غزوہ احد
اس معرکہ مےں کئی اےمان افروزواقعات رونما ہوئے
اسلامی تارےخ مےں غزوہ احد حق و باطل کا دوسرا معرکہ ہونے کے لحاظ سے بڑی اہمےت کا حامل ہے ےہ غزوہ تےن ہجری مےں واقع ہوا ۔اس کی تارےخ کے بارے مےں مختلف رواےات ملتی ہے۔کچھ کے نزدےک ےہ تےن شوال کو ہوا کچھ آٹھ اور بعض گےارہ اور بعض نے پندرہ شوال کو بتاےا ہے ۔اس کے دن پر سب متفق ہےں کہ ےہ ہفتے کے روز ہوا تھا ۔
احد مدےنہ منورہ کے اےک پہاڑ کا نام ہے جس کے بارے مےں آقائے کائنات نبی کرےم کا ارشاد ہے کہ احد کا پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے ہم احد کے پہاڑ سے محبت کرتے ہےں ۔غزوہ احد اسی پہاڑی کے دامن مےں واقعہ ہے ۔مسلمانوں کے اس قافلے کی تعداد ۰۰۷ تھی جس مےں سو صحابہ کرامؓ ذرہ پوش تھے اور ادھر قرےش کا لشکر تےن ہزار کی کثےر تعداد پر مشتمل تھا جس مےں سات سو افراد ذرہ پوش تھے ۔اس معرکہ مےں حق و صداقت مےں جام شہادت نوش کرنے والے خوش نصےب صحابہ کرام کی تعداد ستر تھی جب کہ کفر کے تےس افراد واصل جہنم ہوئے ۔حق و باطل کے اس دوسرے بڑے معرکے مےں عرب کے رواج کے مطابق پہلے مبارزت ہوئی جس مےں اہل اسلام کا پلا بھاری رہا بعد ازاں عام جنگ شروع ہوئی تو حضرت حمزہؓ،حضرت علیؓ،حضرت ابو دجانہؓ،اور حضرت حنظلہؓ کے تابڑ توڑ حملوں سے کفار کا لشکر بھاگ گےا ۔جنگ شروع ہونے سے قبل اللہ کے رسول کرےم نے حضرت سعےد بن جبےرؓ کی قےادت مےں پچاس تےر اندازوں کا اےک دستہ پہاڑی درے پر متعےن کر دےا اور انہےں ےہ حکم دےا کہ وہ کسی صورت مےں بھی درہ نہ چھوڑےں جب کفار کو انہوں نے بھاگتے ہوئے دےکھا تو مال غنےمت حاصل کرنے کے لئے ےہ بھی دوڑ پڑے۔حضرت سعےد ؓ اُن کو روکتے رہ گئے اور کفار قرےش کے لشکر نے جب ےہ درہ خالی دےکھا تو حضرت خالد بن ولےدؓ کی قےادت مےں ےہاں سے مسلمانوں پر حملہ کر دےا اور پےچھے سے ہونے والے اس ناگہانی حملے مےں بہت سے مسلمان شہےد ہو گئے جن مےں سرکار عالم کے پےارے چچا سےدنا امےر حمزہؓ بھی شامل تھے ۔ےہ وقت مسلمانوں پر بہت کڑا تھا اےسا لگا کہ کفار کو فتح مل گئی ہے۔اس صورتحال مےں سرکار دو عالم کو کچھ جانثاروں نے گھےرے مےں لے لےا اور مسلمانوں کو اکٹھا کرنا شروع کر دےا ۔اتنی دےر مےں ستر صحابہ کرامؓ شہادت کا جام پی چکے تھے ۔جب مسلمانوں کو اکٹھا ہوتے ہوئے دےکھا تو ابو سفےان نے آواز لگائی آج بدر کا حساب برابر ہو گےا ہے اب اگلے سال پھر بدر کے مقام پر لڑائی ہو گی اور ےہ کفار مکہ واپس اپنے گھروں کو چلے گئے۔