15 فروری 2001ء کو Fox TV Network سے نشر ہونے والے ایک ایسے ہی پروگرام کا نام تھا ?Conspiracy Theory: Did We Land on the Moon۔ یہ نشریات 19 مارچ کو دوبارہ نشر کی گئی۔
Buzz Aldrin اور نیل آرمسٹرانگکی چاند پر اترنے سے پہلے کی تصویر جو ناسا نے جاری کی تھی۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایسی ہی فلمیں بنا کر چاند پر اترنے کا ڈرامہ رچایا گیا ہے۔
وجوہات
امریکہ کے ایٹمی ہتھیار روس کے ایٹمی ہتھیاروں سے زیادہ بہتر اور چھوٹے سائز کے تھے اس لئے انہیں میزائلوں میں استعمال کرنے کے لئے چھوٹے راکٹوں کی ضرورت پڑتی تھی۔ اس کے برعکس روسیوں کو اپنے بھاری ایٹمی ہتھیاروں کے لئے بہت بڑے راکٹوں کی ضرورت تھی اور اس وجہ سے روسی راکٹ سازی میں امریکہ سے کہیں آگے نکل گئے۔ امریکہ کو شدید خطرہ تھا کہ نہ صرف اس کے علاقے روسی ایٹمی ہتھیاروں کی زد میں ہیں بلکہ سرد جنگ کی وجہ سے شروع ہونے والی خلائی دوڑ میں بھی انہیں مات ہونے والی ہے۔ جنگ ویتنام میں ناکامی کی وجہ سے امریکیوں کا مورال بہت نچلی سطح تک آ چکا تھا۔روسی خلائی برتری
پہلا مصنوعی سیارہ خلا میں بھیجنے کے معاملے میں روس کو سبقت حاصل ہو چکی تھی جب اس نے 4 اکتوبر 1957ء کو Sputnik 1 کو کامیابی کے ساتھ زمین کے مدار میں بھیجا۔ روس 1959ء میں بغیر انسان والے خلائی جہاز چاند تک پہنچا چکا تھا۔ 12 اپریل 1961ء کو روسی خلا نورد یوری گاگرین نے 108 منٹ خلا میں زمیں کے گرد چکر کاٹ کر خلا میں جانے والے پہلے انسان کا اعزاز حاصل کیا۔ 23 دن بعد امریکی خلا نورد Alan Shepard خلا میں گیا مگر وہ مدار تک نہیں پہنچ سکا۔ ان حالات میں قوم کا مورال بڑھانے کے لئے صدر کینڈی نے 25 مئی 1961ء میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ ہم اس دہائی میں چاند پر اتر کر بخیریت واپس بھی آجائیں گے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ دہائی کے اختتام پر بھی اسے پورا کرنا امریکہ کے لئے ممکن نہ تھا اس لئے عزت بچانے اور برتری جتانے کے لئے جھوٹ کا سہارا لینا پڑا۔ امریکہ کے ایک راکٹ ساز ادارے میں کام کرنے والے شخص Bill Kaysing کے مطابق اس وقت انسان بردار خلائی جہاز کے چاند سے بہ سلامت واپسی کے امکانات صرف 0.017% تھے۔ اس نے اپولو مشن کے اختتام کے صرف دو سال بعد یعنی 1974ء میں ایک کتاب شائع کی جسکا نام تھا We Never Went to the Moon: America's Thirty Billion Dollar Swindle3 اپریل 1966ء کو روسی خلائی جہاز Luna 10 نے چاند کے مدار میں مصنوعی سیارہ چھوڑ کر امریکیوں پر مزید برتری ثابت کر دی۔
ڈرامہ
21 دسمبر 1968ء میں NASA نے Apollo 8 کے ذریعے تین خلا نورد چاند کے مدار میں بھیجے جو چاند کی سطح پر نہیں اترے۔ غالباً یہ NASA کا پہلا جھوٹ تھا اور جب کسی نے اس پر شک نہیں کیا تو امریکہ نے پوری دنیا کو بے وقوف بناتے ہوئے انسان کے چاند پر اترنے کا یہ ڈرامہ رچایا اور لندن کے ایک اسٹوڈیو میں جعلی فلمیں بنا کر دنیا کو دکھا دیں۔ آپولو 11 جو 16جولائی 1969ء کو روانہ ہوا تھا درحقیقت آٹھ دن زمین کے مدار میں گردش کر کے واپس آ گیا۔1994ء میں Andrew Chaikin کی چھپنے والی ایک کتاب A Man on the Moon میں بتایا گیا ہے کہ ایسا ایک ڈرامہ رچانے کی بازگشت دسمبر 1968ء میں سنی گئی تھی۔
اعتراضات
زمین کے بہت نزدیک خلائی مداروں میں جانے کے لئے انسان سے پہلے جانوروں کو بھیجا گیا تھا اور پوری تسلی ہونے کے بعد انسان مدار میں گئے لیکن حیرت کی بات ہے کہ چاند جیسی دور دراز جگہ تک پہنچنے کے لئے پہلے جانوروں کو نہیں بھیجا گیا اور انسانوں نے براہ راست یہ خطرہ مول لے لیا۔کچھ لوگ یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ اگر انسان چاند پر پہنچ چکا تھا تو اب تک تو وہاں مستقل قیام گاہ بن چکی ہوتی مگر معاملہ برعکس ہے اور چاند پر جانے کا سلسلہ عرصہ دراز سے کسی معقول وجہ کے بغیر بند پڑا ہے۔ اگر 1969ء میں انسان چاند پر اتر سکتا ہے تو اب ٹیکنولوجی کی اتنی ترقی کے بعد اسے مریخ پر ہونا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں ہے۔ ناسا کے مطابق دسمبر 1972ء میں اپولو 17 چاند پر جانے والا آخری انسان بردار خلائی جہاز تھا۔
No comments:
Post a Comment