Pages

Saturday, 24 May 2014

حضرت امام اعظم ابوحنےفہؒ

حضرت امام اعظم ابوحنےفہؒ
وہ رات بھر مسلسل اللہ کی عبادت مےں مصروف رہتے تھے
آپؒ کا نام نعمان اور کنےت ابو حنےفہ ہے ۔آپؒ کی سن ولادے کے بارے مےں اختلاف ہے ۔70ہجری سے 80ہجری کے درمےان مےں مختلف رواےات پائی جاتی ہے ۔تاہم آپ ؒ کے شاگرد رشےد امام ابو ےوسفؒ کے مطابق امام اعظم ؒ کی تارےخ ولادت 77ہجری ہے ۔آپؒ فارسی النسل تھے ۔آپؒ نے مختلف رواےات کے مطابق کم از کم سات صحابہ کرامؓ کی زےارت کی جن مےں سےدنا انس بن مالک ؓ اور سےدنا عبداللہ بن حارث ؓ بھی شامل ہےں ۔اس لئے امام اعظم ؒ تابعی ہےں۔
ابتدائی دےنی تعلےم حاصل کرنے کے بعد آپؒ تجارت مےں مشغول ہو گئے۔اس کے بعد دوبارہ تحصےل علم کی طرف متوجہ ہوئے اور امام حمادؒ کے درس مےں شامل ہونے لگے ۔امام حمادؒ کے انتقال کے بعد آپؒ ان کی مسند پر بےٹھے اور اپنا حلقہ درس شروع کےا۔
حضرت سفےان ثوریؒ نے فرماےا؛?اللہ کی قسم !ابو حنےفہ بہت عقلمند تھے اور نےکےوں پر اےسا مسلط نہےں کرنا چاہتے تھے جو ان کی نےکےوں کو ضائع کر دےں ?۔حضرت داو ?د طائیؒ نے فرماےا ؛?مےں بےس سال تک امام ابو حنےفہؒ کی خدمت مےں رہا اس دوران مےں نے انہےں خلوت اور جلوت مےں ننگے سر اور پاو ?ں پھےلائے ہوئے نہےں دےکھا ?۔
آپؒ کپڑے کی تجارت کرتے تھے ۔اےک دن اےک عورت رےشمی کپڑے کا تھان آپؒ کو بےچنے کےلئے لائی اور سو درہم قےمت بتائی۔امام ؒ نے فرماےا ؛تم سستا بےچ رہی ہو ۔اُس نے قےمت بڑھائی ےہاں تک کہ چار سو درہم تک پہنچ گئی ۔آپؒ نے فرماےا ابھی بھی کم ہےں اور پانچ سو درہم دے کر وہ کپڑا خرےد لےا ۔امام اعظمؒ نے کبھی کسی کی غفلت ےا لاعلمی سے بطور تاجر فائدہ نہےں اٹھاےا ۔اےک مرتبہ آپؒ نے اپنے کاروباری شرےک کو بےچنے کے لئے کپڑے کے تھان بھےجے جن مےں سے اےک تھان مےں کوئی عےب تھا ۔آپؒ نے اپنے کاروباری شرےک کو فرماےا ؛جب اس تھان کو فروخت کرنا تو گاہک کو اس کا عےب بھی بتانا مگر وہ عےب بتانا بھول گےا اور ےہ بھی بھول گےا کہ بےچا کس کو تھا ؟امام اعظمؒ کو پتہ چلا تو آپؒ نے اُن تمام تھانوں کی قےمت تےس ہزار درہم صدقہ کر دی اور اس شرےک کو علےحدہ کر دےا۔
علامہ ابن حجر لکھتے ہےں:امام ذہبیؒ نے فرماےا ؛حنےفہ کا پوری رات عبادت کرنا اور تہجد پڑھنا تو تواتر سے ثابت ہے۔ےہی وجہ ہے کہ آپؒ کو کثرت قےام کی وجہ سے مےخ کہا جاتا تھا ۔آپؒ تےس رات تک اےک رکعت مےںمکمل قرآن پڑھتے رہے اور چالےس سال تک آپؒ نے عشاءکے وضو سے فجر کی نماز پڑھی ۔
امام ابوحنےفہؒ نے 55حج کےے اور آخری حج مےں خانہ کعبہ کے اندر کھڑے ہو کر دو رکعت مےں پورا قرآن تلاوت کےا ۔حافظ ابن حجر ؒ نے فرماےا ؛امام اعظم ؒ کی رات کو عبادت کو رونے کی آواز پڑوسےوں کے گھروں تک سنی جاتی تھی اور وہ آپ ؒ پر ترس کھاتے ۔