اس معرکے مےں بہت سے اےمان افروز واقعات پےش آئے۔حضرت حنظلہؓ اس معرکے مےں باطل پرستوں سے اپنے جذبے سے مقابلہ کرتے ہوئے قرےش کے لشکر مےں جا پہنچے اور ان کے سردار ابو سفےان کا کام تمام کرنے ہی والے تھے کہ پےچھے سے ان پر شداد نامی بدبخت نے حملہ کر دےا اور آپ شہادتِ عظمیٰ سے سرفراز ہوئے ۔جب مےدان جنگ تھم گےا تو نبی کرےم نے آپؓ کے بارے مےں ارشاد فرماےا کہ حنظلہ کو فرشتے غسل دے رہے ہےں کےونکہ جب جنگ کے لئے مےرا حکم سناےاگےا کہ جو جس حالت مےں بھی ہے فوراً اللہ کے رسول کا حکم ہے بارگاہِ رسالت مآب مےں پہنچے تو حضرت حنظلہؓ اپنی بےوی سے حق زوجےت ادا کر رہے تھے جےسے ہی اپنے آقا کرےم کا حکم سنا بغےر غسل کئے بارگاہِ رسول مےں حاضر ہو گئے اور وہاں سے جنگ لڑتے لڑتے جامِ شہادت نوش فرماےا ۔اس وجہ سے آپؓ کو غسےل ملائکہ کا لقب عطا ہوا۔
غزوہ احد مےں اسلام کا پرچم سےدنا حضرت مصعب بن عمےرؓ کے ہاتھ مےں تھا ۔اےک بدبخت آپؓ پر حملہ آور ہوا اور آپ کے دائےں ہاتھ پر اس طرح وار کےا کہ آپ کا داےاں ہاتھ شہےد ہو گےا تو آپ نے پرچم اسلام دوسرے ہاتھ مےں پکڑ لےا پھر اس بدبخت نے دوبارہ ضرب لگائی تو آپؓ نے پرچم اسلام کو اپنے سےنے سے تھامے رکھا اور بلند آواز مےں ےہ آےتِ مبارکہ پڑھی کہ وما محمد الارسول قدخلت من قبلہ الرسول۔پھر آپؓ پر تےر سے وار کےا گےا تو آپؓ نے بھی شہادت کا اعلیٰ جام نوش فرمالےا۔جب منافقوں نے حضور پاک کے شہےدہونے کی جھوٹی افواہ پھےلا دی تو اےک انصاری صحابےہؓ مدےنہ پاک سے احد کی طرف نکل پڑےں۔جب راستے مےں ان کے والد کے شہےد ہونے کی ان کو خبر ملی تو اس عاشق رسول صحابےہ نے کہا کہ پہلے مےں نے اپنے رسول کا حال جاننا ہے پھر ان صحابےہؓ کو ان کے شوہر اور بھائی کی شہادت کی خبر ملی تو انہوں نے ےہی کہا مجھے رسول کرےم کی خبر لےنی ہے ۔جب اُن کو بتاےا گےا کہ رسولِ خدا خےر و عافےت سے ہے تو انہوں نے عرض کےا مجھے حبےب کا دےدار کرنے دو،جب حضور پاک کا دےدار نصےب ہوا تو فرماےا اے مےرے پےارے رسول آپ سلامت رہے تو ہر مصےبت آسان ہے ۔اسی غزوہ مبارک مےں حضرت قطادہ بن نعمانؓ کی آنکھ مبارک مےں تےر لگا اور آپ کی آنکھ کا ڈھےلا باہر آگےا ۔حضرت قتادہؓ اپنی آنکھ ہاتھ مےں اٹھائے بارگاہِ کونےن مےں حاضر ہوئے اور احوال بےان کےا تو رسول کرےم نے فرماےا اے قتادہؓ اگر تم چاہو تو صبر کر لو جنت تمہارے لئے ہے اگر تم چاہو تو مےں تمہاری آنکھ لوٹا دو ۔