Pages

Wednesday, 21 May 2014

دارلعلوم دیوبند

دل پر اثر کرنے والی تحریر لکهی هے


پورے ایشیا میں دارلعلوم دیوبند کی دینی،مذہبی،تالیفی،تصنیفی،قومی ملکی،ملی،اصلاحی اور فنی خدمات ہر شہر ہر قصبہ ہر دیہات میں دن رات مسلم ہے.

جب ہندستان میں کفرکا طوفان تھا.
شرک براجمان تھا.

بدعات رسومات رواجات میں مبتلا انسان تھا.

خرافات،ہزلیات،اغلوطات کا شکار مسلمان تھا

اسلام براۓ نام تھا

مذہب بدنام تھا

ہر غلط کام تھا

عقیدہ خام تھا

جہالت کا اندھرا تھا

ظلم کا بسیراتھا

گمراہی کا ڈیرہ تھا

انگریز کی حکمرانی تھی

حکومت شیطانی تھی

ہر طرف حیرانی پریشانی تھی

ہر سو ویرانی تھی

جب علماء کو پھانسی پر لٹکایا گیا

دارورسن پر چڑھایا گیا

دریاۓ شور عبور کرایا گیا

حق گولوگوں کا سر اڑایا گیا

الکفرملتہ واحدۃ کا سماں تھا

نقشہ الحفیظ والاماں تھا

بڑے بڑے جاگیردار سرمایہ دار اور زمیندار حکومت کے وفادار تھے

ملک کے غدار تھے

مذہب سے بیزار تھے

اعلی عہدوں کا طلبگار تھے

اکثر عیار ومکار اور بےکار تھے

مناصب کے نشہ میں شرشار تھے

مسلمان ذلیل وخوار تھے

قرآن کے نسخے جلاۓگۓ
اسلام کے نقشے مٹاۓ گۓ
مجاہدوں پر مقدمے چلاۓ گۓ

درختوں پر لٹکاۓ گۓ

کالجوں کی تعلیم تھی

مسلمانوں میں نہ تنظیم تھی
نہ اسلامی تعلیم تھی

حق پرستوں کا گروہ برسر پیکار تھا

ہندوستان میدان کا رزار تھا

سب سے بڑا دشمن انگریز تھا

جو بڑا شر انگیز، چالاک اور تیز تھا

پھر بھی مقابلہ مقاتلہ کا معاملہ کیا گیا،

مسلمانوں کی دینی تنزلی دیکھ کر غیور جاگ اٹھے

بالاخر انگریز اس ملک سے بھاگ اٹھے.

دارلعلوم دیوبند نے ہزاروں مفسر،محدیث،
مفتی،
متکلم،
محقق،
مدقق،
مناظر،
معلم،
مبلغ،
مورخ،
مدبر،
مفکر،
سیاسدان،
صحافی،
شاعر،
ماہر تیار کئے
اور ہزاروں فقہاء،
علماء،
فضلاء،
فصحاء،
بلغاء،
ادباء،
اتقیاء،
اذکیاء،
اصفیاء،
اکابر،
شیوخ پیداکۓ.،

ان مدارس کے خیر خواہوں جو موجودہ صورت حال پر دل گرفتہ اور پریشان ہیں
یا
ان کے بدخواہوں جو آج کل خوشی کے شادیانے بجارہے ہیں،سب کو یاد رکھنا چاہے
"کہ"
مدارس دینیہ کوئ پانی کے بلبلے نہیں کہ کسی کے پھونک مارنے سے بیٹھ جائیں
"نہ"
ہی ریت کے ٹیلوں پر بنے محلات ہیں کہ وقت کی تیز ہوائیں انکو روند ڈالیں،
کئ صدیوں کی تاریخ گواہ ہے ملا اور طالب،مدسہ صفحہ دہر پر پتھر کی لکیرہیں جنہیں مٹانا آسان نہیں.
آج سے برسہابرس پہلے
"اقبال مرحوم" نے ابلیس ملعون کا یہ مشورہ اپنے الفاظ میں یوں نقل کیا.

افغان کی غیرت دین کا ہے یہ علاج
ملا کو اس کے کوہ و دمن سے نکال دو.

"علماء دیوبند کو سلام"

جزاک اللہ

No comments:

Post a Comment