کشف المہجوب مےں سےد علی ہجوےری ؒ المعروف داتا گنج بخش ؒ نے پورا باب امام ابوحنےفہ ؒ کی فضےلت مےں لکھا ۔اےک واقعہ بےان کرتے ہےں کہ ?مےں ملک شام مےں مو ?ذن رسول حضرت بلالؓ کے روضہ کے سرہانے سو رہاتھا کہ خواب مےں دےکھا کہ مےں مکہ مکرمہ مےں ہوں اور حضور اکرم اےک بزرگ کو آغوش مےں بچے کی طرح لئے باب شےبہ مےں داخل ہو رہے ہےں ۔مےں نے فرط محبت مےں دوڑ کر رسول کرےم کے قدم مبارک کو بوسا دےا ۔مےں حےران تھا کہ بزرگ کون ہے تو حضور اکرم نے فرماےا؛ےہ تمہارے امام ہے جو تمہاری ہی ولاےت کے ہے ےعنی ابوحنےفہؒ ۔?
علی ہجوےریؒ کے بقول حضرت ےحےیٰ بن معاذ راضی ؒ فرماتے ہےں ؛مےں نے نبی کرےم کو خواب مےں دےکھا تو عرض کےا ؛?اے اللہ کے رسول !آپ کو قےامت کے دن کہاں تلاش کروں ؟فرماےا ؛ابوحنےفہؒ کے جھنڈے کے پاس ۔مزےد لکھتے ہےں؛حضرت ابراہےم بن ادھمؒ حضرت فضےل بن اےاضؒ ،حضرت داو ?د طائیؒ اور حضرت بشرؒ حامیؒ اور امام اعظمؒکے شاگرد ہے ۔
آپؒ امام محمد باقر اور امام جعفر صادق کا بے حد احترام کرتے تھے ۔آپؒ نے فرماےا ؛?مےں نے اپنے دور مےں امام جعفر صادقؒ سے زےادہ فقےہ کسی کو نہےں دےکھا ۔?آپؒ نے طرےقت کے مراحل امام جعفر صادقؒ سے دو سال مےں طے کےے اور فرماےا؛?اگر ےہ دو سال نہ ہوتے تو نعمان ہلاک ہو جاتا ?۔امام محمد باقر نے فرماےا ؛?ابو حنےفہ ؒ کے پاس ظاہری علوم کے خزانے ہےں اور ہمارے پاس باطنی اور روحانی علم کے?۔
خلےفہ منصور نے دربار مےں بلا کر آپؒ کو چےف جسٹس بنانے کی پےشکش کی جو آپؒ نے مسترد کر دی ۔اس پر منصور نے آپؒ کو قےد کر دےا اور ہر روز جےل مےں دس کوڑے مارے جاتے ۔دس دن تک ےہ سلسلہ جاری رہالےکن امام ابوحنےفہ ؒ عہدہ قبول کرنے سے انکار کرتے رہے ۔اس کے بعد آپ ؒ کے سر مےں کوڑے مارے جانے لگے لےکن آپ کے استقلال مےں فرق نہ آےا تو منصور کے حکم سے آپ کو جےل مےں زہر دے کر اےک سو پچاس ہجری مےں شہےد کر دےاگےا اور مہےنہ رجب ےا شعبان کا تھا۔
آپؒ کا مزار مبارک بغداد مےں ہے ۔مختلف رواےات کے مطابق آپ ؒ کی نماز جنازہ مےں کم از کم پچاس ہزار افراد شرےک تھے اور ہجوم کی کثرت کی وجہ سے چھ مرتبہ نماز جنازہ پڑھائی گئی ۔آخری مرتبہ آپؒ کے بےٹے حضرت حمادؒ نے نماز جنازہ پڑھائی۔بعض رواےات کے مطابق اُن کے انتقال اور تدفےن کے 20دن بعد تک اُن کی قبر پر نماز جنازہ ادا ہوتی رہی ۔جب آپؒ کے وصال کی خبر فقےہ مکہ ابن جرےج کو پہنچی تو انہوں نے فرماےا ؛کوفہ سے علم کا نور بجھ گےا اور ان کی مثل وہ نہ دےکھےں گے ۔

No comments:

Post a Comment