حضرت قتادہؓ نے عرض کےا ےارسول اللہ ےقےناً جنت بڑی جزا اور عظےم عطائے الٰہی ہے ےا رسول اللہ اےسا بھی تو ہو سکتا ہے آپ جنت بھی عطا فرما دے اور آنکھ بھی لوٹا دے ۔آپ نے اپنے دستِ رحمت سے ان کی آنکھ کو پہلے والی جگہ پر لگا دےا اور اس آنکھ کی روشنی دوسری آنکھ سے زےادہ ہو گئی ۔پھر انہوں نے ان کے لئے جنت کی دعا بھی فرمائی معلوم ہوا کہ صحابہ کرامؓ کا ےہ عقےدہ تھا کہ نبی کرےم اگر چاہےں تو دنےا مےں جنت عطا فرما دےں اور جس کو چاہے نکلی ہوئی آنکھ ٹھےک کر دےں۔حضرت قتادہؓ کی کبر سنی مےں بھی اس لگائی ہوئی آنکھ مےں دوسری اصل آنکھ کی نسبت قوت و بصارت اور حسن و جمال زےادہ تھا۔اس معرکہ احد مےں جب حضرت عبد اللہ بن حجش ؓ کی تلوار ٹوٹ گئی تو آپؓ نے عرض کےا ےا رسول اللہ مےری تلوار ٹوٹ گئی تو اللہ کے محبوب کرےم نے کھجور کی چھڑی عطا فرمائی جب انہوں نے ےہ کھجور کی چھڑی اپنے ہاتھ مےں لی تو فوراً ہی تلوار بن گئی ۔اللہ شہدائے احد کے صدقے امتِ مسلمہ کو اتفاق و اتحاد عطا فرمائےے اور ہماری اجتماعی و انفرادی مشکلات کو آسان فرمائے اُن کے درجات کو مزےد بلند فرمائے۔آمےن
اسلامی تارےخ مےں غزوہ احد حق و باطل کا دوسرا معرکہ ہونے کے لحاظ سے بڑی اہمےت کا حامل ہے ےہ غزوہ تےن ہجری مےں واقع ہوا ۔اس کی تارےخ کے بارے مےں مختلف رواےات ملتی ہے۔کچھ کے نزدےک ےہ تےن شوال کو ہوا کچھ آٹھ اور بعض گےارہ اور بعض نے پندرہ شوال کو بتاےا ہے ۔اس کے دن پر سب متفق ہےں کہ ےہ ہفتے کے روز ہوا تھا ۔
احد مدےنہ منورہ کے اےک پہاڑ کا نام ہے جس کے بارے مےں آقائے کائنات نبی کرےم کا ارشاد ہے کہ احد کا پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے ہم احد کے پہاڑ سے محبت کرتے ہےں ۔غزوہ احد اسی پہاڑی کے دامن مےں واقعہ ہے ۔مسلمانوں کے اس قافلے کی تعداد ۰۰۷ تھی جس مےں سو صحابہ کرامؓ ذرہ پوش تھے اور ادھر قرےش کا لشکر تےن ہزار کی کثےر تعداد پر مشتمل تھا جس مےں سات سو افراد ذرہ پوش تھے ۔اس معرکہ مےں حق و صداقت مےں جام شہادت نوش کرنے والے خوش نصےب صحابہ کرام کی تعداد ستر تھی جب کہ کفر کے تےس افراد واصل جہنم ہوئے ۔حق و باطل کے اس دوسرے بڑے معرکے مےں عرب کے رواج کے مطابق پہلے مبارزت ہوئی جس مےں اہل اسلام کا پلا بھاری رہا بعد ازاں عام جنگ شروع ہوئی تو حضرت حمزہؓ،حضرت علیؓ،حضرت ابو دجانہؓ،اور حضرت حنظلہؓ کے تابڑ توڑ حملوں سے کفار کا لشکر بھاگ گےا ۔