دےں گی۔اور علی المرتضیٰؓ بےرون خانہ کے فرائض انجام لائےں گے۔سرکار دو عالم غزوہ احد مےں زخمی ہوئے تو حضور کے زخموں کی مرہم پٹی کا بے مثال کارنامہ سرانجام دےنے والی شخصےت سےدہ فاطمہؓ کی ہے اور بخاری شرےف مےں ہے کہ سےدہ فاطمہؓ غزوہ احد میں حضور کے زخموں کو دھو رہی تھیں۔اور سےدنا علی المرتضیٰ پانی ڈال رہے تھے۔جب دےکھا کہ پانی ڈالنے کی وجہ سے خون بہہ رہا ہے تو اےک چٹائی جلا کر اس کی راکھ زخموں پر لگائی جس سے خون بند ہو گےا۔(بخاری جلد ثانی)
حضور سےدہ فاطمہؓ سے بہت محبت فرماتے۔جب ملنے کی غرض سے تشرےف لاتےں۔تو حضور ان کے استقبال کے لئے کھڑے ہوجاتے ،ماتھے پر بوسہ دےتے اور اپنے ساتھ بٹھا لےتے۔جب حضور ان کے ہاں تشرےف لے جاتے تو سےدہ فاطمہؓ احتراماً کھڑی ہو جاتےں آپ کے دست مبارک کو بوسہ دےتےں اور اپنی نشست پر بٹھا لےتی تھیں۔سےدہ فاطمہؓ کی عمر 29سال تھی۔جب حضور نے رحلت فرمائی حضور کو حضرت فاطمہؓ سے بڑی محبت تھی کےونکہ اب صرف اولاد مےں وہی حےات تھیں۔حضور نے وصال سے اےک دن قبل بلاےا ۔اور جب تشرےف لائےں تو آپ نے ان کے کان مےں باتےں کےں ۔سےدہؓ آبدےدہ ہو ئےں۔پھر بلا کر کان مےں کچھ کہا تو ہنس پڑےں۔جب سےدہؓ سے حضرت عائشہؓ نے پوچھا کہ حضور نے کےافرماےاتھا؟تو عرض کرنے لگےں کہ پہلی دفعہ آپ نے فرماےا کہ مےں اسی حالت مےں انتقال کروں گا تو مجھے رونا آگےا۔اور دوسری دفعہ فرماےاکہ مےرے خاندان مےں سب سے پہلے تم ہی مجھے آکر ملو گی تو مےں ہنسنے لگی۔(صحےح بخاری ج۲صی ۷۳۶)
حضور کی رحلت پر نہاےت دردوسوز کے عالم مےں فرماےاتھا۔
?مجھ پر مصےبتوں کے اس قدر پہاڑ ٹوٹ پڑے ہےں کہ اگر ےہ مصےبتوں کے پہاڑ دنوں پر ٹوٹتے تو دن بھی رات بن جاتے۔?
سےدہ فاطمہ الزہرہؓ نے وصےت فرمائی تھی کہ مےرا جنازہ رات کے وقت اٹھاےا جائے تاکہ اس پر غےر مردوں کی نظر نہ پڑے۔سےدہؓ کو غسل حضرت ابوبکر صدےقؓ کی زوجہ محترمہ حضرت اسماءبنت عمےسؓ نے دےا۔معاونت مےں حضرت ابو رافع (جو حضور کے غلام تھے)کی بےوی سلمیٰ ام اےمن شامل تھیں۔اس سارے انتظام کی نگرانی حضرت علی المرتضیٰ ؓ فرمارہے تھے۔سےدہ فاطمہ الزہراہؓ سے خالق کائنات نے حضرت علی المرتضیٰ ؓ کو پانچ اولادےں عطا فرمائیں۔تےن لڑکے اور دو لڑکےاں ان کے اسمائے گرامی ےہ ہےں،حضرت حسنؓ ،حضرت حسےنؓ،حضرت زےنبؓ ،حضرت ام کلثومؓ ،حضرت محسنؓ۔
اللہ مسلمانوں عورتوں کو خاتون جنت حضرت فاطمہؓ کے نقش قدم پر چلائے ۔آمےن

No comments:

Post a Comment