جنگ شروع ہونے سے قبل اللہ کے رسول کرےم نے حضرت سعےد بن جبےرؓ کی قےادت مےں پچاس تےر اندازوں کا اےک دستہ پہاڑی درے پر متعےن کر دےا اور انہےں ےہ حکم دےا کہ وہ کسی صورت مےں بھی درہ نہ چھوڑےں جب کفار کو انہوں نے بھاگتے ہوئے دےکھا تو مال غنےمت حاصل کرنے کے لئے ےہ بھی دوڑ پڑے۔حضرت سعےد ؓ اُن کو روکتے رہ گئے اور کفار قرےش کے لشکر نے جب ےہ درہ خالی دےکھا تو حضرت خالد بن ولےدؓ کی قےادت مےں ےہاں سے مسلمانوں پر حملہ کر دےا اور پےچھے سے ہونے والے اس ناگہانی حملے مےں بہت سے مسلمان شہےد ہو گئے جن مےں سرکار عالم کے پےارے چچا سےدنا امےر حمزہؓ بھی شامل تھے ۔ےہ وقت مسلمانوں پر بہت کڑا تھا اےسا لگا کہ کفار کو فتح مل گئی ہے۔اس صورتحال مےں سرکار دو عالم کو کچھ جانثاروں نے گھےرے مےں لے لےا اور مسلمانوں کو اکٹھا کرنا شروع کر دےا ۔اتنی دےر مےں ستر صحابہ کرامؓ شہادت کا جام پی چکے تھے ۔جب مسلمانوں کو اکٹھا ہوتے ہوئے دےکھا تو ابو سفےان نے آواز لگائی آج بدر کا حساب برابر ہو گےا ہے اب اگلے سال پھر بدر کے مقام پر لڑائی ہو گی اور ےہ کفار مکہ واپس اپنے گھروں کو چلے گئے۔اس معرکے مےں بہت سے اےمان افروز واقعات پےش آئے۔حضرت حنظلہؓ اس معرکے مےں باطل پرستوں سے اپنے جذبے سے مقابلہ کرتے ہوئے قرےش کے لشکر مےں جا پہنچے اور ان کے سردار ابو سفےان کا کام تمام کرنے ہی والے تھے کہ پےچھے سے ان پر شداد نامی بدبخت نے حملہ کر دےا اور آپ شہادتِ عظمیٰ سے سرفراز ہوئے ۔جب مےدان جنگ تھم گےا تو نبی کرےم نے آپؓ کے بارے مےں ارشاد فرماےا کہ حنظلہ کو فرشتے غسل دے رہے ہےں کےونکہ جب جنگ کے لئے مےرا حکم سناےاگےا کہ جو جس حالت مےں بھی ہے فوراً اللہ کے رسول کا حکم ہے بارگاہِ رسالت مآب مےں پہنچے تو حضرت حنظلہؓ اپنی بےوی سے حق زوجےت ادا کر رہے تھے جےسے ہی اپنے آقا کرےم کا حکم سنا بغےر غسل کئے بارگاہِ رسول مےں حاضر ہو گئے اور وہاں سے جنگ لڑتے لڑتے جامِ شہادت نوش فرماےا ۔اس وجہ سے آپؓ کو غسےل ملائکہ کا لقب عطا ہوا۔
غزوہ احد مےں اسلام کا پرچم سےدنا حضرت مصعب بن عمےرؓ کے ہاتھ مےں تھا ۔اےک بدبخت آپؓ پر حملہ آور ہوا اور آپ کے دائےں ہاتھ پر اس طرح وار کےا کہ آپ کا داےاں ہاتھ شہےد ہو گےا تو آپ نے پرچم اسلام دوسرے ہاتھ مےں پکڑ لےا پھر اس بدبخت نے دوبارہ ضرب لگائی تو آپؓ نے پرچم اسلام کو اپنے سےنے سے تھامے رکھا اور بلند آواز مےں ےہ آےتِ مبارکہ پڑھی کہ وما محمد الارسول قدخلت من قبلہ الرسول۔پھر آپؓ پر تےر سے وار کےا گےا تو آپؓ نے بھی شہادت کا اعلیٰ جام نوش فرمالےا۔جب منافقوں نے حضور پاک کے شہےدہونے کی جھوٹی افواہ پھےلا دی تو اےک انصاری صحابےہؓ مدےنہ پاک سے احد کی طرف نکل پڑےں۔جب راستے مےں ان کے والد کے شہےد ہونے کی ان کو خبر ملی تو اس عاشق رسول صحابےہ نے کہا کہ پہلے مےں نے اپنے رسول کا حال جاننا ہے پھر ان صحابےہؓ کو ان کے شوہر اور بھائی کی شہادت کی خبر ملی تو انہوں نے ےہی کہا مجھے رسول کرےم کی خبر لےنی ہے ۔جب اُن کو بتاےا گےا کہ رسولِ خدا خےر و عافےت سے ہے تو انہوں نے عرض کےا مجھے حبےب کا دےدار کرنے دو،جب حضور پاک کا دےدار نصےب ہوا تو فرماےا اے مےرے پےارے رسول آپ سلامت رہے تو ہر مصےبت آسان ہے ۔اسی غزوہ مبارک مےں حضرت قطادہ بن نعمانؓ کی آنکھ مبارک مےں تےر لگا اور آپ کی آنکھ کا ڈھےلا باہر آگےا ۔حضرت قتادہؓ اپنی آنکھ ہاتھ مےں اٹھائے بارگاہِ کونےن مےں حاضر ہوئے اور احوال بےان کےا تو رسول کرےم نے فرماےا اے قتادہؓ اگر تم چاہو تو صبر کر لو جنت تمہارے لئے ہے اگر تم چاہو تو مےں تمہاری آنکھ لوٹا دو ۔حضرت قتادہؓ نے عرض کےا ےارسول اللہ ےقےناً جنت بڑی جزا اور عظےم عطائے الٰہی ہے ےا رسول اللہ اےسا بھی تو ہو سکتا ہے آپ جنت بھی عطا فرما دے اور آنکھ بھی لوٹا دے ۔آپ نے اپنے دستِ رحمت سے ان کی آنکھ کو پہلے والی جگہ پر لگا دےا اور اس آنکھ کی روشنی دوسری آنکھ سے زےادہ ہو گئی ۔پھر انہوں نے ان کے لئے جنت کی دعا بھی فرمائی معلوم ہوا کہ صحابہ کرامؓ کا ےہ عقےدہ تھا کہ نبی کرےم اگر چاہےں تو دنےا مےں جنت عطا فرما دےں اور جس کو چاہے نکلی ہوئی آنکھ ٹھےک کر دےں۔حضرت قتادہؓ کی کبر سنی مےں بھی اس لگائی ہوئی آنکھ مےں دوسری اصل آنکھ کی نسبت قوت و بصارت اور حسن و جمال زےادہ تھا۔اس معرکہ احد مےں جب حضرت عبد اللہ بن حجش ؓ کی تلوار ٹوٹ گئی تو آپؓ نے عرض کےا ےا رسول اللہ مےری تلوار ٹوٹ گئی تو اللہ کے محبوب کرےم نے کھجور کی چھڑی عطا فرمائی جب انہوں نے ےہ کھجور کی چھڑی اپنے ہاتھ مےں لی تو فوراً ہی تلوار بن گئی ۔اللہ شہدائے احد کے صدقے امتِ مسلمہ کو اتفاق و اتحاد عطا فرمائےے اور ہماری اجتماعی و انفرادی مشکلات کو آسان فرمائے اُن کے درجات کو مزےد بلند فرمائے۔آمےن
No comments:
Post a Comment